جب ہم نکلیں گے!

جب ہم نکلیں گے!
جب ہم نکلیں گے!

  

محترم آصف علی زرداری اکثر کہا کرتے ہیں کہ جب ہم نکلیں گے تو پتا چل جائے گا۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ خود، بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو عوام میں آئیں گے تو عوام دیوانہ واراُن کی طرف لپکیں گے، انہیں سرآنکھوں پر بٹھائیں گے اور ووٹ دینے کے لئے اُن کے پیچھے بھاگیں گے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ آصف علی زرداری بڑی دھوم دھام سے باہر نکلے۔

چند ایک جلسے کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن نتیجہ اُن کے دعوؤں کے برعکس نکلا۔ آصف علی زرداری کے نکلتے ہی پارٹی کے سرکردہ لیڈر بھی پارٹی سے نکلنے لگے، بلکہ انہوں نے دوڑ لگادی۔

اب صورت حال یہ ہے کہ آصف علی زرداری پیچھے پیچھے ہیں، پارٹی کے امیدوار اُن کے آگے آگے بھاگ رہے ہیں اور بیچارے ووٹر امیدواروں سے بھی بہت آگے بھاگے چلے جارہے ہیں۔۔۔ کافی دور تک ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنے کے بعد اب لگتا ہے کہ آصف علی زرداری تھک ہار کر بیٹھ گئے ہیں، سستارہے ہیں اور کسی نئے لائحہ عمل پر غور و فکر کررہے ہیں۔

صورت حال اِس حد تک گھمبیر ہوچکی ہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر نے عوام کے سامنے رونا شروع کردیا اور استفسار کیا کہ عوام پیپلز پارٹی کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟۔۔۔ معلوم نہیں عوام نے اِس بات کا کیا جواب دیا، لیکن عوام کو یہ تو پوچھنا چاہیے تھا کہ عوام پیپلز پارٹی کو کیوں ووٹ دیں؟

یہ درد ناک کیفیت اُس عظیم پارٹی کی ہے جو کبھی عوام کے دلوں میں بستی تھی۔ نہ منصوبہ بندی کے تحت کیا جانے والا پراپیگنڈا عوام کو اِس پارٹی سے بدظن کرسکا اور نہ کوڑے عوام کا حوصلہ متزلزل کرسکے، پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی حب الوطنی پرسوال بھی اٹھائے گئے، اِس پارٹی کے لیڈر کے مذہبی رجحانات اور اعتقاد کوبھی زیربحث لایا گیا، لیکن عوام متنفرنہ ہوئے۔

وجہ کیا تھی؟ صرف یہ کہ عوام کو بالعموم اور غریبوں کو بالخصوص اِس پارٹی سے ایک امیدتھی۔ جب تک یہ امید قائم رہی عوام نے اس پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب یہ امید ختم ہوچکی ہے۔ اب خواہ آصف علی زرداری ہوں، بلاول بھٹو زرداری ہوں یا آصفہ ہو، وہ باہر نکل کر کیا کریں گے۔

منت سماجت سے عوام کسی کو ووٹ نہیں دیتے، لیکن کیا موجودہ قیادت غریب عوام اور لوئر مڈل کلاس کے دلوں میں ایک امید کی جوت جلانے میں کامیاب ہوجائے گی؟ یہ بہت بڑا سوال ہے، جس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔۔۔ بلاول بھٹو زرداری سے عوام بہت پیار کرتے تھے، شاید اب بھی کرتے ہوں۔

بی بی شہید کا بیٹا ہونے کی وجہ سے اور اس کے جرأت مندانہ طرز عمل کی وجہ سے عوام میں بلاول کی مقبولیت موجود تھی۔ اِس پر کرپشن کا بھی کوئی الزام نہیں، پھر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نوجوان ہونے کی وجہ سے عوام اِن سے توقعات وابستہ کرسکتے تھے۔ صوبہ پنجاب میں جب بلاول نے لاہور سے فیصل آباد تک ریلی نکالی تو اُسے ناکام نہیں کہا جاسکتا تھا، اگر پھر محنت کی جاتی اور بلاول بھٹو زرداری لاہور میں ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو صورت حال مختلف ہوسکتی تھی، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ جب عوام کا رجحان بلاول کی طرف ہونے لگتا ہے تو عزت ماآب آصف علی زرداری باہر نکلنے لگتے ہیں اور عوام اُسی تیزی کے ساتھ بلاول بھٹو سے پیچھے ہٹنے لگتے ہیں۔

شاید آصف علی زرداری اور اُن کی پارٹی کو اِس بات کا احساس نہیں کہ صوبہ پنجاب کے عوام آصف علی زرداری کی موجودگی میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کے لئے تیار نہیں۔ پنجاب کے عوام نے بے نظیر بھٹو شہید کے بعد آصف علی زرداری کو بطور لیڈر تسلیم نہیں کیا اور شاید آئندہ بھی ایسا نہیں کریں گے۔

اس رویے کی وجوہات بہت زیادہ ہیں۔ آصف علی زرداری پر کرپشن کے الزامات، پیپلز پارٹی کی بری کارکردگی اور بہت سی دیگر وجوہات کی وجہ سے پنجاب کے عوام آصف علی زرداری کی موجودگی میں پیپلز پارٹی کی طرف راغب ہونے کے لئے تیار نظر نہیں آتے۔۔۔مگر آصف علی زرداری پیچھے بیٹھنے کے لئے تیار نہیں اور اُن کی موجودگی میں عوام آگے بڑھنے کے لئے رضا مند نہیں۔۔۔ نتیجہ وہ ہے جو نکل رہا ہے۔

شکست کے خوف سے پیپلز پارٹی کے لیڈر دھڑا دھڑ تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں اور پیپلز پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے لیڈر اور کارکنان حیران اور پریشان ہیں۔ اب وہ اِس صورت حال پر ماتم ہی کرسکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اس انجام سے کوئی بھی خوش نہیں ہوسکتا۔

بڑی پارٹیاں ایک اثاثہ ہوتی ہیں اور عوام میں ان کی پذیرائی مشکل سے ہوتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو جیسے عظیم اور بہادر لیڈروں کی اس پارٹی کو ختم نہیں ہونا چاہیے، لیکن یہ پارٹی اسی صورت میں عوام میں دوبارہ پذیرائی حاصل کرسکتی ہے اگر بلاول بھٹو زرداری کو آزادانہ کام کرنے کا موقعہ دیا جائے اور عوام میں یہ تاثر زائل ہو جائے کہ پارٹی کو بلاول کی صورت میں آصف علی زرداری ہی کنٹرول کررہے ہیں۔۔۔ بلاول بھٹو دیگر لیڈروں کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں آسکتے ہیں۔

اگر پارٹی کو منظم کیا جائے اور بلاول بھٹو تعلیم یافتہ دیانتدار نوجوان قیادت کو آگے لے کر آئیں تو یہ قیادت پرانے، لالچی اور اقتدار کے لئے پارٹی چھوڑنے والے لیڈروں سے بہت بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ بلاول بھٹو نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پارٹی کی طرف راغب کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

نوجوانوں کے لئے نہ کوئی منشور دیا ہے اور نہ کوئی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ ہمارے نوجوان مجبوری کے تحت عمران خان کی طرف راغب ہوئے ہیں، صرف اس وجہ سے کہ وہ کرکٹ کے قومی ہیرو رہے ہیں۔ عمران خان کو اقتدار میں آنے کی جلدی ہے، اس لئے وہ اصولی سیاست سے دستبردار ہوچکے ہیں۔

اس وقت بیشتر پارٹیاں بے اصولی، منافقت اور جھوٹ کی سیاست کررہی ہیں، اصولی اور صاف ستھری سیاست کے لئے جگہ موجود ہے۔ بلاول بھٹو یہ جگہ لے سکتے ہیں، لیکن اگر وہ بھی جائز اور ناجائز طریقوں سے اقتدار کے لئے کوشاں رہے اور والد کے نقش قدم پر چلتے رہے تو پھر پیپلز پارٹی اپناکھویا ہوا مقام کبھی حاصل نہیں کرسکے گی۔

مزید : کالم