کپاس کی فصل کو غیر معمولی نقصان کے باعث پیداواری ہدف حاصل نہ ہونے کا خدشہ

کپاس کی فصل کو غیر معمولی نقصان کے باعث پیداواری ہدف حاصل نہ ہونے کا خدشہ

 کراچی (این این آئی)غیر پیشہ وارانہ حکمومتی پالیسیوں اور درست موسمیاتی پیشگوئیاں نہ ہونے کے باعث پاکستان میں ایک بار پھر کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف حاصل نہ ہونے کا خدشہ ۔کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی (سی سی اے سی) اور حکومت پنجاب کی جانب سے کپاس کے مجموعی ملکی اور صوبائی نظرثانی شدہ اہداف بھی حاصل نہ ہونے کا اندیشہ ۔چیئر مین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ کاٹن ائیر 2016-17ء میں پاکستان میں روئی کی 1کروڑ 7 لاکھ بیلز پیدا ہوئی تھیں جن میں سے 69 لاکھ 40 ہزار پنجاب میں جبکہ 37 لاکھ 87 ہزار سندھ میں پیدا ہوئی تھیں جبکہ حکومت پاکستان نے کاٹن ائیر 2017-18ء کیلئے اولین پیداواری ہدف 1 کروڑ 40 لاکھ بیلز (170 کلو گرام) مختص کیا تھا جس میں سے 1 کروڑ بیلز پنجاب میں جبکہ 40 لاکھ بیلز سندھ میں پیدا ہونے بارے اعدادوشمار جاری کیے گئے تھے جبکہ حکومت پنجاب نے بھی رواں سال پنجاب میں 1 کروڑ روئی کی بیلز پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا جبکہ بعد میں کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی (سی سی اے سی) اور حکومت پنجاب نے نظر ثانی شدہ ہدف کے مطابق پنجاب میں روئی کی 88 لاکھ بیلز پیدا ہونے کے اہداف مقرر کیے تھے جبکہ کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے گزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 30 نومبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر 1کروڑ 1 لاکھ 32 ہزار بیلز(155 کلو گرام) پیدا ہوئی ہیں۔

جن میں سے حیران کن طور پر پنجاب میں کپاس کی پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہوئی ہے جبکہ سندھ میں معمولی زیادہ ہے جبکہ توقع ظاہر کی جار ہی ہے کہ پاکستان میں رواں سال کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار ایک کروڑ 10 لاکھ بیلز (155 کلو گرام) کے لگ بھگ ہو گی ۔انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے رواں سال کاشتکار تنظیموں کی سخت مخالفت کے باوجود پنجاب بھر میں 15 اپریل سے قبل کپاس کی کاشت پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے باعث ساہیوال ،ملتان اور فیصل آباد ڈویژنز میں بالخصوص جبکہ بہاولپور ڈویژن میں بالعموم کاشتکاروں نے کپاس کی بجائے دوسری فصلیں کاشت کر لیں جس کے باعث پنجاب میں کپاس کے کاشت شدہ رقبے میں غیر معمولی کمی واقع ہو گئی لیکن اس کے باوجود محکمہ زراعت حکومت پنجاب ،پنجاب بھر میں پچھلے سال کے مقابلے میں کپاس کی کاشت زیادہ ہونے بارے رپورٹس شائع کرتا رہا ۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پچھلے چند سالوں سے محکمہ موسمیات کی جانب سے درست موسمیاتی پیش گوئیاں نہ ہونے سے کپاس کی فصل کو غیر معمولی نقصان پہنچ رہا ہے جس میں خاص طور پر بارش ہونے یا نہ ہونے یا درجہ حرارت میں کس مہینے میں غیر معمولی کمی یا بیشی بارے پیش گوئیاں شامل ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال اکتوبر میں ملکی تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کے باعث کپاس کی فصل پر سنڈیوں اور کیڑوں کے غیر معمولی حملے کی وجہ سے کپاس کی فصل کو غیر معمولی نقصان پہنچا لیکن محکمہ موسمیات نے اکتوبر میں درجہ حرارت بارے کوئی پیش گوئی نہیں کی جبکہ قبل ازیں سندھ اور پنجاب کے بیشتر کاٹن زونز میں ہونے والی بارشوں کی بھی موسمیاتی پیش گوئیاں نہ ہونے کے باعث کپاس کی فصل کو نقصان پہنچا تھا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ محکمہ زراعت میں پیش وارانہ اہلیت کے حامل افسروں کی تعیناتیاں کرے جبکہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ محکمہ موسمیات کو جدید ترین آلات سے لیس کرے تاکہ درست موسمیاتی پیش گوئیاں اور پیشہ وارانہ زرعی پالیسیوں کے باعث پاکستان کی زراعت دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر سکے ۔

مزید : کامرس