کیا دہشت گردی روکی جا سکتی ہے؟ (2)

کیا دہشت گردی روکی جا سکتی ہے؟ (2)
کیا دہشت گردی روکی جا سکتی ہے؟ (2)

  

آپ ایک فرسودہ سا اور گھسا پٹا سا جملہ کئی سیاستدانوں اور تجزیہ کار دانشوروں کے منہ سے نکلتا سنتے رہے ہوں گے کہ: ’’پاکستان حالتِ جنگ میں ہے۔‘‘۔۔۔ افسوس کہ اس جملے کی معنویت پر کماحقہ غور نہیں کیا جاتا۔ پاکستان اگر حالتِ جنگ میں ہے تو 17سالوں سے اسے کس دشمن کا سامنا ہے؟ کیا اس دشمن کا نام ’’دہشت گرد‘‘ نہیں؟

اور اگر ہے تو کیا ہم نے اس دہشت گرد کو یک قلم ہلاک یا ختم کرنے کی کوئی پیش بندی کی ہے؟۔۔۔ شیر دل، راہِ نجات، ضربِ عضب اور ردالفساد آپریشنوں کی پراگرس ہرچند کہ قابلِ تعریف و ستائش ہے لیکن پھر بھی چار سدہ یونیورسٹی اور اب زرعی تربیتی ادارے پر حملے کس بات کی نشاندہی کرتے ہیں؟ کیا حالتِ جنگ میں ہوتے ہوئے بھی ہم جنگوں کے ماضی کو بھول گئے ہیں۔۔۔؟

ذرا یاد کیجئے جب پہلی عالمی جنگ (1914-18ء)میں فریقین نے خندقیں کھود لی تھیں، توپخانے کی گولہ باری اور مشین گن کی تڑتڑاہٹ بے اثر ہوگئی تھی اور لوگ جب میدانِ جنگ کی حرکیت (Mobility) بحال کرنے سے عاجز آ چکے تھے تو کیا ہوا تھا؟۔۔۔ کیا جرمنی نے ٹینک ایجاد کرکے یہ ’’حرکیت‘‘ بحال نہیں کر دی تھی؟ کیا نوزائیدہ ائرپاور جو 1903ء میں ایجاد ہوئی تھی اس جنگ میں بمباری کرنے کے لئے استعمال نہیں کی گئی تھی؟ اور پھر دوسری عالمی جنگ میں تو جرمنی نے بلز کریگ کا ایک نیا تصور اور ایک نئی اصطلاح عسکری تاریخ کو دے دی تھی جس کا مطلب اور مفہوم تھا: ’’برق آسا جنگ‘‘ یعنی ’’بجلی کی سی تیز جنگ‘‘۔۔۔ کیا اس بلز کریگ نے سارے یورپ (ماسوائے جزائر برطانیہ) کو جرمنی کے قدموں میں نہیں ڈال دیا تھا؟ کیا برطانیہ نے اسی ’’حالتِ جنگ میں‘‘ راڈار ایجاد کرکے ہٹلر کی ’’بیٹل آف برٹن‘‘ کو ناکام نہیں کر دیا تھا؟ اور جب 1945ء میں جرمنی کے ہتھیار ڈالنے کے بعد بھی جاپان نے اتحادیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا تھا تو امریکہ نے جوہری بم استعمال کرکے اس جنگ کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا دیا تھا؟

قارئین محترم! یہ ہوتی ہے حالتِ جنگ کے عالم میں گرفتار ہونے والوں کے ردِعمل کی کیفیت۔۔۔ ہم پاکستانی معلوم نہیں کس قسم کی حالتِ جنگ میں ہیں کہ دو دہائیوں سے اپنے 70ہزار افراد شہید کروا لئے ہیں اور ابھی تک حالتِ جنگ سے باہر نہیں نکل سکے۔۔۔!

خدارا سوچئے کہ حالت جنگ کے اس تعطل (Stalemate) کو کیسے توڑا جا سکتا ہے؟ افواجِ پاکستان کو سلام کہ انہوں نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن اتنی قربانیوں کے بعد بھی اگر جنگ میں تعطل ہی جاری رہے تو اس کا علاج کرنا چاہیے۔

کوئی ایسا انقلابی ہتھیار ایجاد کرنا چاہیے جیسا ٹینک یا ہوائی جہاز یا آبدوز یا راڈار یا نیوکلیئر بم تھا جس نے نوعِ انسانی کو لاکھوں ہلاکتوں سے بچا لیا۔ ہم اگر 70ہزارہلاکتیں برداشت کرکے بھی ہنوز حالتِ جنگ کے حصار میں قید اور پابجولاں ہیں تو ان بیٹریوں کو کاٹ دینا چاہیے۔

یہ شائد 1990ء کے عشرے کی بات ہے۔ میرا ایک عزیز (داماد) ائر ڈیفنس میں میجر تھا اور ملیر کینٹ میں ائر ڈیفنس ٹریننگ سکول میں تعینات تھا۔ سکول کو یہ چیلنج ملا کہ ایک ایسا ڈرون ایجاد کیا جائے جس کو فضا میں اُڑا کر اس پر زمین سے گولہ باری کرکے تباہ کیا جا سکے۔

یہ فضائی دفاع کی ایک ریگولر پریکٹس اور سالانہ ایکسرسائز ہوتی ہے کہ ساحل کراچی پر سے ایک ڈرون اڑایا جاتا ہے جو بحیرۂ عرب کے پانیوں کے اوپر پرواز کرتا ہے۔ اس کو زمین پر سے توپخانے (ائر ڈیفنس) سے فائر کرکے مار گرایا جاتا ہے۔

اس سے پہلے یہ ڈرون یورپ اور امریکہ سے خریدے جاتے تھے اور ان کی قیمت ڈالروں میں ادا کی جاتی تھی اور جو خاصے مہنگے تھے۔ سکول کو جب یہ مشن سونپا گیا تو ایک ٹیم ترتیب دی گئی جس نے کراچی یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ سے رابطہ کیا اور انہیں اس جاب کی تکمیل میں مدد دینے کو کہا۔۔۔ یہ کہانی تو دراز ہے لیکن چار ماہ میں وہ ڈرون تیار کر لیا گیا اور جس پر لاکھوں ڈالر لاگت آتی تھی اس کو ایک دو لاکھ روپوں میں مکمل کرکے فوج کے حوالے کر دیاگیا۔

آج بھی یہی خانہ ساز ڈرون پاکستان میں تیار کئے جاتے ہیں اور طیارہ شکن رول میں لگی طیارہ شکن توپوں کی لائیو فائرنگ کی پریکٹس کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

میرے عزیز کا کہنا ہے کہ اگر ہم پاکستانی تین عشرے قبل اس چیلنج میں سرخرو ہوئے تھے تو آج اسی نوع کے ایک نسبتاً مشکل یا پیچیدہ چیلنج کو سر کیوں نہیں کر سکتے؟ آج تو باقاعدہ ان ڈرونوں کی تولید(پروڈکشن)، پریکٹس، پراگرس، تحقیق و تفتیش کا پورا ایک شعبہ قائم ہے جس میں ریکی اور مسلح ڈرون تیار کئے جا رہے ہیں۔ ان ڈرونوں کا کامیاب تجربہ بھی کچھ عرصہ پہلے کیا جا چکا ہے اور آج بھی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر ان ڈرونوں سے کام لیا جاتا ہے۔

(یاد کیجئے ’’براق‘‘ ڈرون اور اس میں نصب میزائل ’’برق‘‘ کہ جس کا کامیاب تجربہ شمالی وزیرستان میں کیا گیا تھا) سنا ہے ہماری مسلح افواج اس ضمن میں چین اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہی ہیں لیکن اس استفادے کی رفتار اور اس کا حجم دونوں سست روی کا شکار ہیں۔ GHQ کا متعلقہ ڈائریکٹوریٹ / برانچ اس طرف زیادہ سرعت سے آگے بڑھ سکتا ہے۔

مجھے یقین ہے اگر تین عشرے پہلے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ء فزکس کے اساتذہ ، طلباء اور طالبات ڈرون ٹیکنالوجی کی مبادیات کو سمجھ کر اس کو آگے بڑھانے اور اس پراجیکٹ کی تکمیل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے تو آج انہی اساتذہ یا نوجوان طلباء کو یہ ٹاسک کیوں نہیں سونپا جا سکتا؟ GHQ کی متعلقہ برانچ یا ڈائریکٹوریٹ اپنے طور پر اس مشن کی تکمیل کرتا رہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دفاعی بجٹ کا ایک حصہ ایسے ہی پراجیکٹوں کی تکمیل کے لئے یونیورسٹیوں کے لئے بھی مختص کیا جانا چاہئے۔

امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ وہ لوگ وردی پوش نہیں ہوتے لیکن وردی پوشوں سے کہیں آگے نکل کر ایسے ایسے تکنیکی اور پیشہ ورانہ عقدے وا کرتے ہیں جن کا تصور فوجیوں کے اذہان میں نہیں آ سکتا!جدید اسلحہ جات اور ایمونیشن کی ایجاد و تشکیل میں سویلین اداروں کا جو رول ہے اس کے سکیل اور اس کی تاثیر کو دیکھنا ہو تو امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کو دیکھئے اور ساتھ ہی مغربی یورپ کے ان سویلین اداروں کی مثالیں بھی سامنے رکھئے جو ہلکے ہتھیاروں (سمال آرمز) سے لے کر بھاری ہتھیاروں اور گولہ بارود کی ایجاد و تولید (Discovery & Production) میں پیش پیش ہیں۔ پاکستان کے وزیر امور سائنس و ٹیکنالوجی اس طرف توجہ کیوں نہیں دے رہے؟

اس سلسلے میں ایک اور جانب اشارہ بھی شائد کم اہم نہ ہو۔۔۔ سرد جنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ سوویت یونین اور امریکہ کے بہت سے جنگی ہتھیاروں کے تکنیکی اور خفیہ راز دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی وساطت سے ایک دوسرے کو فراہم ہوتے رہے تھے۔

اس موضوع پر اتنا زیادہ مواد موجود ہے کہ آپ برسوں اس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ چوری، سمگلنگ، رشوت ستانی اور سیکس کی ہنگامہ گستریوں سے لبریز اور بھرپور اس سرد جنگ کے دور کے مشہور و معروف ڈبل کراس ایجنٹوں کی جاسوسی کہانیاں اور فلمیں موسم سرما کی سرد راتوں میں شب خوابی کے کمروں میں ہیٹروں (Heaters) کے سامنے بیٹھ کر پڑھیں اور دیکھیں تو اجالا پھیلنے تک نیند کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی!

پاکستان کی آئی ایس آئی کا وہ شعبہ جو بیرونی ممالک کے دفاعی پیداوار کے اداروں کی جدید مصنوعات پر ’’نظر‘‘ رکھتا ہے کیا اس کو یہ ٹاسک نہیں سونپا جا سکتا کہ وہ جدید ڈرون ساز اداروں/ورکشاپوں/ لیبارٹریوں میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو اپنے ’’دامِ ارادت‘‘ میں لائے اور ان سے وہ راز حاصل کرے جو امریکی سائنس دان اور ہنرمند آج بھی افغانستان میں دہشت گردوں کو ٹریک کرکے ان کو ہلاک کرنے کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں؟ مجھے امید ہے کہ پاکستان اس آئیڈیاسے یکسر غافل نہیں ہوگا۔ لیکن اس سلسلے میں درجِ ذیل شعر کی تاثیر اور اس کے عسکری امکانات پر مزید توجہ کی ضرورت ہے:

وقت پر کافی سے قطرہ، ابرِ خوش ہنگام کا

جل گیا جب کھیت، مینہ برسا تو پھر کس کام کا

پاکستان کے متعلقہ عسکری اربابِ اختیار کو چاہیے کہ وہ اس موضوع پر عاجلانہ غوروخوض کریں، تمام متعلقہ ادارہ ہائے تولید میں کمانڈ کے لیول کو اپ گریڈ کریں، سویلین سائنس دانوں اور انجنیئروں کی تجاویز و آرا (In-put) کے حجم کو وسعت دیں، پاک افغان سرحد کے ان حصوں کی ریکی پر زیادہ زور دیں جہاں سے یہ دہشت گرد پاکستان آ رہے ہیں ، افغان مہاجرین جو 37سال سے یہاں بیٹھے ہیں، ان کو واپس بھیجنے میں اگر بے دردی اور سنگدلی (Ruthlessness) کا مظاہرہ بھی کرنا پڑے تو ضرور کریں، ڈرون (مسلح اور غیر مسلح ) ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے چین یا دوسرے ممالک سے رابطہ کریں اور امداد مانگیں، ان کو اپنی مجبوری اور زبوں حالی کی سٹوری سنائیں اور ان کے سامنے ایسے اہداف اور منصوبے رکھیں جن کو بروئے کار لا کر پاکستان دہشت گردی کی اس لعنت سے چھٹکارا پا سکتا ہے۔

چین کو CPECکے تناظر میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ اگر پاک آرمی کا سیکیورٹی ڈویژن چینیوں کو دہشت گردانہ حملوں سے بچا سکتا ہے تو کیا اسی ڈویژن کو اٹھا کر باجوڑ سے طورخم تک کے حصہء سرحد پر تعینات نہیں کیا جا سکتا؟ اور پاکستانی جانوں کی بے دریغ قربانیوں کو روکا نہیں جا سکتا؟۔۔۔ کیا چینی ماہرین کی جانیں، ہمارے پاکستانی جوانوں ، افسروں اور طالب علموں سے زیادہ قیمتی ہیں؟ (ختم شد)

مزید : کالم