پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام اسد مفتی کے ساتھ شام

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام اسد مفتی کے ساتھ شام

لاہور(فلم رپورٹر) پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام ’’پنجابی بیٹھک‘‘ میں معروف ادیب، شاعر اسد مفتی کے ساتھ ایک شام کا انعقاد ہوا۔ جس کی صدارت معروف دانشور، شاعر، ادیب، ناول نگار اور چیئرمین پنجابی کانگریس فخر زمان نے کی۔ اظہار خیال کرنے والوں میں سرفراز سیّد، مدثر اقبال بٹ، بابا نجمی، خالد خواجہ، ہارون عدیم، نیلم احمد بشیر اور ڈاکٹر صغرا صدف شامل تھیں۔ مقررین نے کہا کہ اسد مفتی بیرون ملک مقیم ہونے کے باوجود اپنی دھرتی، ثقافت اور ماں بولی پنجابی سے ہمیشہ سے اپنا ناطہ جوڑے ہوئے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے پنجابی اخبار بھلیکھا کو اپنی شاعری اور کالم ارسال کرتے رہتے ہیں۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں اپنی ماں بولی کے فروغ کی بات کرتے ہیں جس کی وہ خود عملی تصویر ہیں۔ چیئرمین پنجابی کانگریس فخر زمان نے کہا کہ بیرون ملک مقیم ادیبوں کو چاہیے کہ صوفیاء کے پیغام کو مقامی لوگوں کی زبان میں پیش کریں تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ ہم کتنے بڑے اثاثے کے مالک ہیں۔

اور آج اس کی ضرورت پوری شدت سے محسوس بھی کی جا رہی ہے۔ مغرب اپنے بے ہودہ کلچر سے راہِ فرار اختیار کرنے کو تیار ہے۔ انھوں نے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صغرا صدف کی صوفیاء کے پیغام اور کلچر کے فروغ کے سلسلے میں کوششوں کی بھر پور تعریف کی۔ ڈاکٹر صغرا صدف نے کہا کہ اسد مفتی ایک ترقی پسند ہے جو بہتر معاشرے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ انسان کے حقوق کے لیے ہمیشہ سر گرم رہتا ہے۔ جس طرح ہر شاعر، ادیب کا لکھنے کا خاص انداز ہوتا ہے اسی طرح اسد مفتی کا لباس اور منفرد حُلیہ انفرادیت کا حامل ہے۔ وہ بیرون ملک پاکستان کا نمائندہ ہے۔ تقریب میں نظامت خاقان حیدر غازی نے کی۔

مزید : کلچر