سی ویو قتل واقعہ کی گتھی مزید الجھ گئی، ملزم خاور برنی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

سی ویو قتل واقعہ کی گتھی مزید الجھ گئی، ملزم خاور برنی جسمانی ریمانڈ پر ...

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )کراچی کے علاقے سی ویو پر نوجوان ظافر کے قتل کے تمام اہم کردار پولیس کی تحویل میں ہیں، مقدمہ بھی درج کرلیا گیا، لیکن واقعے کی گتھی مزید الجھ گئی ہے۔فائرنگ کرنیوالے ملزم خاور برنی کا موقف ہے اس نے حادثہ دیکھا تو مرسڈیز گاڑی کو رو کنے کی کوشش کی، تاہم غلطی سے گولیاں اندر بیٹھے لڑکوں کو لگ گئیں۔دوسری جانب مرسڈیز کی ٹکر سے گرنیوالے موٹرسائیکل سوار ڈاکٹر عبد الر حیم نے بھی قتل سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے نہ تو وہ مقتولین کو جانتے ہیں اور نہ ہی فائرنگ کرنیوالے خاور کو جانتے ہیں۔پولیس نے فائرنگ کرنیوالے نوجوان خاور برنی سمیت 4 ملزمان کو خالد بن ولید روڈ کے قریب واقع گھر سے گرفتار کرلیا تھا جبکہ پک اپ کو بھی تحو یل میں لے لیا گیا گیا، جسے حماد نامی شخص چلا رہا تھا جو واقعے کے وقت اپنے دوست ڈاکٹر رحیم کیساتھ تھا، تاہم خاور برنی کے ساتھ موجود دانش اور ڈاکٹر رحیم کا ساتھی حماد ابھی تک قانون کی گرفت سے باہر ہے۔ذرائع کے مطابق دانش نارتھ ناظم آباد کا رہائشی ہے اور حماد اور دانش دونوں کا موبائل بند ہے، دونوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔نوجوان ظافر کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار ملزم خاور برنی نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ اْس کی دوستی سپورٹس بائیک سے گرنیوالے ڈاکٹر رحیم سے تھی اور نہ ہی مرسیڈیز میں سوار چاروں نوجوانوں سے کوئی دشمنی ہے۔خاور کے مطابق اس نے یہ انتہائی قدم اچانک غصے میں آکر اْٹھایا کیونکہ اس نے مرسڈیز کو روکنے کی کوشش کی اور نہ رکنے پر گاڑی پر فائرنگ کردی، جس پر گولیاں غلطی سے گاڑی میں بیٹھے افراد کو جا لگیں۔مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے مقتول ظافر کو 2 گولیاں لگیں، جو اس کی موت کا سبب بنیں،جس گاڑی میں ظافر سوار تھا، اس پر دائیں جانب سے فائرنگ کی گئی، ظافر کو سینے اور ہاتھ پر گولیاں لگیں، جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔کراچی کے علاقے سی ویو پر نوجوان ظافر کو فائرنگ کرکے قتل کرنے والے ملزم خاور برنی کو 2 روزہ جسمانی روڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔پولیس نے ملزم خاور برنی کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا ۔ پو لیس نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے میں پورا گروپ ملوث ہے اور تقریباً 10 مفرور ملزمان کو گرفتار کرنا ہے۔سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جائیں۔پولیس نے عدالت سے ملزم کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم خاور برنی کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔دوسری جا نب تفتیشی افسر کو حکم دیا گیا کہ آئندہ سماعت پر فرانزک رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی جائے۔دوسری جانب ظافر قتل کیس کے سلسلے میں پولیس کو موصول ہونے والی ابتدائی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کو فرار ہوتے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے ساتھ دونوں گاڑیاں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ادھر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے سی ویو واقعے کے ملزمان کتنے ہی بااثر ہوں انہیں قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ واقعے کے 2 گھنٹے کے اندر ہی کیمرے کی مدد سے گاڑی کی شناخت ہوئی، پولیس ملزمان تک پہنچی اور انہیں گرفتار کیا،سی وی پر گاڑیوں کی ریس کا معاملہ ڈی آئی جی ساؤتھ آزاد خان کو دیکھنے کی ہدایت کی۔

سی ویو قتل

مزید : علاقائی