الیکشن کے بروقت انعقاد پر بے یقینی کے بادل منڈلارہے ہیں : سراج الحق

الیکشن کے بروقت انعقاد پر بے یقینی کے بادل منڈلارہے ہیں : سراج الحق

لاہور(جنرل رپورٹر) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن پر بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں اور کچھ لوگ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت 2018ء کے انتخابات کو گردوغبار کے حوالے کررہے ہیں،جماعت اسلامی بروقت الیکشن چاہتی ہے تاکہ ملک میں جمہوریت کا پہیہ چلتا رہے۔قرضے معاف کرانے اور دولت بیرون ملک منتقل کرنے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔جاگیردار اور سرمایہ دار حکمران ٹولہ حقیقی جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاو ٹ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پاکستان کالمسٹ کلب کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں کالمسٹ کلب کے چیئرمین ایثار رانا ،کنوینر امجد اقبال ،وائس چیئرمین جاوید اقبال ،صدر ڈاکٹر عمرانہ مشتاق ،سیکرٹری جنرل ذبیح اللہ بلگن ،چیئر پرسن خواتین ونگ رابعہ رحمان ،ایڈیشنل سیکرٹری جنرل رانا تنویر قاسم ،ممبر سپریم ایڈوائزری کونسل صفدر علی خان ،انابغ علی شامل تھے جبکہ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی امیرالعظیم بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ فیوڈلز کرپشن اور لوٹ مار کی دولت کے بل بوتے پر پورے الیکشن پراسس کو یرغمال بناتا ہے اور الیکشن لڑنے کی بجائے الیکشن کو اغواء کرتاہے جس کی وجہ سے ملک میں مڈل کلاس اور دیانتدار قیادت سامنے نہیں آسکی۔ظالم،جاگیردار اور سرمایہ دار سیاست کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ70 سال سے یہی کرپٹ اور بد دیانت ٹولہ مسلسل عوام کو جمہوریت کے نام پر دھوکہ دے رہا ہے اور جمہوریت کے لبادے میں ملک پر بدترین آمریت کا راج ہے ۔ مارشل لاء دور میں یہ سیاستدان حکمرانوں کے دست و بازو بن جاتے ہیں اور نام نہاد جمہوری حکومتوں کے دور میں تمام اختیارات اسی ٹولے کے ہاتھ میں رہتے ہیں ۔ یہ جھنڈے اور پارٹیاں بدلتے ہیں مگر سب کا مقصد ایک ہے کہ قومی خزانے کو کس طرح لوٹنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاستدانوں کا دامن صاف ہوتا تو قوم کو کبھی مارشل لاؤں کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ مفاد پرست سیاست دان سیاست کو ایک گھوڑے کی طرح استعمال کرتے ہیں اور اس گھوڑے کی باگیں ہمیشہ امریکی سامراج اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ۔ یہ قومی مفاد نہیں ہمیشہ عالمی طاقتوں کے اشاروں پر چلتے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں روزانہ ہونے والی بارہ ارب روپے کی کرپشن پر قابو پالیا جائے تو ملک میں روزانہ نشتر میڈیکل کالج جیسے چھ میڈیکل کالج ، پنجاب یونیورسٹی جیسی ایک بڑی یونیورسٹی بنائی جاسکتی ہے ۔ روزانہ پچاس میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور دو کروڑ 26 لاکھ تعلیم سے محروم بچوں کو مفت تعلیم دی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں اصل مسئلہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور لوٹ مار ہے جس کی وجہ سے قوم کو غربت ، جہالت اور لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کا سامنا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک کی واحد نظریاتی جمہوری اور پروگریسو جماعت ہے جس کے پاس ’’سٹیٹس کو‘‘ کی حامی ان خاندانی پارٹیوں کے مقابلے میں ایک موثر متبادل نظام اور قیادت موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی میدان میں موجود اور تین تین بار اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کا کوئی نظریہ ہے نہ ان کے پاس ملک و قوم کی خدمت کا کوئی منصوبہ ہے، ملک پر تین تین بار حکومتیں کرنی والی دونو ں پارٹیوں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا صرف اپنے مفادات سمیٹے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے پاس ایک آفاقی نظریہ ہے جس کی بنیاد پر یہ ملک قائم ہواتھا اور ترقی و خوشحالی کا وہ منصوبہ ہے جس میں تعلیم ، روزگار اور چھت سے کوئی محروم نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہاکہ تمام ملکی مسائل کا حل نظام مصطفےٰؐ کے نفاذ میں ہے ۔ ملک سے سودی نظام کا خاتمہ اور زکوۃ کا پاکیزہ نظام رائج کر دیا جائے تو ملک کی سالانہ آمدن تین گنا بڑھ سکتی ہے ۔ سراج الحق نے اس یقین کا اظہار کیاکہ قوم ان لیٹروں کے چنگل سے نکل کر آج نہیں تو کل ضرور جماعت اسلامی کی جدوجہد میں شامل ہوگی کیونکہ اس کے بغیر ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نجات نہیں مل سکتی ۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر