محمد شہیر نیازی : وطن عزیز کا چمکتا دمکتا ستارہ

محمد شہیر نیازی : وطن عزیز کا چمکتا دمکتا ستارہ
 محمد شہیر نیازی : وطن عزیز کا چمکتا دمکتا ستارہ

  

لاہور کے رہائشی محمد شہیر نیازی کی عمر محض 17 برس ہے، مگر اپنے سائنسی تحقیقاتی مضمون سے انہوں نے دور حاضر کے عالم طبیعات کو نہ صرف حیران کیا، بلکہ تحقیق کے لئے ایک نیا زاویہ بھی فراہم کیا ہے۔محمد شہیراور ان کے مقالے کی دنیا میں اس لئے پذیرائی ہو رہی ہے کہ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ اگر تیل پر بجلی گرے تو اس میں شہد کی مکھیوں کے چھتے جیسی اشکال بن جاتی ہیں۔

اس سے پہلے کی تحقیق یہاں ہی تمام ہو جاتی تھی، مگر محمد شہیر نے تیل پر بجلی گرنے کے بعد درجہ حرارت کو بھی ریکارڈ کیا۔ کم عمری میں یہ تحقیقی مقالہ دنیا کو حیرت زدہ کر رہا ہے۔ اس کم سن سائنسدان کی والدہ خاص طور پر مبارک باد کی مستحق ہیں، جنہوں نے قوم کو ایسا ذہین دماغ سائنسدان دیا اور اس کی بہترین تربیت کی۔ محمد شہیر نے اپنی کامیابی کا سہرہ اپنی والدہ کے سر ہی باندھا ہے۔

رائل اوپن سائنس جریدے نے ہی معروف سائنسدان اور ماہر طبیعات نیوٹن کا پہلا مقالہ شائع کیا تھا۔ شہیر کی چارڈ آئینز کے شہد کے چھتے کی فوٹو گرافی سے اسپین میں سیلوے یونیورسٹی کے فزکس سائنسدان ڈاکٹر البرٹو بھی حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

انہوں دنیائے سائنس کو ایک نئی راہ دکھائی۔ محمدشہیر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا کہ دنیا میں صرف بھارت کی پہچان آئی ٹی کے حوالے سے ہے اور یہ کہ پاکستان دنیا میں دہشتگردی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

محمد شہیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ جہاں وہ لاہور کالج آف آ رٹس اینڈ سائنس (لاکاس) میں اے لیول کے طالب علم ہیں۔ یہیں وہ آج اسٹرونومی کلب کے کوچ بھی ہیں۔نیوٹن نے 17سال کی عمر میں مقالہ لکھا اور شہیر کی والدہ اپنے بیٹے کو 17سال عمر میں مقالہ لکھنے کی ترغیب دے رہی تھیں۔

ہونہار شہیر نے والدہ کی خواہش ہی پوری نہیں کی بلکہ دنیا کو بھی نئی تحقیق سے روشناس کر دیا۔ محمد شہیر نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اگر تیل پر بجلی گرے تو اس میں گرمی کا اثر ہوتا ہے۔ انہوں نے فوٹو گرافک فارمولے سے اس کی تصاویر بھی بنائی ہیں۔

دنیا بھر کا میڈیا آج اس پاکستانی طالب علم کے کام کو زبردست خراج تحسین پیش کر رہا ہے۔ محمد شہیرنیازی نے پاکستانی نوجوانوں کو ایک نئی راہ دکھائی ہے کہ اگر ہمارے طلباء تعلیم اور ریسرچ پر توجہ دیں اور ان کے لئے ملک میں لیبارٹریاں قائم کی جائیں، تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جائے اور طلباء کی تحقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے تو یہ مٹی بقول ڈاکٹر اقبال ؒ بڑی زرخیز ہے۔

اس میں ذرا سی نم کی ضرورت ہے۔ مٹی میں یہ نمی والدین اور اساتذہ کی محنت اور دلچسپی سے پیدا ہوتی ہے۔

توقع ہے کہ ہمارے طلباء محمد شہیر کے مشن پر چلتے ہوئے تعلیم اور ریسرچ کے میدان میں دلچسپی لیں گے۔پنجاب اور وفاقی حکومت اگر اس طرف توجہ دے اور ریسرچ کے میدان میں طلباء اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرے تو مثبت نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔

ہمیں نظام تعلیم میں صرف ڈگری اور نمبرگیم پر توجہ دینے کے بجائے ٹیلنٹ کے فروغ اور تربیت یافتہ ہنر مندوں کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ حکومت اس سلسلے میں صلاحیتوں کے حامل طلباء کو ریسرچ کے میدان میں مقابلے کے لئے وسائل فراہم کرے تو یہ کام مزید بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتا ہے اور ہم محمد شہیر نیازی جیسا ٹیلنٹ پیدا کر سکتے ہیں۔

محمد شہیر کی جڑواں بہن بھی فزکس میں ریسرچ کر رہی ہیں اور اپنے بھائی کی معاون بنی ہوئی ہیں۔ یہ دونوں جڑواں بہن بھائی مستقبل میں پاکستان کی دنیا میں نیک نامی کا باعث بنیں گے۔

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ قابل فخر پاکستانی طالب علم ملک کا نام مزید سر بلند کرے گا اور نوبل انعام پاکستان کے نام کر لے گا۔ فزکس کے میدان میں محمد شہیر کی ریسرچ کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔

نو عمر سائنسدان نے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے کے لئے 2016ء میں بین الاقوامی نوجوان فزیکسٹس ٹورنامنٹ میں حصہ لیا اور مقابلے میں ایک پروفیشنل سائنسدان کے طور پر ابھر کر سامنے آگئے۔ٹورنامنٹ میں ٹیم پاکستان کی شرکت کے لئے فنڈنگ کامسٹس اسلام آباد اور لمز لاہور نے کی۔

لمز فزکس ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ محمد شہیر کو پروفیسر ٹرائے شینبراٹ اور ان کے دوست ڈاکٹر تپن صابووالا نے ریسرچ کو بہتر انداز میں پیش کرنے میں معاونت کی۔

امید ہے دیگر ادارے اور اساتذہ بھی ملکی ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لئے اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔۔۔بچے کسی بھی ملک کا مستقبل ہیں جو بڑے ہو کرنہ صرف اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں، بلکہ انسانیت کی زندگی کے ہر شعبے میں بھی اپنی کارکردگی دکھا کر اپنے عوام کی بھی خدمت کرتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کی بات کی جائے تو یہ اپنے ملک کے ہونہار معماروں کا مستقبل محفوظ کرنے میں تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہیں۔ شہیر نے ثابت کیا کہ پاکستانی نوجوانوں میں بھی ٹیلنٹ کم نہیں بلکہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ اقوام سے زیادہ ہے۔

مزید : کالم