کراچی کی عوام کو صاف پانی میسر نہیں ، مرغیوں کا پنجرا بنانے والا دانہ پانی کا بھی خیال رکھتا ہے : چیف جسٹس

کراچی کی عوام کو صاف پانی میسر نہیں ، مرغیوں کا پنجرا بنانے والا دانہ پانی کا ...

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جو عوام کے پاس جاکر کہتے ہیں ہم یہ کردیں گے اور وہ کردیں گے یہ لوگ صرف دعوے کرتے ہیں مگرعوام کو پینے کا صاف پانی نہیں دے سکتے،رفاعی پلاٹوں پر قبضے اور پانی نہ ملنے کے باعث لوگ دوسرے شہروں پر جارہے ہیں، کراچی کی صورتحال دیکھ کر بہت دکھ ہوا، کوئی مرغیوں کا پنجرا بھی بناتا ہے تو دانہ پانی کا خیال رکھا جاتا ہے، کراچی میں کثیر المنزلہ عمارت بنالیتے ہیں پینے کا پانی کہاں ہے، ریاست کا کام لائنوں کے ذریعے شہریوں کو پانی دینا ہے، ہم عوام کے جانوں کا تحفظ کریں گے کسی بلڈرز کا نہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب سے متعلق کیس کے سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کو کل طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی کو صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران سماعت درخواست گزار شہاب اوست ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہریوں کو بغیرفلٹر کئے پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے، کراچی کا 80، حیدرآباد 85، لاڑکانہ 88 اور شکار پور کا 78 فیصد پینے کا پانی آلودہ ہے، سندھ کے دریاؤں میں ہسپتالوں، صنعتوں اور میونسپلٹی کا ویسٹ ڈالا جارہا ہے، سندھ کے 29 اضلاع میں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔درخواست گزار کے دلائل پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ زمین پر دو بڑی نعمتیں ہوا اور پانی ہیں جس کے بغیر زندگی نہیں، ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے۔چیف جسٹس پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سندھ ہو یا پنجاب، فیکٹریوں کی آلودگی سے زندگی متاثر ہو رہی ہے، ہوا کی آلودگی کے باعث کینسر جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں اس لئے پانی اور ہوا کی آلودگی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، اس معاملے پر اعلیٰ سے اعلیٰ افسر کو بلانا پڑا تو بلائیں گے کیونکہ جب حکومت ذمہ داری میں ناکام ہو تو پھرعدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’مجھے یہ بتائیں سندھ کے منصوبوں پر کتنے فنڈز جاری ہوئے، ذمے داری کسی سیکرٹری پر نہیں چیف ایگزیکٹو پر عائد کریں گے‘۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم بھی بغیر فلٹر کیے پانی پی کر بڑے ہوئے لیکن اس وقت کاپانی مفید تھا، جن کا کام اسے درست کرنا ہے وہ کیوں نہیں دیکھتے؟ جو عوام کے پاس جاکر کہتے ہیں ہم یہ کردیں گے، وہ کردیں گے انہیں یہ نظر نہیں آتا، یہ لوگ صرف دعوے کرتے ہیں، عوام کو پینے کا صاف پانی نہیں دے سکتے، عوام کے مسائل حل کرنے والا بھی کوئی ہے یا نہیں۔درخواست گزار نے عدالت کو مزیدبتایا کہ سندھ میں 80 لاکھ شہری ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں، سندھ کے 6 اضلاع کیلئے ’’ نساسک‘‘ کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا اور اس میں 800 افراد بھرتی کئے گئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ نساسک سے قومی خزانے کا مکمل حساب لیں گے، چاہتے ہیں ہمارے بچوں کو پینے کا صاف پانی ملے، چیف سیکرٹری کچھ نہیں کرسکتے تو وزیراعلیٰ کو طلب کرلیتے ہیں، وزیراعلیٰ کے ساتھ ان کے کرتا دھرتا بھی آجائیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لاڑکانہ حکمراں جماعت کا گڑھ ہے مگر وہاں بھی 88 فیصد گندا پانی فراہم کیا جارہا ہے لہٰذامنتخب نمائندے عوام کیلئے کیا کر رہے ہیں سمجھ سے بالاتر ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم کسی کیلئے ضد رکھنے والے نہیں، ہم نہیں چاہتے کہ فیصلہ دیں تو کوئی کہتا پھرے کہ فیصلہ کیوں دیا، ہم ٹھوک بجا کر،سوچ سمجھ کر، سب کو سن کر فیصلہ دیں گے۔عدالت نے دوران سماعت وزیراعلیٰ سندھ کو کل پیش ہونے کا حکم جاری کیا لیکن ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کل مصروف ہیں۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق کیس سن رہے ہیں، چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ’ ایڈووکیٹ جنرل صاحب کیوں پریشان ہیں ہم تو وزیر اعلیٰ سے ملنا چاہتے ہیں‘۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لوگوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے نظر انداز نہیں کر سکتے، وزیراعلیٰ سندھ سے پوچھیں گے ،وہ کیا اقدامات کررہے ہیں، وزیراعلیٰ یہاں موجود ہوں گے تو مسائل کی حل کی جانب بڑھیں گے، وزیراعلیٰ سندھ یہاں آکرسنیں اور مسائل کا حل نکالیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہیں خاموش نہیں رہ سکتے، پھر بھی مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالت حکم دے گی۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے محمود آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کی زمین غیرقانونی الاٹ کی جس پر عدالت نے کہا کہ مصطفی کمال عدالت کو بتائیں 50 ایکڑ اراضی کس سے پوچھ کر دی، یہ بھی بتائیں یہ کون سے بے گھر لوگ تھے؟ یہ زمین کب دی اور کسے دی گئی۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست پر حکم میں ترمیم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ اور سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کو 6 دسمبر کو طلب کرلیا۔ شہر میں کثیر المنزلہ عمارتوں سے متعلق ایک درخواست کی بھی سماعت ہوئی جس دوران ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں کثیر المنزلہ عمارت بنالیتے ہیں پینے کا پانی کہاں ہے، ریاست کا کام لائنوں کے ذریعے شہریوں کو پانی دینا ہے، بلڈرز کو نہیں، ہم عوام کے جانوں کا تحفظ کریں گے کسی بلڈرز کا نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ واٹر بم کی صورت اختیار کررہا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے پوچھیں گے کہ کراچی والے پانی کو ترس رہے ہیں لہٰذا ہم نئی عمارتیں بنانے کی اجازت کیسے دے دیں، کثیر المنزلہ عمارتوں کی بجائے نئے شہر آباد کیوں نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور پاکستان کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ آخر