تحریک انصاف اور اندر کا دشمن

تحریک انصاف اور اندر کا دشمن
 تحریک انصاف اور اندر کا دشمن

  

عمران خان نے جنوبی پنجاب میں یکے بعد دیگرے دو جلسوں سے خطاب کیا، چشتیاں اور لیہ میں ان کے جلسے پہلی بار ہوئے اور کامیاب بھی رہے، انہوں نے ان جلسوں کے لئے جنوبی پنجاب ہی میں قیام کیا اور لودھراں میں جہانگیر خان ترین کے عالیشان فارم ہاؤس پر ٹھہرے لودھراں میں پارٹی کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک سچی بات کہہ دی ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے، کیونکہ اختلافات بہت بڑھ گئے ہیں اور کچھ لوگ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کر کے اسے نقصان پہنچا رہے ہیں چلو یہ اچھی بات ہے کہ پارٹی کا چیئرمین کسی خوش فہمی کا شکار نہیں اور اسے یہ بھی پتہ ہے کہ اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

اب چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اس موقع پر جہانگیر خان ترین سے مخاطب ہوتے اور انہیں سمجھاتے کہ وہ پارٹی میں اختلافات کو کم کریں، بڑھائیں ناں۔ مگر یہ بات وہ کیسے کہہ سکتے تھے، وہ تو انہی کے ڈیرے پر بیٹھے تھے۔ وہاں بیٹھ کے ان کا یہ کہنا غالباً جہانگیر ترین کے مخالفوں کو یہ پیغام دے گیا کہ اختلافات کی بجائے انہیں جہانگیر خان ترین کی بات ماننی چاہئے۔

عمران خان کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ جنوبی پنجاب میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ نچلی سطح کے نہیں بلکہ اوپر کی سطح سے شروع ہوتے ہیں جو اب ایک بڑی حقیقت بن چکے ہیں۔ آج تحریک انصاف کے ہرادنیٰ و اعلیٰ کو معلوم ہے کہ پارٹی میں خان اور شاہ گروپ کام کر رہے ہیں اور دونوں کی خواہش ہے کہ پارٹی پر تسلط حاصل کر لیں خان گروپ کی سربراہی جہانگیر خان ترین اور شاہ گروپ کی مخدوم شاہ محمود قریشی کر رہے ہیں ابھی تک خان گروپ کا پلڑا بھاری ہے اور شاہ گروپ کو بڑی تیزی کے ساتھ دیوار سے لگایا جا رہا ہے جہانگیر خان ترین اور تحریک انصاف جنوبی نپجاب کے صدر اسحاق خان خاکوانی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ جنوبی پنجاب سے شاہ محمود قریشی کا اثر و رسوخ ختم کر دیا جائے۔ چونکہ جہانگیر خان ترین عمران خان کے زیادہ قریب ہیں اور وسائل خرچ کرنے میں بھی بخل سے کام نہیں لیتے اس لئے وہ بڑی تیزی سے جنوبی پنجاب میں اپنے ہم خیال افراد کو اکٹھا کر رہے ہیں پیشتر پارٹی عہدیدار بھی ان کی مرضی سے بنائے گئے ہیں اور آئندہ انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی جہانگیر خان ترین گروپ سب سے زیادہ وعدے وعید کر رہا ہے ایک ایک حلقے میں دس دس امیدوار موجود ہیں اور سب کی خواہش ہے کہ پارٹی ٹکٹ انہیں ملے یہ صورت حال تحریک انصاف کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور عمران خان نے بالکل درست کہا ہے کہ اصل دشمن یہ اختلافات ہیں جو ظاہر ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ساتھ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

آج سے چند ماہ پہلے تک مخدوم شاہ محمود قریشی ملتان میں تحریک انصاف کے گاڈ فادر سمجھے جاتے تھے۔ اس کی ہر تنظیم ان کے زیر اثر تھی۔ سٹی، ضلعی اور ڈویژنل عہدیدار ان کا دم بھرتے تھے مگر پھر اچانک ایسی ہوا چلی کہ شاہ محمود قریشی تنہا ہوتے چلے گئے۔

جہانگیر خان ترین اور اسحاق خان خاکوانی نے جادو کی ایسی چھڑی چلائی کہ سب ان کے دستِ حق پرست پر بیعت کرتے چلے گئے ابھی چند روز پہلے شاہ محمود قریشی کے انتہائی قریبی ساتھی، احمد حسین ڈیہڑ بھی انہیں چھوڑ کر خان گروپ میں شامل ہو گئے حالانکہ شاہ محمود قریشی انہیں پیپلزپارٹی سے تحریک انصاف میں لائے تھے۔

جوں جوں پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو معلوم ہو رہا ہے کہ طاقت کا مرکز اب خان گروپ بن چکا ہے، وہ شاہ محمود قریشی سے کنارہ کش ہوتے جا رہے ہیں۔

ملک احمد حسین ڈیہڑ قومی حلقہ 151 سے امیدوار ہیں، جہاں سے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور سکندر بوسن بھی انتخاب لڑتے رہے ہیں انہیں خان گروپ نے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلا دیا ہے، جہانگیر خان ترین شاہ محمود قریشی جیسے تجربہ کار سیاستدان تو نہیں اور انہیں میدان سیاست میں آئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا مگر وہ سیاست کے مروجہ داؤ پیچ شاہ محمود قریشی سے زیادہ جانتے ہیں انہوں نے ضلع لودھراں کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے رکھا ہے حال ہی میں وہ اختر خان کانجو کو بھی تحریک انصاف میں لے آئے ہیں جو علاقے کی ایک بڑی سیاسی شخصیت ہیں اور ایم این اے بھی رہ چکے ہیں یوں وہ بہت سے شہروں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں دوسری طرف شاہ محمود قریشی کا اثر و رسوخ کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔

تحریک انصاف ابھی تک ایک سیاسی جماعت نہیں بن سکی اور تنظیمی حوالے سے اس میں بہت سی کمزوریاں موجود ہیں اگرچہ عمران خان کی پارٹی پر مضبوط گرفت ہے لیکن نچلی سطح پر جو نظم و ضبط نظر آنا چاہئے اس کا فقدان دکھائی دیتا ہے جس جماعت میں پارٹی کے وائس چیئرمین اور جنرل سکریٹری کی آپس میں نہ بنتی ہو اور دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہ ہوں اس جماعت میں ڈسپلن کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ دونوں عمران خان کی موجودگی میں تو ایک سٹیج پر بیٹھ جاتے ہیں، مگر خود کبھی آپس میں نہیں ملتے بلکہ اندر ہی اندر پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کو یہ احساس دلانے کے جتن کر رہے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں عہدوں اور ٹکٹوں کا فیصلہ وہ کریں گے۔ جہانگیر خان ترین گروپ کی طرف سے تقریباً سب مقامی پارٹی رہنماؤں کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو صرف ایک ایم این اے کی ٹکٹ ملے گی جبکہ شاہ محمود قریشی اپنے بیٹے زین قریشی کو قومی حلقہ 148 سے انتخاب لڑانے کی مکمل تیاری کر چکے ہیں، جو ان کا آبائی حلقہ بھی ہے، جبکہ وہ خود قومی حلقہ 150 سے انتخاب لڑ کے رکن اسمبلی بنے تھے اور اس بار بھی غالباً وہ اسی حلقے سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔

یہ تو معلوم نہیں شاہ محمود قریشی یہ معاملات عمران خان کے نوٹس میں لائے ہیں یا نہیں تاہم ان کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ جہانگیر خان ترین کے اس طرز عمل سے خاصے نالاں ہیں جہانگیر خان ترین نے جب سے لودھراں کا ضمنی انتخاب جیتا ہے تب سے وہ جنوبی پنجاب کی سیاست میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں انہوں نے لودھراں اور شجاع آباد میں اپنے ذاتی وسائل سے بے شمار ترقیاتی کام کرائے ہیں انہوں نے اس مقصد کے لئے حکومتی فنڈز کا انتظار نہیں کیا دوسری طرف شاہ محمود قریشی ہیں جنہوں نے سوائے سیاست اور بیان بازی کے اپنے حلقے سمیت کہیں بھی کوئی ترقیاتی یا فلاحی کام نہیں کرایا یہ وہ پہلو ہے جس کے باعث جہانگیر خان ترین ان سے بہت آگے نکل گئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ اب مخدومی سیاست کا دور نہیں بلکہ عوامی سیاست کرنی پڑتی ہے جس کے لئے ذاتی وسائل بھی خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

عمران خان شاید تحریک انصاف میں فیورٹ ازم کے قائل نہ ہوں اور کارکردگی کی بنیاد پر ٹکٹیں جاری کریں ویسے بھی وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تحریک انصاف جب برسرِ اقتدار آئے گی تو میرٹ کو عام کرے گی لیکن ان کے نیچے جتنا بھی نظام چل رہا ہے وہ تو اس نظریئے کی بنیاد پر نہیں چل رہا چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹی ہوئی سیاسی جماعت عمران خان کے جلسے کی خاطر تو اکٹھی ہو جاتی ہے کیونکہ اسٹیج پر انہیں شکل دکھانی ہوتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ انتخابات میں کیا پارٹی کے رہنما ذاتی و گروہی سیاست سے بالا تر ہو کر تحریک انصاف کے لئے کام کریں گے؟ کہا یہ جا رہا ہے کہ عمران خان نے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی جلد بازی میں جو غلطی کی تھی، اس نے پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا تحریک انصاف ملتان کا ہر چھوٹا بڑا عہدیدار گلے میں امیدوار ایم این اے یا ایم پی اے کی تختی لٹکائے گھوم رہا ہے دشمنی اور مخالفت اس قدر زیادہ ہے کہ کئی بار اجلاسوں میں مارکٹائی بھی ہو چکی ہے عام انتخابات تک یہ صورت حال رہی تو عمران خان کی مقبولیت کے باوجود فتح کیسے حاصل ہو سکے گی؟ یہ ہے وہ اندر کا دشمن جس کی طرف عمران خان نے اشارہ کیا ہے ان کی بے چارگی ملاحظہ فرمائیں کہ وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو اس انتشار سے نہیں روک سکتے، کارکنوں سے توقع کر رہے ہیں کہ وہ آپس کے اختلافات بھلا کر ایک ہو جائیں۔

2013ء کے انتخابات میں جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی پر الزامات لگے تھے کہ انہوں نے تحریک انصاف کی ٹکٹیں کروڑوں روپے میں بیچیں، اس بار تو تحریک انصاف کی حکومت بننے کی افواہیں ہیں، کیا ٹکٹوں کا ریٹ بھی آسمان پر چلا جائے گا؟ کیا ملتان اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے ٹکٹوں کی تقسیم پر وہ جہانگیر ترین کی سفارشات کو رد کر سکیں گے۔

اگر کہیں کسی ٹکٹ کے معاملے پر جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی میں جوڑ پڑ گیا تو ان کا فیصلہ کس کے حق میں آئے گا اور ایسے فیصلے کی صورت میں وہ محروم رہ جانے والے فریق کو کیا راضی رکھ سکیں گے؟ ایسے سوالات بے معنی نہیں، لوگ تو آج بھی یہ الزام دیتے ہیں کہ کپتان اے ٹی ایم مشینوں میں گھرے ہوئے ہیں کیا یہ اے ٹی ایم مشینیں پارٹی میں انتشار پھیلانے کا بھی حق رکھتی ہیں؟ کپتان نے جلد ہی اس پہلو پر توجہ دے کر سخت فیصلے نہ کئے تو آنے والے انتخابات میں ایک مقبول جماعت ہونے کے باوجود شاید وہ فتح سے ہمکنار نہ ہو سکے۔

مزید : کالم