سابق یمنی صدر کی سعودی عرب کو مذاکرات کی پیشکش

سابق یمنی صدر کی سعودی عرب کو مذاکرات کی پیشکش

ریاض(آن لائن)یمن کے سابق صدر اور باغی گروپ کے رہنما علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب کو صلح کی پیشکش کر دی۔ ایک بیان میں عبداللہ صالح کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب یمن کی ناکہ بندی ختم کردے تو وہ ایک نئی شروعات کے لیے تیار ہیں۔ سعودی اتحاد نے صلح کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ علی عبداللہ صالح نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایک نئی شروعات پر تیار ہیں، اگر سعودی اتحاد شمالی یمن کی ناکہ بندی ختم کر دے اور حملے روک دے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ہمسایہ ممالک کے بھائیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی جارحیت اور ناکہ بندی ختم کریں اور ہم ایک نئی شروعات کر سکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے علی عبداللہ صالح کی فورسز اور حوثی باغی آپس میں لڑ رہے ہیں، جس سے دلبرداشتہ ہو کر انہوں نے صلح کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے صالح کے بیان کو اتحاد کے خلاف بغاوت قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ عبداللہ صالح کو 2012ء میں اس وقت اقتدار چھوڑنا پڑا، جب ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گئے تھے۔

مزید : عالمی منظر