لوڈشیڈنگ کا خاتمہ۔۔۔اہم سنگ میل

لوڈشیڈنگ کا خاتمہ۔۔۔اہم سنگ میل

حکومت نے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 8600فیڈرز میں سے 5297 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم ہوگی تاہم دس سے بیس فیصد لائن لاسز والے علاقوں میں 2گھنٹے بجلی بند ہوگی تو انائی کے وفاقی وزیر اویس لغاری نے اعلان کیا کہ بجلی کے شعبے میں حکومت نے اہم کامیابی حاصل کرلی ہے جس کے نتیجے میں 14.915 ملین صارفین کو فائدہ ہوگا اس ضمن میں شہر اور دیہات کی تفریق بھی ختم کردی گئی ہے دس فیصد بجلی کے لائن لاسز پر متعلقہ علاقوں میں پہلے چار سے چھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اب وہاں دو گھنٹے جبکہ 20فیصد لائن لاسز والے علاقوں میں پہلے چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی اب وہاں دو گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوگی، بجلی کی قیمتوں میں روز بروز کمی ہو رہی ہے آئندہ گرمیاں بجلی کے حوالے سے کسی پاکستانی کو نہیں رُلائیں گی موسم گرما میں 25ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہوگی اویس لغاری نے کہا کہ ساڑھے چار سال کی انتھک محنت کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک سے نہ صرف اندھیروں کا خاتمہ کردیا ہے بلکہ ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر ڈال دیا ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ ہمارے پاس سسٹم میں ملک کی اس وقت کی اجتماعی ضرورت کے مقابلے میں 2700میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے، لیکن بجلی چوروں کو بجلی نہیں دے سکتے۔ صوبائی حکومتوں سے بجلی کی چوری کے لئے اقدامات کی درخواست کی ہے اس وقت رسد کا مسئلہ نہیں اصل مسئلہ انتظامی معاملات کا ہے، اووربلنگ کے خلاف قانون سازی کا عمل شروع ہوچکا ہے بغیر کسی سفارش کے میٹرلگ رہے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ صارفین کی عزت نفس مجروح نہ ہونے دیں۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ تو یہی کیا تھا کہ وہ برسرِ اقتدار آکر چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کردے گی اگرچہ اس وعدے پر چھ ماہ میں نہیں ساڑھے چار سال بعد عملدرآمد شروع ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ لمحہ خوش آئند اور باعثِ مُسرت ہے کیونکہ عوام نے طویل عرصے تک لوڈشیڈنگ کا جو عذاب بھگتا ہے وہ آسانی سے بھلایا بھی نہیں جاسکتا، اِس عرصے میں بجلی بھی مہنگی سے مہنگی ہوتی چلی گئی تھی اب وفاقی وزیر نے بجلی سستی ہونے کی خوشخبری بھی سنائی ہے تو یہی کہا جاسکتا ہے آپ کے منہ میں گھی شکر، یہ درست ہے کہ ملک کو گوناگوں مسائل درپیش ہیں مہنگائی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے، ملک پر قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے، بجٹ کامالی خسارہ بھی فروغ پذیر ہے، روپے کی قیمت میں کمی کی غلط یا درست افواہیں بھی اڑائی جاتی رہی ہیں تاہم بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اس ماحول میں ایک اچھی خبر ہے جو ملک کے عوام کو حکومت کی طرف سے دی گئی ہے کم از کم ڈیڑھ کروڑ صارفین تو اس خبر سے براہ راست خوشی کی لہر محسوس کرسکتے ہیں اور مجموعی طور پر بھی یہ ملک کے لئے ایک ایسا سنگِ میل ہے جو بہت عرصے بعد ہی سہی کامیابی سے عبور کرلیا گیا ہے، جس پر حکومت کو سراہا جانا چاہئے لیکن وہ چاروں جانب سے جس طرح نکتہ چینی کے حملوں کی زد میں ہے اسی طرح بعض لوگوں نے اس خبر پر یہ تبصرہ بھی کیا ہے کہ اس وقت تو بجلی کی طلب ویسے ہی کم ترین سطح پر ہے، پتہ تو تب چلے گا جب گرمیوں میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا وعدہ ایفا کیا جائے گا۔

بجلی کی طلب ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ موسم کے حساب سے اس میں کمی بیشی ضرور آتی رہتی ہے جوں جوں یہ مہنگی ہوتی ہے بجلی بچانے کے نئے نئے طریقے بھی دریافت ہورہے ہیں، پہلے انرجی سیور بلب متعارف ہوئے جو کم بجلی خرچ کرکے زیادہ روشنی بہم پہنچاتے ہیں، اس کے بعد انرجی سیور پنکھے بھی مارکیٹ میں آنا شروع ہوئے اب ایسے ائرکنڈیشنر بھی آرہے ہیں جو بہت کم بجلی استعمال کرکے زیادہ ٹھنڈک پہنچاتے ہیں تاہم اس شعبے کو چوری کا جو روگ لگا ہوا ہے اس کا علاج تاحال نہیں ڈھونڈا جاسکا جس چیز کو لائن لاسز کہا جاتا ہے بجلی چوری بھی دراصل اس میں شامل ہوتی ہے ملک کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں بجلی دھڑلے سے چوری ہوتی ہے بہت سے علاقے اس سلسلے میں خاصی شہرت رکھتے ہیں بدنام کا لفظ ہم اس لئے استعمال نہیں کرتے کہ اِس سے بجلی چوروں کا ’’استحقاق‘‘ مجروح ہوتا ہے کیونکہ وہ یہ کام اپنا حق سمجھ کر کرتے ہیں، اویس لغاری کا کہنا ہے کہ ہم چوروں کو بجلی نہیں دے سکتے لیکن اس کے لئے انہوں نے جو طریقِ کار اپنایا ہے وہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں چند گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی رہے گی، ممکن ہے وہ اس طریقے کو کارگر محسوس کریں لیکن فرض کریں جس بجلی چور کو دن میں اٹھارہ بیس گھنٹے چوری کی بجلی دستیاب ہے اور کوئی حکومت اس کا کچھ نہیں بگاڑ پا رہی وہ اپنے ’’وسیع تر مفاد‘‘ میں چند گھنٹے اس کے بغیر بھی گزارلے گا، حکومت کو بجلی چوری کا کوئی مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنا چاہئے یہ تو عطائیوں والا علاج ہے جس کا سرکاری خزانے پر ایک مستقل بوجھ ہے۔

بجلی چوری کے مسئلے کا ایک حل یہ بھی ڈھونڈا گیا ہے کہ ماضی میں کسی مخصوص علاقے میں چوری ہونے والی بجلی کے یونٹ تمام صارفین پر بقدر استطاعت تقسیم کردیئے جاتے تھے جو انتہائی ناانصافی ہے، اگرچہ اب ایسی شکایات کم ہوئی ہیں کیونکہ بجلی کمپنیوں نے میٹر ریڈنگ کا سسٹم بہتر کردیا ہے، اب بعض علاقوں میں ریڈنگ لے کر اس کی اطلاع بذریعہ ایس ایم ایس صارف کو دی جاتی ہے جو اپنے میٹر کے ساتھ ریڈنگ کا موازنہ کرسکتا ہے اس طرح بجلی کے بلوں پر میٹرریڈنگ کا عکس بھی چھاپا جارہا ہے تاہم اوور بلنگ کی شکایات کا کلی خاتمہ نہیں ہوسکا اس لئے وفاقی حکومت نے اس کے لئے قانون سازی کی ضرورت محسوس کی ہے اگر اس طرح اووربلنگ کی شکایات کم ہوتی ہیں تو پھر ایسے قانون کو سراہا جائے گا۔

جہاں تک سستی بجلی کا تعلق ہے یہ تو پانی سے ہی حاصل ہوسکتی ہے ایٹمی بجلی بھی نسبتاً سستی ہے لیکن تھرمل ذرائع سے مہنگی بجلی بنتی ہے۔ حکومت ایک خاص حد تک سبسڈی تو دیتی ہے لیکن اس مسئلے کامستقل حل یہی ہے کہ پانی سے بجلی بنائی جائے، قلیل المدت منصوبہ بندی کرکے لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر تو قابو پا لیا گیا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ طویل المدت منصوبہ بندی کی جائے اور بڑے ڈیم بنائے جائیں۔ آج ان بڑے ڈیموں پر جو سرمایہ کاری بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ایک عشرے کے بعد جب ایسے ڈیم اپنی لاگت پوری کرنے لگیں گے تو یہ سرمایہ کاری زیادہ محسوس نہیں ہوگی، خیبرپختونخوا کی حکومت نے چھوٹے چھوٹے 350 بند باندھنے اور اس سے محدود علاقے کو بجلی فراہم کرنے کی جو سکیم بنائی تھی اگر اسے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو بھی اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اب اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ترسیلی نظام کی درستی کے لئے ہر ہفتے بجلی کی طویل بندش کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے کیونکہ یہ بھی لوڈشیڈنگ ہی کی ایک صورت ہے۔ گرمیوں میں جب طلب بڑھے گی اور جو نئے صارفین بجلی استعمال کرنا چاہیں گے ان کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر ابھی سے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہوگی۔

مزید : اداریہ