خصوصی بچوں کے لئے قانون سازی کی یقین دہانی

خصوصی بچوں کے لئے قانون سازی کی یقین دہانی

وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب نے کہا ہے کہ خصوصی بچوں کے لئے قانون سازی کی جائے گی۔ وزیر اعظم کے تعلیمی اصلاحات پروگرام میں خصوصی بچوں کو خاص طور پر شامل کیا گیا ہے۔ حکومت خصوصی افراد کی بہبود کے لئے آئندہ برسوں میں مزید اقدمات کرے گی۔ خصوصی بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے قانون سازی میں وہ ذاتی طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔ مریم اورنگ زیب نے اِن خیالات کا اظہار پاکستان کونسل آف آرٹس اسلام آباد کے زیر اہتمام خصوصی افراد کے دن کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومتی سطح پر خصوصی افراد کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جارہی ہے اور انہیں تعلیم کے شعبے میں آگے بڑھنے میں مدد دینے کے لئے وزیر اعظم کے تعلیمی اصلاحات پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ خصوصی بچوں کی بہتری اور امداد کے لئے باقاعدہ قانون سازی بھی ہوگی۔ قانون سازی کا مرحلہ طے ہونے سے بچوں کو زندگی میں آگے بڑھنے میں بڑی مدد ملے گی اور اُن کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر سہولتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں خصوصی بچوں کو عام طور پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ بہت کم والدین ایسے بچوں کی دوسرے نارمل بچوں کی طرح پرورش کے لئے ذہنی طور پر آمادہ ہوتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ان بچوں کو فلاح و بہبود کے اداروں کے حوالے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ وہ خود ان کی پرورش کرنے کی ذمے داری سے آزاد رہ سکیں۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ حکومتی سطح کے ساتھ ساتھ بعض این جی اوز نے بھی خصوصی بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ادارے قائم کررکھے ہیں۔ جہاں ان بچوں کو آٹھ سے دس گھنٹوں کے لئے رکھا جاسکتا ہے، بعض ایسے ادارے بھی ہیں، جہاںیہ بچے مستقل طور پر رہائش اختیار کرسکتے ہیں۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ بچوں کی صحیح طریقے سے دیکھ بھال نہ ہونے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ گزشتہ دنوں خصوصی بچوں کو بس میں سفر کے دوران اُن کے نگران عملے نے شور کرنے اور حکم نہ ماننے پر زدوکوب کیا، جس کی ویڈیو منظر عام پر آنے سے معاملہ تھانے اور کچہری تک جاپہنچا، نگران عملے نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا تھا۔ ضرورت یہ ہے کہ ایسے اداروں میں ان لوگوں کو بھرتی کیا جائے، جو دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں اور خصوصی بچوں سے پیار اور محبت سے پیش آئیں۔ان بچوں میں بھی کئی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ بعض تقریبات میں اُن کی پرفارمنس دیکھ کر لوگ بے ساختہ داد دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ پختہ عزم، بلند حوصلے اور جہد مسلسل سے بچوں اور بڑوں نے معذوری پر قابو پالیا اور اپنی زندگی میں آسانیاں لاتے ہوئے بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی سطح پر خصوصی بچوں اور بڑوں کے لئے مزید اصلاحات لائی جائیں ان کے لئے زیادہ فنڈز مختص کرکے غیر ممالک میں جدید طریقوں سے پروگرام ترتیب دے کر کامیابی حاصل کی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ رضا کار اور رفاہی تنظیموں کا تعاون بھی حاصل کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ