صوبائی دارالحکومت مردہ خانوں میں لا وارث لاشوں کی خریدو فروخت کا نکشاف

صوبائی دارالحکومت مردہ خانوں میں لا وارث لاشوں کی خریدو فروخت کا نکشاف

 لاہور(خبر نگا ر )صوبائی دارالحکومت کے مردہ خانوں میں لاوارث لاشوں کے حوالے سے انتہائی تشویش پائی جاتی ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ہسپتال کی انتظامیہ مبینہ طور پر بعض میڈیکل کالجوں کی انتظامیہ سے ساز باز کرکے انہیں فروخت کر دیتی ہے۔ اس مکروہ دھندے کے حوالے سے مردہ خانہ کی انتظامیہ میں سے کسی بھی اہلکار نے فرو خت کی ذمہ داری لینا قبول نہیں کی۔ان لاشو ں کو مبینہ طو ر پر لاکھو ں میں فرو خت کیا جا تا ہے اور اس مکرو د ھندے میں مردہ خانے کے چو کیدا ر سے لے کر مردہ خا نہ ٹیم کے انچا ر ج تک ملو ث ہیں۔ ایک ماہ کے دوران 40 سے زائد لاوارث لاشیں وصول کی جاتی ہیں، لاشیں جمع کروانے والے پولیس اہلکاران کی وصولی کے بعدوہا ں سے غا ئب ہو جا تے ہیں ،مردہ خانہ کی انتظامیہ بعض لاشوں کو امدادی اداروں کی مدد سے میانی صاحب قبر ستا ن میں احاطہ لاوارث میں دفن کر دیتے ہیں جبکہ بعض لاشوں کے بارے میں چشم کشا انکشافات ہوئے ہیں۔ روز نامہ پاکستان کی تحقیق کے مطابق کوئی بھی نعش جو ڈ یڈ ہاؤس لا ئی جا تی ہے مردہ خا نہ کا عملہ تفتیشی کو تین ما ہ کی مہلت د یتا ہے کہ مذ کو ر ہ افسرالاش کو تد فین کے لئے وہا ں سے اٹھا ئے جب وہ لا ش نہیں اٹھاتے اور لا ش گل سڑ جا نے کی وجہ سے بد بو د یتی ہے جو ہسپتا ل انتظا میہ کے لئے کا فی پر یشانی کا با عث بنتی ہے ۔ وہ لا ش لا نے والے تھا نیدا ر کو مختلف طر یقوں سے اطلا ع بھجوا تے ہیں۔ با ر با ر وائر لیس پر بھی پیغا م نشر کیا جا تا ہے جب وہ لاش نہیں اٹھا تے تو ہسپتا ل کی انتظا مہ تھک ہا ر کر اس کو ٹھکانے لگا نے پر مجبو ر ہو جا تی ہے کیونکہ تد فین کے لئے خر چہ کر نا پڑ تا ہے مر نے والے کو غسل بھی د ینا ہو تا ہے کفن کا بھی بند وبست ضروری ہے اور لا ش میا نی حا حب تک لا نا تما م اخرا جا ت والے کا م ہیں ان سب سے بچنے کے لئے مردہ خا نہ کی انتظا میہ نے ان تما م با تو ں کا حل تلاش کر لیا ہے کہ جس لا ش کو مذ کو ر ہ تھا نیدا ر نہ لینے آ ئے وہ ایک وقت پر اسے کسی نہ کسی ٹھکانے لگا نے پر مجبو ر ہیں۔ ایسے حالا ت میں مردہ خا نہ کی انتظا میہ سے را بطے کر نے والے جن کے متعلق ذرا ئع کا کہنا ہے کہ یہ مقامی میڈ یکل کا لج ہو تے ہیں اور انہیں طلبہ کو آ پر یشن کے عملی کا م سیکھا نے کے لئے مرہ جسموں کی ضرورت بھی ہو تی ہے تو ان لا شو ں کو ان کے سپرد کر د یتے ہیں اور یہ لا شیں جہا ں اپنی جگہ بے حرمتی کا شکا ر ہو تی ہیں وہا ں انتظا میہ کی بے حسی کی وجہ سے فروخت کے لئے سودے بازی بھی کی جا تی ہے ۔ روز نا مہ پا کستا ن کے نما ئند ہ نے جب اس با رے میں مردہ خا نہ کی انتطا میہ سے را بطہ کیا ۔ توکسی بھی شخص نے ذمہ داری قبول نہیں کی اور بتایا کہ ایسا کو ئی کا م مردہ خا نہ میں نہیں ہو تا لیکن ذرا ئع نے د عوی کیا ہے کہ را ت کی تا ر یکی میں انتظا میہ اور پو لیس کی ملی بھگت سے لاشیں فرو خت کی جا تی ہیں ۔ معلوم ہواہے کہ قیمت لاکھو ں ر و پے تک ہوتی ہے ۔لاش کی کنڈ یشن کے لحاظ سے ر قم طے پا تی ہے جس کے بعد اسے فرو خت کردیا جاتا ہے اور مذکورہ حاصل ہونے والی ر قم بعدازاں ڈ یڈ ہاؤ س عملے سمیت مختلف تھانوں کے پو لیس اہلکا ر اور نجی میڈ ئیکل کا لج کے کلر ک جو اس مک مکا میں پیش پیش ہوتے ہیں میں بانٹ لی جاتی ہے۔ ذرا ئع کے مطابق چند ما ہ قبل نو لکھا کے علاقہ میں تعینا ت سب انسپکٹر لطیف نے ایک70سا لہ بزر گ کی لاش ڈیڈ ہاؤس جمع کروائی جسے بعد میں عملے کی ملی بھگت سے مبینہ طو پرنجی کا لج کو فرخت کیا ۔مذکورہ لاش کی بعد میں محمود بٹ کے نام سے شنا خت ہو ئی تاہم اسی وجہ سے لاش ور ثا ء کو نہیں مل سکی ۔

مزید : علاقائی