شراب پینے والوں کی بجائے بیچنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا ؟ پاکستان سروے

شراب پینے والوں کی بجائے بیچنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا ؟ پاکستان سروے

لاہور(حماد سعید تصاویر ذیشان منیر) ملک بھر میں پولیس کا رویہ ایک جیسا ہے یہاں پر بھی کوئی فرق نہیں ،جس ملک کی عدلیہ کو اپنی پولیس کی کہی بات یا ان کے لئے گئے بیان پر یقین نہ ہو اس کی بات پر عام آدمی کیا یقین کرے گا ،شراب پینے والوں کو پکڑنے کی بجائے بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں نہیں کیا جاسکتا ،فائیو سٹار اور سیون سٹار ہوٹلز کے بار رومز رات 12بجے تک کھلے کیوں رہتے ہیں ،ہوٹلوں کے باہر سرعام شراب فروخت ہوتی ہے تو پولیس کیا کر رہی ہوتی ہے ،علاقہ میں منشیات فروشوں کے خلاف کی جانے والی کاروئیاں صرف کاغذی ہیں ،غریبوں کے لئے ڈیوٹی کچھ اور امیروں کے لئے کچھ اور کی جاتی ہے ،کسی بھی امیر کے خلاف درخواست پر پولیس نے کبھی کوئی کاروائی نہیں کی،کئی امراء نے غریب ملازمین کی تنخواہیں کھا لیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی ،ریس کورس پولیس پروٹوکول ڈیوٹیاں زیادہ اور تھانے میں کم نظر آتی ہے ،پولیس ڈکیتیوں اور چوریوں سمیت دیگر معاملات میں بہتری لائی ہے، قبضہ مافیاء اور اہم عمارتوں کی سکیورٹی علاقہ میں امن و امان کا کنٹرول پولیس کی کارکردگی کا ثبوت ہے تھانہ ریس کورس میں رہائش پزیر علاقہ مکینوں نے پولیس کے بارے میں شکائیات کے انبار لگائے وہیں ان کی تعریف کے پل بھی باندھ دیئے۔تفصیلات کے مطابق تھانہ ریس کورس اپر مال سمیت ،جی او آر ون ،شمس کاری ،ریس کورس پارک ،حبیب اللہ روڈ ،ڈیوس روڈ مال روڈ کے علاقوں پر مشتمل ہے ،تھانہ ریس کورس کی حدود میں اہم عمارتوں اور علاقو میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس ،وزیر اعلیٰ سیکریٹیریٹ ،جی او آر ون سمیت کئی اہم عمارتیں شامل ہیں پولیس کی نفری علاقہ اس کی عمارتوں اور رہائشیوں کے حوالے سے مکمل طور پر ناکافی ہے تاہم علاقہ مکینوں نے روزنامہ پاکستان کے سروے میں کھل کر پولیس کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ،اپر مال کے رہائشی خادم حسین کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں پورے ملک میں پولیس کا رویہ ایک جیسا ہے یہاں پر بھی اس میں کوئی فرق نہیں ہے ،ناجائز پکڑ دھکڑ معمول کا حصہ ہیں اور پھر وہی رشوت خوری کاکام لے کر ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے یہاں پر پاکستان بھر میں پولیس پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا ،جاوید مائیکل کا کہنا تھا کہ شراب پینے والے ہی پکڑے جاتے ہیں بیچنے والوں کے خلاف کوئی کریک ڈاؤن نہیں ہوا شراب تو تمام بڑے ہوٹلوں میں فروخت ہو رہی ہے مگر ان کا زور صرف غریب پر ہی چلتا ہے پولیس نے متعدد افراد کے خلاف منشیات کے مقدمات قائم کر دیئے یہ صرف کاغذی کاروائیاں ہی ہیں ،بار رومز کی بندش کا ایک وقت مقرر کیا گیا ہے انہی ہوٹلوں میں سے لوگ شراب لے کر نکلتے ہیں جو کوئی بڑی گاڑی میں نکلتا ہے اس سلیوٹ کیا جاتا ہے اور جو موٹر سائیکل یا چھوٹی گاڑی میں نکلتا ہے اس کی تلاشیاں لی جاتی ہیں اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو انہی ہوٹلوں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز نکلوا کر دیکھا جاسکتا ہے ۔صفدر نذیر کا کہنا تھا کہ جی او آر ون سمیت دیگر اہم علاقوں میں جہاں ملازمین کام کر رہے ہیں پولیس کو شائد رواں سال کے دوران ہی انہوں نے تنخواہیں نہ ملنے کی متعدد درخواستیں دیں ہیں مگر ان پر آج تک ہم کوئی کاروائی ہوتے نہیں دیکھا کیوں کے امیر مالکان کے سامنے پولیس اہلکاروں کی بے بسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ،یہاں پر پولیس تو کیا میڈیا بھی کبھی تشدد کیس دیکھنے نہیں آیا ،پولیس نے ان کے خلاف کیا مقدمے درج کرنے ،پولیس کا کام لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں مدد فراہم کرنا ہے انصاف فراہم کرنا نہیں جو پولیس اہلکار یہ کہتے ہیں کہ انصاف ہم کریں گے گے جھوٹ بولتے ہیں وہ عدالت میں فراہم کیا جاتا ہے جب پولیس اہلکار ہی غلط مثل لکھ کر عدالت میں بھیجیں گے تو وہاں انصاف کہاں سے ہو گا اب تو عدالتوں میں پولیس کی بات پر یقین ہی نہیں کیا جاتا پھر لوگ کیا پولیس کا یقین کریں گے۔جی او آر ون کے رہائشی محمد خادم کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقہمیں پولیس نے جہاں چوری اور ڈکیتی کا خاتمہ کیا وہیں انہوں نے لوگوں کو ان کے حق بھی دلوائے تاہم چند لوگوں کیوجہ سے پولیس کی کارکردگی کو رد نہیں کیا جاسکتا ،شاہد مجید کاظمی کا کہنا تھا کہ یہاں ہر کام پولیس کے لئے رکھ دیا جاتا ہے یہاں پر ووٹ لوگ پولیس کو نہیں دیتے اپنے عوامی نمائندوں کے پاس بھی جائیں تلاق پولیس کے پاس،گھریلو جھگڑے پولیس کے پاس ،حتہٰ کے اب گٹروں کے ڈھکنوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ڈال دی گئی ہے ،پیٹرول پمپوں پر تیل کے پیمانے چیک کرنا سکولوں کے باہر پہرے دینا پولیس کا کام ہے ہم لوگوں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ کیا یہ سب پولیس کے کام ہی نہیں ہمارا ان میں کیا رول ہے مگر پولیس کو کہیں بھی برا کہنا ایک روائت بن چکی ہے۔

مزید : علاقائی