جیل روڈ سنگنل فری منصوبہ شہریوں کے خد شات درست ثابت ہونے لگے

جیل روڈ سنگنل فری منصوبہ شہریوں کے خد شات درست ثابت ہونے لگے

لاہور(رپورٹ۔محمد یو نس با ٹھ) ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے چہلم امام حسینؓ اور عرص داتا صاحب کے اگلے روزصوبائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں ٹریفک جام رہی۔شہری کئی کئی گھنٹوں تک ٹریفک کے ازدھام میں پھنسے رہے جبکہ ٹریفک وارڈنز خاموش تماشائی بنے تماشہ دیکھتے رہے ۔جیل روڈ سگنل فری منصوبہ شہریوں کے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن گیا ۔ غوث اعظم چوک میں بس پھنس جانے کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ،کینال روڈ سے لیکر پی آئی سی تک ٹریفک جام ہو گئی ،اسی طرح مال روڈ ،ایم اے او کالج اور ریلوے اسٹیشن کے علاقوں میں ٹریفک کا نظام بری طرح درہم برہم رہا،شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق جیل روڈ پر پچھلے ایک ماہ سے سگنل فری منصوبے پر کام جاری ہے ۔سگنل فری سسٹم تو شروع کر دیا گیا مگر ٹریفک انتظامیہ کاخیال تھا کہ سگنل فری کے بعد کینال روڈ ،جیل روڈ ،فیروز پور روڈ اور دیگر علاقوں میں ٹریفک کا بوجھ کم ہو جائے گا مگر ایسا ممکن نہیں ہو سکا ۔شہر میں ٹریفک کا جام ہونا معمول بن گیا ہے، منٹوں کا سفر طے کرنے کے لیے شہریوں کا کئی کئی گھنٹے لمبی قطاروں میں لگ کر سفر کرنا پڑتا ہے ۔ایمرجنسی کی صورت میں بھی عام گاڑیاں تو درکنار ایمبولینس بھی ہسپتال نہیں پہنچ پاتی اور ضلعی انتظامیہ اس بارے میں کوئی نوٹس نہیں لے رہی ۔شہر میں جاری سگنل فری منصوبے اور دیگر ترقیاتی کاموں کی وجہ سے شہریوں کا روزانہ ٹریفک مسائل کا سامنا ہے حکومت کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ ٹریفک کا نظام کس طرح رواں دواں رہ سکتا ہے افسوس ناک امر یہ ہے کہ شہر کی تمام اہم سڑکیں اکھاڑ کر ان پر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ ٹریفک مسائل سے تنگ آ کر لوگوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو کوسنا شروع کر دیا ہے اگرٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر آکر احتجاج شروع کر دیں گے۔روزنامہ پاکستان نے اس بارے میں سروے کیا تو شہری پھٹ پڑے اور انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے شہریوں کا ریلیف دینے کی بجائے تنگ کرناشروع کردیا ہے اور شہر میں ایسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں مبینہ طور پر کرپشن پائی جاتی ہے اگر حکومت شہریوں کے مسائل پر توجہ دے تو شہر میں ٹریفک جام نہیں ہو سکتی ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب جیل روڈ پر سگنل فری منصوبہ شروع ہونے لگا تھاتو لوگ احتجاجاً عدالت میں چلے گئے اور اس منصوبے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔اب سگنل فری منصوبہ مکمل تو ہو گیا ہے جیل روڈ پر سروس ہسپتال اور پی آئی سی سمیت دیگر اہم جگہوں پر جانے والے بہت پریشان ہیں اور ان کی گاڑیاں روزانہ ٹریفک میں پھنس کر رہ جاتی ہیں۔

مزید : علاقائی