’’کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے‘‘

’’کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے‘‘
 ’’کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

فیض آباد کا دھرنا بالآخر فوج کی نگرانی میں ختم ہو گیا۔اس دوران کیا کیا ہوتا رہا، کس نے کیا کردار اداکیا،دھرنے کے آغاز سے اختتام تک کی کہانی کیا ہے ، اِس کے کردار کون کون ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کے عسکری اداروں کو اِس معاملے میں ثالثی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟اِن سوالات کے جواب تو مستقبل قریب میں مل جائیں گے،لیکن ہمارے پیارے وطن میں جو کچھ ہو رہا ہے یا جو کچھ ہونے والا ہے ، اس حوالے سے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اُس کے متحمل بھی ہیں کہ نہیں۔

اِس دوران جو جانیں ضائع ہوئیں اُن کا بھی افسوس ہے،لیکن یہ جو کہا جا رہا کہ حکومت کو یہ دھرنا22کروڑ روپے میں پڑا،یہ کس قدر افسوس ناک اور شرم ناک ہے کہ ہم پہلے سے کمزور معیشت کو مزید دھچکا لگانے میں کیوں فخر محسوس کرتے ہیں۔دھرنے کے دوران ملک کے طول و عرض میں جو بحرانی کیفیت رہی اور عوام جس کرب سے گزرتے رہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

آخری دِنوں میں تو جی ٹی روڈ اور موٹر وے سمیت کراچی سے خیبر تک ٹریفک کا جو پہیہ جام رہا وہ کس قدر تکلیف دہ اور تشویشناک ہے۔ہزاروں شہریوں نے اہلِ خانہ سمیت رات کھلے آسمان تلے سڑکوں پر بسر کی، کئی باراتیں ٹریفک میں پھنسی رہیں،طلباء و طالبات کے سٹڈی ٹورز بھی منزلِ مقصود پر نہ پہنچ سکے۔ اہلِ خانہ اُن کی واپسی کی راہ تکتے رہے، جبکہ ملک کی تھوک و پرچون مارکیٹوں میں ہُو کا عالم رہا۔

صوبائی دارالحکومت کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ شاہ عالم کے جن تاجروں کی کمائی کا زیادہ انحصار محض عیدمیلاد النبیؐ کے موقع پر تیار کردہ آرائشی و نمائشی اشیاء پر ہوتا ہے وہ اِن اہم ایام میں گاہکوں کے منتظر رہے۔ کاروباری انڈیکس مندی کے بدترین نکتے کو چھو رہا تھا، معاشی طور پر یہ بحرانی کیفیت ہمیں بدترین معاشی ابتری کا ٹیکہ لگاگئی۔

حالیہ دھرنے اور اِس کے تسلسل میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے کئی تکلیف دہ حقائق ہیں جن سے بوجوہ پردہ بھی نہیں اٹھایا جا سکتا،لیکن جو حقیقتیں سامنے آئی ہیں اُن پر غور کیا جائے تو یہ واضح ہے:

’’کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے‘‘

اِس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی کچھ ریمارکس دیئے ہیں، جو بہت غور طلب ہیں۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، وزیر داخلہ احسن اقبال اور مستعفی ہونے والے وزیر قانون زاہد حامد کے بیانات بھی اِس بارے میں توجہ کے طالب ہیں، جن سے موجودہ صورتِ حال کے صحیح مطالب نکالے جا سکتے ہیں۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ اور حکومت ختم ہونے والے دھرنے کے دو فریق تو تھے ہی، تیسرے فریق فوج کو شامل کرنے پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں،لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سول اور عسکری اداروں نے قیام امن کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کیا اور مُلک کو بڑی تباہی یا فساد سے بچا لیا۔

کچھ سیاست دانوں کو یہ بھی گلہ ہے کہ معاملہ فہمی نہ ہونے کی وجہ سے ہم تباہی کے دہانے پر پہنچے تھے، حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) میں بھی وفاقی وزیر قانون کے استعفے اور معاہدے میں تیسرے فریق کو شامل کرنے پر لے دے ہوئی، اِس ساری صورتِ حال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اِس کا تعین بھی کیا جانا ضروری ہے۔

لاہور کا دھرنا بھی ختم ہوگیا ہے اب ضرورت ہے کہ آئے روز کے ان مظاہروں اور دھرنوں کو ختم کرانے کی کوئی مستقل پالیسی بنائی جائے تاکہ کاروبار حیات رک نہ پائے۔

مزید : کالم