حکومت آئینی مدت پوری کرے

حکومت آئینی مدت پوری کرے
 حکومت آئینی مدت پوری کرے

  

آئندہ عام انتخابات، اگست 2018ء کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران کسی وقت منعقد کرائے جا سکتے ہیں۔ اس بارے میں سرکاری اعلان تو الیکشن کمیشن ہی جاری کرنے کا مجاز ہے لیکن اگر بڑی سیاسی جماعتیں کوئی موسمی یا دیگر اچانک ہونے والے کسی خاص وقوعہ کی بنا پر تاریخ کی تبدیلی ضروری خیال کریں، تو وہ اس کی نشاندہی کر کے، چند روز کے التوا کے لئے اپنے معقول دلائل پیش کر سکتی ہیں۔

سیاسی سرگرمیوں کو آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہی اختیار کرنا بہتر ہے۔ اگر ایسی کوئی پالیسی نہ ہو تو محض مخالفت برائے مخالفت کی منفی روش اپنانے سے حتی المقدور گریز کیا جائے۔

سیاسی سرگرمیوں کا سب سے اہم مقصد، ملکی مفاد کا تحفظ اور اس میں ممکنہ طور پر اضافہ کرنا، ہر محبت وطن سیاسی رہنما، انتخابی امیدوار اور کارکن کا بنیادی نصب العین ہونا چاہئے۔

اگر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر، آئین اور جمہوری اقدار کو پامال کرنے کا طریقہ اختیار کرنے کو ترجیح دی جائے، تو ایسی حکمت عملی، سراسر مفاد پرستی اور عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے دھوکہ دینے کے مترادف قرار دی جا سکتی ہے۔

اسلام آباد میں حالیہ دھرنے کو طویل کرنے سے، ملکی مفاد کو، خاصا نقصان ہوا۔ حکمران جماعت چونکہ عام انتخابات میں، اپنے اتحادیوں کی حمایت سے، دیگر حریف امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کر کے اقتدار کے ایوانوں میں رسائی حاصل کرتی ہے، اس لئے مقتدر سیاسی راہنماؤں کو، ملک کے مختلف امور میں، پالیسیاں تشکیل دینے اور ان پر ملکی مفاد کے حصول کی خاطر، مناسب اوقات پر عمل درآمد کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔

اس معاملے میں، اپوزیشن راہنماؤں کو بخوبی علم ہوگا لیکن وہ بدقسمتی سے پھر بھی اکثر منصوبوں میں مخالفت کرنے کی خاصی تگ و دو کرتے ہیں۔ یہ طرز عمل، مہذب معاشروں کے اصولوں اور روایات کے منافی ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔

حکمران اتحاد کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھی، اگر بعض سیاسی راہنما، ایسی حکمت عملی اپنانے اور جاری رکھنے میں، فخر محسوس کرتے ہیں، تو انہیں اس انداز پر از سر نو غور اور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس طرح اکثریتی اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں دیگر حریف امیدواروں پر کامیابی ہی تو ناکام حضرات پر، انہیں برتری فراہم کرتی ہے، جس پر بعض مخالف جماعتوں کے راہنما بلا شبہ، کچھ اعتراضات کرنے کی سعی کرتے ہیں، لیکن ان کی اہمیت اور نوعیت، کامیاب اتحادی جماعتوں کے مقابلے میں نسبتاً کم تر ہی ہوتی ہے، اور اس حقیقت کو انصاف پسند ادارے اور غیر جانبدار لوگ، بلا کسی حیل و حجت تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

اسلام آباد میں دھرنے پر جو لوگ بیٹھے تھے وہ بھی ملکی مفاد، قوانین اور آئین و انصاف کے مسلمہ اصولوں کے ادب و احترام پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ وہ اگر یہ کہیں کہ مروجہ آئین و قانون پر، ان کے دلائل کو ترجیح دی جائے، تو ایسا انداز کوئی منصف مزاج ادارہ اور حاکم مان کر اتفاق کرنے پر تیار نہیں ہو سکتا۔

دھرنا دینے والے حضرات کے رہنما جانتے ہیں کہ انسان خطا کا پتلا ہے، جو اکثر اوقات اپنے مفاد کو ترجیح دے کر، قومی یا اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرنے کی روش پر چل نکلتا ہے۔

اسلامی تعلیمات پر بلاشبہ ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ہی عمل کرنا ضروری ہے، اور اس سے کسی طور کوئی کوتاہی لغزش، عدم توجہی اور لاپروائی نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی کسی راسخ العقیدہ مسلمان کو ایسی غلط کاری کا کوئی اقدام یا طریقہ اختیار کرنا چاہے۔

اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور انکساری سے گزارش کی جائے کہ وہ ہر مسلمان کو اسلام کے صحیح اور سیدھے راستے یعنی صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت، اطاعت اور توفیق عطا فرمائے۔

ملک کے ہر شہری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملکی تعمیر و ترقی کی خاطر اپنے ذاتی اور فروعی اختلافات کو فراموش کرنے کی حتی المقدور کوشش کرے، تاکہ یہاں کے رہنے والے 21 کروڑ افراد کی پسماندگی، غربت، جہالت، بیماری اور تنگدستی کے حالات میں، بہتری اور خوشحالی کے اثرات اور نتائج وقوع پذیر ہوسکیں۔

یہاں 95 فیصد سے زائد لوگ ماشا اللہ دین حق، یعنی اسلام کے پیرو کار ہیں۔ ان میں بعض اختلافات کی بنا پر مختلف مسالک ہیں اور ہر فرقے کے پیرو کار لوگ، باقی لوگوں کو راہ راست سے کج روی کے حامی قرار دیتے ہیں اور اس بارے میں کچھ دلائل بھی دینے کو اکثر اوقات تیار رہتے ہیں، جبکہ دیگر مخاطب حضرات، ان کو نا مناسب یا غلط گردان کر اپنے مسلک کے موقف پر قائم رہنے کو ہی درست اور صحیح اسلامی اقدام ٹھہرانے کے دعوے کرتے ہیں۔اس طرح، ان کے مابین، صدیوں سے بعض مسلکی اختلافات چلے آ رہے ہیں۔

جو تاحال موجود اور قائم ہیں، اور ان کے حامی سختی سے ان کی اطاعت اور عمل داری کے دعویدار ہیں، حالانکہ قرآن حکیم ہمیں ایسی فرقہ پرستی سے منع رہنے کا درس دیتا ہے۔

اسلام آباد کے دھرنے پر حکومت کی خاموشی پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس پر واضح حکم جاری کیا کہ چار یا پانچ ہزار افراد نے، وہاں کئی لاکھ لوگوں کے لئے سڑکیں بند کر کے، مشکلات اور تکالیف پیدا کر رکھی ہیں، لہٰذا اس پر قانون کے مطابق کارروائی کر کے عوام کو اس عذاب سے نجات دلائی جائے۔ اس فیصلے پر خوش اسلوبی سے عمل درآمد کیا جا سکتا تھا۔

فاضل سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی، اس بارے میں چند روز قبل، از خود نوٹس لے کر اس امر کی سماعت کی اور حکومت و قانون کے مطابق دھرنے والے لوگوں کو جگہ سے ہٹانے کا حکم جاری کرنے کے ساتھ آئندہ سماعت ملتوی کر دی۔

اس معاملے پر حکومت پاکستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے قومی اخبارات میں چند روز قبل نصف صفحہ پر مشتمل بڑے بڑے اشتہارات بھی شائع کرائے گئے جن میں واضح طور پر بتایا گیا کہ جو غلطی کسی نے کی تھی، اس کو درست کر دیا گیا ہے اور اب اس قانون میں کوئی سقم یا خرابی باقی نہیں رہی۔

مزید : کالم