’’ آؤ ساتھ چلیں‘‘

’’ آؤ ساتھ چلیں‘‘
 ’’ آؤ ساتھ چلیں‘‘

  

اس مرتبہ خاص بچوں کے دن پر’غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ‘اور’ لبارڈ ‘کا نعرہ ’ آؤ ساتھ چلیں‘تھا، ہم سب تین دسمبر کی شام بہت سارے خاص بچوں کے ساتھ لاہور چیمبر آف کامرس میں منعقدہ مقابلہ مصوری کے بعد گورنر ہاوس کی طرف چل رہے تھے مگر اس ہم سب میں وہ شامل نہیں تھے جو گذشتہ برس لبرٹی یا اس سے بھی ایک برس پہلے چیئرنگ کراس اور چلڈرن لائبریری میں سپیشل چلڈرنز ڈے منانے کے لئے موجود تھے، یہاں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے روح رواں سید عامر محمود تھے، لبارڈ کے سرپرست ، وفاقی وزیر تجارت اور مسلم لیگ نون لاہور کے صدر پرویز ملک اور صوبائی دارالحکومت کے لارڈ مئیر کرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید تھے، معروف فنکارراشد محمود تھے اور بہت سارے تھے جن کااستقبال گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ گورنر ہاوس کے گیٹ پر کررہے تھے مگر پاکستان تحریک انصاف کی وہ دونوں خواتین ارکان پنجاب اسمبلی نوشین حامد اور سعدیہ سہیل رانا نہیں تھیں جو ایسے موقعوں پر موجودرہی ہیں۔ مجھے یہ کمی شدت سے محسوس ہوئی اور ان کی غیر حاضری بارے پوچھا، میرے ذہن میں شبہ تھا کہ کہیں ایک وفاقی وزیر ، ایک گورنر اور ا سی پارٹی کے لارڈ مئیر کو بلانے کی بنیاد پر انہیں دعوت ہی نہ دی گئی ہو، میرے استفسار پر بتایا گیا کہ ہمیشہ کی طرح دونوں بہت ہی قابل احترام ارکان اسمبلی سے درخواست کی گئی تھی مگر ان کی طرف سے معذرت کر لی گئی کہ تحریک انصاف کے قائد جناب عمران خان نے ان پر ایسی تمام تقریبات میں شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے جن میں مسلم لیگ نون کے رہنما شریک ہو رہے ہوں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ والوں کا سیاسی اور نظریاتی تعلق جماعت اسلامی سے ہے ،محترم سید منور حسن کے بعد جناب سراج الحق کے دور میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نون کے تعلقات اس حد تک خراب ہوئے ہیں کہ میں نے مسلم لیگ نون کے ایک ذمہ داررہنما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی بجائے عوامی نیشنل پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی سفارش کریں گے کہ ان کے مطابق جماعت اسلامی کی قیادت پر جمہوریت اور عوامی حاکمیت کے معاملے میں اعتماد نہیں کیا جا سکتا، یہ قیادت استعمال ہوتی آئی ہے اور آئندہ بھی غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہو سکتی ہے۔ یہ رائے اس لئے اہم ہے کہ جماعت اسلامی ایم ایم اے کے راستے مسلم لیگ نون سے انتخابی اتحاد کا خواب دیکھ رہی تھی جو چکنا چور ہو گیا اور دوسرے یہ کہ مذکورہ رہنما کو اپنی دائیں بازو کی سوچ کی وجہ سے جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نون کے درمیان پُل سمجھا جاتا تھا چونکہ یہ بات آ ف دی ریکارڈ ہو رہی تھی لہذا مجھ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں اس رہنما کا نام بے نقاب نہ کروں۔ضمنی طور پر یہ بات بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلم لیگ نون والے تمام تر اختلافات کے باوجود اپنے ذہنی یا جسمانی طور پر معذور بچوں کے معاملے پر یک جہتی کے اظہار کے لئے واک میں موجود تھے بلکہ تسلیم کیا جانا چاہئے کہ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ نے اپنے تمام تر سرگرم کردار کے باوجود گذشتہ سہ پہر واک کی قیادت لبارڈ کے حوالے کر رکھی تھی کہ یہاں کوئی پوائنٹ سکورنگ والا معاملہ نہیں تھا۔ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں اور خاص طور پرذہنی یا جسمانی طور پر معذوری کا شکار بجے، اگر ہم ان سے محبت اور یک جہتی کے اظہار کو بھی اپنی سیاست اور مفادات کی نذر کر دیں گے تو مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم انسانیت کے منصب اور مقام سے ہی نیچے گر جائیں گے۔ مجھے ان بچوں کے حوالے سے کوئی سیاست نہیں کرنی، مجھے کہنا ہے کہ ان بچوں کے لئے چودھری پرویز الٰہی کے دور میں بھی بہت کام ہوا اور اس کے بعد میاں شہباز شریف نے بھی کوئی کسر نہیں رہنے دی، ان کے لئے ضیاء الحق مرحوم نے بھی بہت کام کیا کیونکہ ان کی اپنی ایک صاحبزادی کو یہی مسئلہ درپیش تھا، ان بچوں کے لئے بہت کچھ ہوچکا مگر ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے،میرے خیال میں ابھی بہت ساری باتیں محض کتابوں میں ہیں جنہیں زمین پر ایک حقیقت کی صورت میں لانا باقی ہے۔میں نے ای ڈی او سپیشل ایجوکیشن شہزاد ہارون بھٹہ سے ان ویڈیوز کے بارے بھی پوچھا جو ابھی حال میں ہی یکے بعد دیگرے سامنے آئی ہیں، سپیشل ایجوکیشن کے ملازمین بسوں میں ا ن بچوں سے نامناسب سلوک کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ ویڈیوز ایک سازش تھیں اور انہوں نے محکمے کے امیج اور کوششوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان ویڈیوز کا حکومت اور عدالت کی طر ف سے نوٹس لیا جاچکا اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا چکی ہے۔

ان بچوں کا دکھ اور درد وہی جانتے ہیں جن کے گھر میں یہ پیدا ہوتے ہیں۔ معذوری کسی بھی قسم کی ہو وہ بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کا بھی مرض بن جاتی ہے۔ ان کے ماں باپ انہیں دیکھ دیکھ کے جیتے اور انہیں دیکھ دیکھ کے مرتے ہیں۔ معذوری میں بہت کچھ قابل علاج ہے اور ریاستوں کو ان بچوں اور افراد کے لئے کہیں زیادہ متحرک اور فعال ہی نہیں بلکہ درد مندانہ کردارادا کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں تو سپیشل ایجوکیشن کی وزارت ہی کسی ایسے رکن کے پاس ہونی چاہئیے جسے اپنی فیملی میں ایسے کسی مسئلے اور پریشانی کا سامنا ہو۔ سیانے کہتے ہیں جس تن لاگے سوتن جانے ورنہ ہم سب باتیں ہی کر سکتے ہیں، ہر تین دسمبر کو غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ اور لبارڈ کی مہربانی سے ان بچوں اور بڑوں کے دکھوں اور مسائل کو جان لیتے ہیں اور آگے بیان کر دیتے ہیں۔ میرے پاس عذر موجود ہے کہ ہم اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں مگر اس کے بعد ذمہ داری ان پر آجاتی ہے جنہیں کائناتوں کے رب نے اختیارات اور وسائل دے رکھے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کے پاس بھی سیاسی عدم استحکام جیسے جواز موجود ہوں مگر میرے خیال میں ہماری سیاسی جماعتوں کو ابھی کم از کم ایک سے ڈیڑھ عشرہ اقبال کے شعر’ تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب، یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے‘ کے مصداق اسی چیلنجنگ صورتحال میں پرفارم کرکے دکھانا ہوگا۔ ایسے میں ڈاکٹر امجد ثاقب کا ذکر نہ کرنا بڑی زیادتی ہو گا جو معاشرے کے مجبور اور لاچار طبقات کے لئے ایک فرشتے جیسا کردارادا کر رہے ہیں۔

’ آو ساتھ چلیں‘ ایک خوبصورت تصور ہے جس کے تحت واقعی راستہ آرام، تحفظ اورخوبصورتی کے ساتھ کٹ سکتا ہے۔ اس سے پہلے خاص بچوں کے لئے علاج کے علیحدہ اداروں اورخاص طور پر درس گاہوں پر زور دیا جاتا تھا مگر معاشرے اور نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ خاص بچوں کو عام بچوں کے ساتھ پڑھنے اور کھیلنے کے مواقعے فراہم کرنے چاہئیں تاکہ ہمارے عام بچے بھی انہیں دوسرے سیارے کی مخلوق نہ سمجھیں اور یہ خاص بچے بھی خو دکو عام بچوں میں اجنبی محسوس نہ کریں۔ان دونوں کو ایک دوسرے کی عادت ہوجائے اور پھر یہی رویہ تعلق، دوستی اور محبت میں تبدیل ہوجائے۔ سید عامر محمود بتا رہے تھے کہ ابھی تک نوے فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں، غزالی ٹرسٹ بھی اب تک تیرہ سکولوں کو’ ڈس ایبل فرینڈلی ‘ بنانے میں کامیاب ہوا ہے ۔ آگاہی واک کا اختتام گورنر ہاوس پر ہوا جہاں گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ نے اہم مہمانوں کے لئے پرتکلف چائے کے لئے بلا لیا۔ مجھے بہت زیادہ خوشی ہوتی اگر وہاں موجود خاص بچوں کو بھی گورنر ہاوس کے لان میں ایک دوڑ لگانے کا موقع مل جاتا، انہیں بھی چائے کے ساتھ ساتھ ایک ایک پیسٹری مل جاتی مگر فوٹوسیشن کے بعد گورنر ہاوس کے آہنی دروازے بند ہوگئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ حکومت کا خزانہ خالی ہو چکا ہے اور یہ گمان بھی نہیں رکھتا کہ رفیق رجوانہ کنجوس آدمی ہوں گے مگر یہ انتظامی کمی او رکوتاہی بہرحال ہو سکتی ہے جس کی طرف رفیق رجوانہ کے ساتھ ساتھ شائد پرویز ملک کا بھی دھیان نہیں دیاورنہ جب گورنر پنجاب وقت دے سکتے ہیں جو اس صورتحال میں سب سے قیمتی شے ہے تو وہ ان بچوں کو چائے کا ایک کپ یا جوس کا ایک ڈبہ بھی دے سکتے تھے،جی ہاں، رفیق رجوانہ، میاں اظہر کی روایت تازہ کر سکتے تھے۔ اس کے باوجود مجھے گواہی دینی ہے کہ ’آؤ ساتھ چلیں‘ ایک کامیاب واک رہی اور اتنی کامیاب رہی کہ ایک صاحب جنہیں عمومی طور پر مسلم لیگ نون اور شریف فیملی کے حوالے سے گالم نگار کے طور پر جانا جاتا ہے وہ گورنر پنجاب کی آمد پر ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لئے باقاعدہ دھکے دیتے اور دوسروں کے پاؤں کچلتے ہوئے پائے گئے، اس سے زیادہ غیر سیاسی کامیاب ترین واک کی دلیل کوئی دوسری بھلا کیا ہوسکتی ہے۔

مزید : کالم