پیپلز پارٹی کے پچاس سال

پیپلز پارٹی کے پچاس سال
پیپلز پارٹی کے پچاس سال

  

کسی بھی سیاسی جماعت کے بارے میں جو بر سر اقتدار رہی ہو، دیکھا جاتا ہے کہ اس کے دور میں تعلیم ، صحت، عوام کی ٖ فلاح و بہبود، امن و امان، روز گار، سفر کی سہو لتیںِ ، عدل و انصاف، مجموعی طور پر عوام کی سماجی اور معاشی حالت، کیسی رہی۔ یہی بڑا پیمانہ ہوتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں انتخابات شفاف نہ ہوتے ہوں، ووٹر خوف کا شکار ہو کر ووٹ دیتا ہو، منتخب ہونا کوئی پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ پیپلز پارٹی کے چار دور وفاقی حکومت کے ہیں، چھہ دور صوبہ سندھ میں حکومت کے ہیں، ان ادوار میں پارٹی نے کیا پایا، کیا کھویا، ایک الگ داستان ہے لیکن پارٹی کے رہنماؤں خصوصا وزراء اور اراکین اسمبلی نے کیا پایا، ان کے انتخابی حلقوں میں عوام سے پوشیدہ نہیں ہے۔

وہ پارٹی جسے عام لوگوں نے چاہت سے چاہا تھا، اپنی قدر و منزلت متاثر ہی کرتی رہی۔ وہ پنجاب جہاں سے پارٹی نے 1970 کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں، سکڑ گئی ہے۔

سندھ کے ان دیہی علاقوں تک محدود ہو گئی ہے جہاں بڑی زمینداریاں موجود ہیں ۔ کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، نواب شاہ اور سکھر کی اردو بولنے والی آبادیوں میں پارٹی کو مقبولیت حاصل نہیں رہی ہے اور خصوصا گزشتہ دس سالوں سے صوبہ سندھ میں حکومت کے باوجود لوگ پارٹی سے دور ہوئے ہیں۔

پارٹی نے بھی کبھی سنجیدگی سے وجوہات اور اسباب جاننے کی کوشش نہیں کی ہے۔ خود پارٹی کے اندر کارکنوں کا وہ طبقہ جو معاشی طور پر کمزور ہے، پارٹی سے اگر برگشتہ نہیں تو شگفتہ بھی نہیں ہے۔ پھلنے پھولنے والا ایک ہی گروہ ہے جس کے پاس پیسہ ہے۔

یہ ستمبر 1967 تھا جب ذوالفقار علی بھٹو نے حیدرآباد میں میر گارڈن میں پاکستان پیپلز پارٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ میر گارڈن کے مالک میر رسول بخش خان تالپور تھے۔

وہ پارٹی کے قیام سے بہت قبل اس وقت بھٹو صاحب کے از خود میز بان بن گئے تھے جب بھٹو صاحب کو اورینٹ ہوٹل میں طے شدہ کمرہ دینے سے مالکان نے اچانک انکار کردیا تھا۔ اورینٹ ہوٹل کے مالکان قاضی محمد اکبر برادران تھے ۔ میر صا حب ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے اور بھٹو صاحب کو ساتھ لے کر اپنی رہائش گاہ ٹنڈو میر محمود پہنچ گئے۔

ان کی رہائش گاہ حیدرآباد میں تو عوامی مسائل لے کر آنے والوں میں پہلے ہی مشہور تھی لیکن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی وجہ سے ملک بھر میں جانی پہچانی لگی تھی۔ حیدرآباد میں تمام سرکاری کوششوں اور بی ڈی اراکین کے ووٹوں کی خرید کے باوجود مادر ملت کو ایوب خان کے برابر ووٹ ملے تھے۔

میر صاحب دن میں اپنی رہائش گاہ پر ہی آنے والوں سے ملاقاتیں کیا کرتے تھے جب کہ شام کے وقت میر گارڈن کو آباد کیا کرتے تھے۔ بھٹو کے اعلان کے بعد اس وقت کے مغربی پاکستان کے گورنر جنرل رٹائرڈ موسی خان نے بھٹو کے خلاف بیان دیا تھا جس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بھٹو تانگہ پارٹی بنا رہے ہیں۔ ’’

اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشل ازم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں ‘‘ کے بنیادی نکات منشور پر پارٹی قائم کرنے کے اعلان سے قبل ہی بھٹو مرحوم کے گرد وہ عناصر جمع ہو چکے تھے جو ایوب آمریت کی وجہ سے سیاسی گھٹن محسوس کرتے تھے اور ملک میں جمہوریت کے لئے جدوجہد میں مصروف تھے۔

انہیں عوام نے بھی ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔ جے اے رحیم، میر رسول بخش تالپور، مبشر حسن، حنیف رامے، غلام مصطفے جتوئی، غلام مصطفے کھر، شیخ رشید، معراج محمد خان، احمد رضا قصوری، خورشید حسن میر، عبدالخالق خان، حیات محمد خان آف شیر پاؤ، و غیرہ بھٹو کو پارٹی قائم کرنے پر قائل کر چکے تھے۔

پارٹی کو میر رسول بخش جیسے انتھک محنت کرنے والے ، میر محمود تالپو ر ، میر محمد جونیجو اور مولانا عبدالحق ربانی جیسے لوگ بھی سندھ میں میسر آ گئے تھے جو عوام سے براہ راست تعلق رکھتے تھے ۔

پارٹی کا دو روزہ تاسیسی اجلاس لاہور میں نومبر 1967 کو مبشر حسن کی رہائش گاہ پر ہوا تھا۔ پارٹی کی بنیادی دستاویز جلال الدین عبدالرحیم جو جے اے رحیم کے نام سے مشہور تھے ، نے لکھی تھیں۔ جے اے رحیم سیکریٹری خارجہ کی حیثیت سے رٹائر ہو چکے تھے۔

وزیر خارجہ کی حیثیت سے بھٹو مرحوم کی جے اے رحیم نے بھی تربیت کی تھی۔ جے اے رحیم بنیادی طور پر مارکسٹ نظریہ کے حامی تھے۔ و ہ پارٹی کے پہلے جنرل سیکریٹری بھی مقرر ہوئے تھے۔ پاکستانی سیاست میں گھٹن محسوس کرنے والے ایسے لوگ بھاری تعداد میں شریک تھے جن کی سیاسی اور سماجی حیثیت سے لوگ آگاہ تھے ۔

پارٹی اپنے قیام کے وقت نوجوانوں میں کچھ بھٹو کی سحر انگیز شخصیت ، کچھ اپنے پروگرام، کچھ ایوب آمریت دشمنی، کچھ بہتر مستقبل کی وجہ سے مقبولیت حاصل کر چکی تھی۔

ان ہی تمام عناصر نے مل کر پارٹی کو عام انتخابات سے بہت قبل ہی مقبولیت کے دائرے میں داخل کردیا تھا۔ پارٹی کا پہلا تاثر یہی تھا کہ بائیں بازو کی پارٹی ہے جو ملک میں عام لوگوں کی زندگی تبدیل کردے گی، ملک کی معیشت میں عام لوگوں کو ان کا حصہ دلائے گی۔

پارٹی میں تمام مکاتیب فکر کے لوگ شامل تھے لیکن پارٹی پر بائیں بازو کی ہی چھاپ تھی۔ اب تو صرف ایک ہی چھاپ ہے ، وہ چھاپ یہ ہے کہ پارٹی میں مقام حاصل کرنے کے لئے دولت مند ہونا لازمی ہے۔ اسی چھاپ کو مٹانے کے لئے پارٹی کی موجودہ قیادت نے مولا بخش چانڈیو، سعید غنی، عاجز دھامرا، جیسے مخلص کارکنوں کو سینٹ کی رکنیت کے لئے کامیاب کرایا۔ پارٹی نے 1988 کے انتخابات کے دوران بھی کارکنوں کو منتخب کرانے کی محدود کوشش تھی ۔

رائے عامہ ہموار ہونے کی وجہ سے عام لوگ بھی پارٹی کی طرف متوجہ ہو گئے تھے حالانکہ اخبارات میں پارٹی کو وہ مقام نہیں ملتا تھا جس کی وہ حق دار تھی۔

ایوب آمریت کا دور دورہ تھا۔ ہر طرف دفعہ144کا راج تھا۔انتظامیہ جب چاہتی تھی اس دفعہ کے تحت کارروائی کرکے لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرا دیتی تھی پھر ڈی پی آر کا ہتھیار بھی انتظامیہ کے پاس تھا جسے چاہا ڈی پی آر کے تحت ابتدائی طور پر تین ماہ کے لئے قید کر دیا جاتا تھا۔ خود بھٹو بھی ڈی پی آر کے تحت گرفتار ہوئے تھے۔

اس وقت کے نوجوان بھٹو کی اقوام متحدہ میں 1965میں کی جانے والی تقریر سے مرعوب تھے۔ چین میں ماؤزے تنگ کا اقتدار تھا، بڑے پیمانے پر چینی پر وپگنڈہ کی کتابیں پاکستان میں آیا کرتی تھیں۔ کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان بائیں اور دائیں بازو کی سیاست کرنے والوں کے درمیاں تقسیم تھے۔

کسانوں اور ہاریوں میں کام کرنے والے اور محنت کشوں کے حقوق کے لئے کارخانوں میں کام کرنے والے سیاسی سوجھ بوجھ کے حامل افراد بائیں بازو کے زیر ا ثر تھے۔ پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد اس کے چاروں نعرے لوگوں کو مرعوب کر گئے تھے۔

جنرل یحییٰ خان کے لگائے ہوئے مار شل لاء میں ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر پاکستان میں پہلی بار عام انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ اس سے قبل ییحی خان ون یونٹ کالعدم قرار دے چکے تھے جس کی وجہ سے کالعدم مغربی پاکستان میں صوبوں کی حیثیت بحال ہو گئی تھی اور بلوچستان کو بھی صوبائی درجہ مل گیا تھا۔

ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں سندھ، پنجاب، بلو چستان اور سرحد (اب خیبر پختون خوا) میں پاکستان پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرکے بڑی پارٹیوں کی حیثیت سے ابھری تھیں۔

عوامی لیگ کو اقتدار نہ دینے کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی ہوگئی تھی، بعد میں بھارت کی مداخلت سے جنگ چھڑ گئی اور پاکستان دو لخت ہو گیا۔ مغربی پاکستان میں اقتدار پیپلز پارٹی کے سپرد کر دیا گیا تھا کیوں کہ و ہی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت تھی۔

دسمبر 1971 میں پیپلز پارٹی بر سر اقتدار آگئی۔ پارٹی نے اہم نوعیت کی صنعتوں کے ساتھ ساتھ بنکوں اور نجی تعلیمی اداروں کو قومیانے کی پالیسیوں، زرعی اصلاحات ، ملک کا انتظام چلانے وا لی سرکاری مشینری کے ڈھانچے میں تبدیلی، فوج میں تبدیلی اور بری فوج اور فضائی فوج کے سربراہوں کی جبری رخصت وغیرہ جیسے اقدامات کے علاوہ ملک کو معاشی طور پر چلنے کے قابل کیا۔

ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے نافذ کئے گئے آئین کو یحییٰ خان منسوخ کر چکے تھے ، ملک ایک عارضی آئین کے تحت چلایا جارہا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے آئین مرتب کیا جسے قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں سے منظور کرایا گیا۔

یہ وہی آئین ہے جسے پیپلز پارٹی ٰ کی پہلی حکومت کو مارشل لا ء کے ذریعہ ہٹانے کے باوجود منسوخ نہیں کیا جا سکا بلکہ معطل کر دیا گیا ۔بعد میں جنرل ضیاء نے اپنی قائم کردہ مجلس شوری کے ذریعہ کئی ترامیم کیں۔

دوسری بار جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کو ختم کرنے کے لئے مار شل لا ء لگائے بغیر اقتدار پر قبضہ کیا تو بھی اسی آئین کے تحت حکومت چلا ئی جاتی رہی اور بعد میں عام انتخابات کے انعقاد کے قبل لیگل فریم ورک آرڈر منظور کرا کے اس میں ترامیم کر دی گئیں۔

اپنی ہی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد کے ان کے اپنے دور میں قتل کے مقدمہ میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں سرکاری ملازمین ، مسعود محمود اور دیگر کو سلطانی گواہ بنا کر بھٹو کو پھانسی دی گئی۔

پارٹی مارشل لاء کے نفاذ کی مزاحمت کرنے میں پاکستان قومی اتحاد کی بھٹو مخالف تحریک کی وجہ سے ناکام رہی، پھر بھٹو کی پھانسی رکوانے میں بھی کوئی قابل ذکر تحریک نہیں چلا سکی۔ پارٹی کے اراکین اسمبلی پارٹی سے فرار کی راہیں دیکھ رہے تھے ، بعض تو فرار بھی ہوگئے تھے۔

مستعفی بھی ہو گئے تھے۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد خود قومی اتحاد تقسیم سے دو چار ہوا اور وہ کئی رہنماء جو پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں بھٹو کے طریقہ حکمرانی سے شدید نالاں تھے، بھٹو کی بیوہ نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو کے ہمنوا بن گئے کہ وہ اب ملک میں جمہوریت قائم کرنا چاہتے تھے جس کے لئے عام انتخابات کا انعقاد ضروری تھی۔ پیپلز پارٹی سمیت کوئی سیاسی جماعت جنرل ضیاء کو عام انتخابات کے انعقاد کے لئے مجبور نہیں کر سکی۔

قومی اتحاد خود جنرل ضیاء الحق کی حکومت کا حصہ بن گیا تھا۔ بحالی جمہوریت کی تحریک کون چلاتا۔ اس وقت پوری پیپلز پارٹی ایک طرح سے مفلوج ہو گئی تھی ۔ بھٹو کی منتقم مزاج طبیعت بڑا سبب بن گئی تھی جس نے ان سے ان کے قریبی ساتھیوں کو دور کر دیا تھا۔ ج

ے اے رحیم کے ساتھ جو سلوک کرایا گیا ، سیال کوٹ سے ر کن قومی اسمبلی ملک سلیمان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اور بھی دیگر درجنوں افراد جو بھٹو حکمرانی کے مخالف تھے، افسوس ناک سلوک کئے گئے۔

بھٹو ذرائع ابلاغ میں حکومت کے خلاف چھپنے والی کسی خبر اور مضمون کو در گزر نہیں کیا کرتے تھے اور اخبارات کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی تھی۔ مدیران اور مالکان کی گرفتاریاں تک ہوجاتی تھیں۔

بھٹو کے بعد پارٹی کو زندہ رکھنے کے لئے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مزاحمتی تحریک جاری رکھی ہوئی تھی۔ بھٹو کی صاحبزادی ملک سے باہر چلی گئی تھیں جہاں انہوں نے جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔

بھٹو کے دونوں صا حبزادے ملک سے باہر تھے۔ میر مرتضی بھٹو بیرون ملک ہی بیٹھ کر جنرل ضیاء حکومت کی مزا حمت کررہے تھے ۔ تحریک بحالی جمہورت (ایم آرڈی) 1983 میں چلائی گئی جس میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہم خیال دیگر سیاسی جماعتوں اور صحافیوں نے بھی بڑے پیمانے پر حصہ لیا۔

پارٹی کو عوام کی سطح پر سرگرم کارکنوں کی حمایت ضرور حاصل تھی لیکن پارٹی کے بڑے رہنماء خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک اگر بحالی جمہوریت کا حصہ نہیں بنتی تو تحریک ناکامی سے دوچار ہو سکتی تھی۔

بے نظیر بھٹو 1986 میں پاکستان واپس آئیں تو لاہور میں ان کا تاریخی استقبال کیا گیا۔ اس سے قبل جنرل ضیاء 1985میں عام انتخابات کرا چکے تھے جس میں پیپلز پارٹی نے حصہ نہیں لیا تھا۔ جنرل ضیاء کی موت کے بعد 1988 میں جب انتخابات ہوئے تو پارٹی بھٹو کی موت کے بعد پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہی تھی اس وجہ سے اسے ہمدردی کا ووٹ ملا تھا جو وفاق میں حکومت بنانے میں مدد گار ثابت ہوا۔ پارٹی قیادت نے فوج اور سول انتظامیہ سے سمجھوتہ کر کے اقتدار حاصل کیا تھا۔ 1990 کے انتخابات میں پارٹی حزب اختلاف میں تھی۔ 1993کے انتخابات میں پارٹی کی حکومت تھی۔ 1996 کے انتخابات میں پارٹی کو ایک بار پھر حزب اختلاف میں بیٹھنا پڑا تھا۔ 1999 سے 2008 تک پارٹی حکومت میں نہیں تھی اور مرحومہ بے نظیر بھٹو بھی خود ساختہ جلا وطنی میں تھیں جس کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ہوا تھا۔ 2008 کے انتخابات میں پارٹی کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے دوران بی بی نے جو تقاریر کی تھیں اس میں وہ ووٹروں سے یہ ہی اپیل کر رہی تھیں کہ ’’امیدواروں کو نہ دیکھیں، اپنی بہن کو دیکھیں‘‘۔ راولپنڈی کی 27دسمبر 2007کی تقریر ان کی زندگی کی آخری تقریر تھی، بی بی کو عوام کو یہ ہی کہنا پڑا تھا جو اس بات کی نشان دہی تھی کہ عوام پارٹی کے امیدواروں کی کارکردگی سے مطمعن نہیں تھے۔ ۔ جواں سالی میں قاتلانہ حملہ میں ان کی موت کی وجہ سے پارٹی کو بڑا دھچکا پہنچا تھا لیکن ان کے شوہر آصف علی زرداری نے پارٹی کی عملا قیادت سنبھال لی تھی۔ پارٹی کو ایک بار پھر ہم دردی کی صورت میں پذیرائی ملی تھی کہ وہ وفاق میں حکومت سازی کر سکی۔ آصف زرداری خود بھی صدر مملکت منتخب ہوئے تھے۔ سیاسی مبصرین پارٹی کے اس دور حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔

آج پچاس سال بعد جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ عوام اور کارکنوں کی پارٹی وڈیروں اور سرمایہ داروں اور سرمایہ کاروں کے خاندانوں کی پارٹی بنا دی گئی ہے۔ 2013 کے بعد تو اضلاع میں قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور ضلع کونسل، بلدیات کے ادارے تک خاندانوں میں تقسیم کر دئے گئے ۔

اس حکمت عملی کے بعد پارٹی کا دعوی ہے کہ و ہی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔ کہاں گئے طاقت کا سرچشمہ عوام ، پارٹی کی قیادت کو اس کا ذرہ برابر احساس نہیں ہے۔ کراچی کے صحافی فاضل جمیلی نے شاعری میں کچھ یوں تبصرہ کیا ہے:

ہم کو ہی جبر کے ماحول میں جینا پڑے گا

ہم کو ہی صبر کی طاقت بھی ودیعت ہوئی ہے

یہ شہیدوں کی وراثت ہے، غنیموں کی نہیں

کیا وراثت بھی کبھی مالِ غنیمت ہوئی ہے

مزید : کالم