وہ علاقہ جہاں امریکی فوجیوں نے درجنوں مسلمان کسان خاندانوں سمیت قتل کر دیئے اور پھر اُنہیں دہشتگرد ثابت کرنے کے لئے لاشوں کے ساتھ ہتھیار رکھ دیئے، روح کو تڑپا دینے والا انکشاف منظرِ عام پر

وہ علاقہ جہاں امریکی فوجیوں نے درجنوں مسلمان کسان خاندانوں سمیت قتل کر دیئے ...
وہ علاقہ جہاں امریکی فوجیوں نے درجنوں مسلمان کسان خاندانوں سمیت قتل کر دیئے اور پھر اُنہیں دہشتگرد ثابت کرنے کے لئے لاشوں کے ساتھ ہتھیار رکھ دیئے، روح کو تڑپا دینے والا انکشاف منظرِ عام پر

  

موغادیشو(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگوں میں کئی مسلمان ملک اجاڑ کر رکھ دیئے جن میں صومالیہ بھی شامل ہے۔ اب صومالیہ میں امریکی فوج کی کارستانیوں پر کی جانے والی تحقیقات میں ایسا ہولناک انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے کہ انسان کی روح تڑپ کر رہ جائے۔ویب سائٹ democracynow.org کی رپورٹ کے مطابق تفتیش میں بتایا گیا ہے کہ ”امریکی فوج نے صومالیہ میں مسلمان کسانوں کا ان کے خاندانوں سمیت قتل عام کیا۔ امریکی فوجی نہتے کسانوں اور ان کے خاندان کے افراد کو گولیاں مار کر قتل کرتے اور پھر ان کی لاشوں کے پاس اسلحہ رکھ کر ڈرامہ رچا دیتے کہ یہ دہشت گرد تھے اور شدت پسند تنظیم الشباب سے منسلک تھے۔“

دو روز قبل منظرعام پر آنے والی تحقیقاتی رپورٹ میں عینی شاہدین کے بیانات بھی شامل ہیں جنہوں نے بتایا کہ ”جب سے الشباب کے خلاف آپریشنز شروع ہوئے ہیں امریکی فوج کا زیادہ تر نشانہ مسلمان کسان اور ان کے خاندان بن رہے ہیں۔موغادیشو میں مقیم صحافی کرسٹینا گولڈبوم نے بھی اپنے گزشتہ دنوں شائع ہونے والے آرٹیکل میں امریکی فوج کی طرف سے کسانوں کے قتل عام کے ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی طرف سے ان رپورٹس کی تردید کی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز اس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ”صومالیہ میں جاری آپریشنز میں جتنے بھی لوگوں کی ہلاکت ہوئی وہ مسلح شدت پسند تھے، کسی ایک بھی عام شہری کو ان آپریشنز میں نشانہ نہیں بنایا گیا۔“

مزید : بین الاقوامی