کوہاٹ،تحریک انصاف کی حکومت میں گرلز کالج استرزئی کی تعمیر خواب

کوہاٹ،تحریک انصاف کی حکومت میں گرلز کالج استرزئی کی تعمیر خواب

کوہاٹ(بیورو رپورٹ) تحریک انصاف کی حکومت میں گرلز کالج استرزئی کی تعمیر خواب بن گئی 55 مہینے گزرنے کے باوجود کالج کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی دو سالہ منصوبہ فنڈز کی قلت اور کنٹریکٹر کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے طول پکڑ گیا کروڑوں روپے کی زمین مفت ملنے کے باوجود کالج کی تعمیر کا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے ان خیالات کا اظہار اتفاق ویلفیئر آرگنائزیشن کے چیئرمین اور آواز فورم استرزئی کے ممبران نے اپنے بیان میں کیا ان افراد کا کہنا تھا کہ سابقہ دور حکومت میں صوبائی وزیر سید قلب حسن نے علاقہ بنگش سمیت رئیسان اور اردگرد کی ہزاروں کی تعداد میں طالبات کی سہولت کے لیے قیمتی اراضی وقف کر کے کالج کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تھا مگر افسوس کہ موجودہ حکومت کو قائم ہوئے 55 مہینے اور ختم ہونے کے لیے پانچ ماہ رہ چکے ہیں مگر اتنے بڑے عرصے میں ایک کالج کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی جو کہ حلقہ ایم پی اے کے لیے لمحہ فکریہ ہے آواز فورم کے ممبران کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ایک جانب تو تعلیمی ایمرجنسی کے نعرے لگاتے نہیں تھکتی تو دوسری جانب علاقہ بنگش کی سینکڑوں طالبات کو گھروں کے نزدیک اعلیٰ تعلیم کی سہولت کی فراہمی میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے آواز فورم کے ممبران نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اعظم خان‘ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن زیب اللہ خان‘ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سید عنایت علی شاہ اور ڈپٹی کمشنر خالد الیاس سے مطالبہ کیا کہ وہ گرلز ڈگری کالج استرزئی کی تعمیر میں تاخیر کے اسباب اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کریں تاکہ فروغ تعلیم میں رکاوٹ بننے والے عناصر کا سدباب ہو سکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر