پانی نعمتِ ربِ جلیل ہے

پانی نعمتِ ربِ جلیل ہے

ماحولیات اس وقت ایک گرما گرم موضوع ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے ضرر سے بخوبی آگاہ ہیں اس لئے بھی کہ یہ تبدیلیاں ان کے اپنے ہاتھوں سے پیدا کی گئی ہیں۔ خلاء، فضا، زمین اور سمندر، انسان نے کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جسے اس نے آلودہ نہ کیا ہو۔ دانشور اب سرجوڑے بیٹھے ہیں کہ عالمی آبادی کا تحفظ کس طرح کرنا ہے؟

ہمارا شمار تیسری دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو ترقی کی جانب دھیرے دھیرے رینگ رہے ہیں۔ ماحولیات اُن لوگوں کے لئے ایک دقیق موضوع ہے جو بھوک، افلاس، ناقص غذا اور غیر مصفا پانی کے ساتھ ساتھ جہالت اور بے علمی سے پیدا ہونے والے مسائل سے دو چار ہیں۔ صاف پانی کا حصول موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ شہروں میں صورت حال اس قدر گھمبیر نہیں جس قدر قصبوں اور دیہاتوں میں ہوچکی ہے۔ عوامی صحت متاثر ہو رہی ہے اور بیماریاں دبے پاؤں بڑھتی چلی آرہی ہیں۔ سوچ کی اس کیفیت میں جب میں کشید شدہ پانی کی بوتل سے مُنہ لگاتی ہوں یا کھانا تیار کرتے وقت فلٹر شدہ پانی استعمال کرتی ہوں تو ایک چبھن سی دل میں ضرور محسوس کرتی ہوں۔ ان لاکھوں لوگوں کا خیال ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو پانی کے ضمن میں احتیاطی تدابیر سے محروم اور آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔

مجھے اچھے دنوں کا خیال آتا ہے جب پیاس سے بے حال ہم لوگ مٹی کے گھڑوں سے پانی لیتے تھے یا ماشکی کی مشک کے مُنہ سے ہاتھوں کی اوک بنا کر پانی پیتے تھے۔ تب پانی میں تازگی کی خوشبو اور ایک نرول ذائقہ ہوتا تھا۔ اب کشید شدہ پانی کی بوتلیں اور ڈسپنسر موجود ہیں لیکن تازگی اور ذائقے کا احساس عنقا ہے۔

پانی اور خواتین کا گہرا ساتھ اور رشتہ ہے۔ صبح کے وضو سے لے کر رات کے وضو تک وہ سارا دن پانی ہی کا زیادہ استعمال کرتی ہیں۔ کھانے کی تیاری، برتن مانجھنے، کپڑے دھونے، فرش صاف کرنے غرضیکہ کسی نہ کسی طور پانی ان کے استعمال میں رہتا ہے۔ پھر اُن علاقوں میں جہاں پانی پہنچ سے دور ہے، پانی ڈھونا بھی عورتوں ہی کی ذمہ داری ہے۔ سرپر برتن اُٹھائے وہ طویل مسافتیں طے کرتی اور کنوؤں، جھرنوں اور تالابوں سے پانی لاتی ہیں اور روزمرہ کی ضروریات پوری کرتی ہیں۔

کبھی دیہاتوں میں کنوؤں سے پانی حاصل کرنا بھی انہی کا کام تھا۔ پنگھٹ پر کنویں کی چرخی کے چلنے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں اور عورتوں کی باتیں بھی رواں رہتی تھیں۔ اب وہ کنویں رہے نہ ہی وہ پنگھٹ۔ چرخیوں کی گھمر گھمر رہی نہ ہی وہ نسوانی سرگوشیاں، دلکش آوازیں اور نقرئی قہقہے رہے۔

پانی زندگی ہے اور زندگی تخلیق کرنے کی قوت اسے ربِ کریم سے ودیعت ہوئی ہے۔ ہم پانی کی اہمیت اور اس کی گوناگوں خصوصیات سے پوری طرح آگاہ نہیں اس لئے اس کی قدر اس طرح نہیں کرتے جس طرح کہ قدر کرنے کا حق ہے۔ انسانی زندگی اس کے بغیر تین روز سے زیادہ کاٹ نہیں سکتی۔ حکومتوں کا فرض ہے کہ اپنی عوام کو دیگر سہولتوں کے ساتھ ساتھ مصفا پانی ہر صورت مہیا کریں۔ صاحبِ ثروت خواتین و حضرات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مقامات پر جہاں مصفا پانی میسر نہیں ہے، ایسا اہتمام کریں کہ لوگ صاف پانی حاصل کرسکیں اور انہیں دعائیں دیں۔ قابلِ ستائش ہیں وہ لوگ اور رفاعی ادارے جو عوام الناس کی سہولت کے لئے فلٹریشن پلانٹ لگا رہے ہیں۔

مجھے خوشی ہے کہ میں ایک بین الاقوامی فلاحی تنظیم سے وابستہ ہوں جو عام لوگوں کی بہتری و بہبود کے لئے پورے خلوص سے فعال ہے۔

صاف پانی کی فراہمی، تعلیم کے فروغ اور صحت عامہ کے امور پر میری خاص توجہ رہتی ہے۔ میرے علم میں ہے کہ کتنی ہی ایسی جگہوں پر خواتین نے فلٹریشن پلانٹ برائے حصولِ ثواب نصب کرائے ہیں جہاں ان کی اشد ضرورت تھی۔ ایک اچھے فلٹر پلانٹ کی تنصیب پر 15لاکھ کے لگ بھگ رقم صرف ہوتی ہے لیکن اس سے حاصل ہونے والے فوائد کے سامنے یہ رقم کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ خلوص اور عزم ہے ان درد مند دل رکھنے والی خواتین کا جو اپنے اِردگرد کے لوگوں کا احساس رکھتی ہیں اور اپنے کاموں کا اجر صرف اپنے ربِ کریم سے مانگتی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1