نواز شریف کی پارٹی سربراہی کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو دوبارہ نوٹس

نواز شریف کی پارٹی سربراہی کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو دوبارہ نوٹس

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترامیم کرنے اور میاں محمدنواز شریف کو پارٹی سربراہ بنائے جانے کے خلاف دائردرخواست پروفاقی حکومت کودوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار سیکرٹری سپریم کورٹ بار آفتاب باجواہ کے وکیل اظہر صدیق نے موقف اختیار کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے پانامالیکس میں سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف کو نااہل قرار دیا اور عدالتی فیصلے کے بعد آئین کے مطابق وہ اپنی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن )کی صدارت کے لئے بھی اہل نہ رہے، تاہم مسلم لیگ (ن)اور اس کے اتحادیوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بے اثر کرنے کے لئے قانون میں ترمیم کی اور اب انتخابی اصلاحاتی ایکٹ کے ذریعے نواز شریف دوبارہ مسلم لیگ (ن ) کے صدر بن گئے ہیں،انتخابی اصلاحات ایکٹ صرف ایک نااہل شخص کو صدر بنانے کے لئے لایا گیا،انہوں نے استدعا کی کہ آئین سے متصادم انتخابی اصلاحات پر مبنی ترامیم کو کالعدم قرار دیاجائے جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کودوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے 12دسمبرکو جواب طلب کر لیا ہے۔

دوبارہ نوٹس

مزید : علاقائی