مسلمان ایمان سے کمزور ہیں وسائل سے نہیں ،حافظ عبدالرؤف

مسلمان ایمان سے کمزور ہیں وسائل سے نہیں ،حافظ عبدالرؤف

مظفرآباد(بیورورپورٹ)مسلمان ایمان سے کمزور ہیں وسائل سے نہیں ،ہمیں امت بننے کی ضرورت ہے ،فرقوں ،ملکوں اور دیگر سرحدات نے ہماری طاقت کو بکھیر دیا ۔آج کشمیر ،برما،فلسطین ،عراق ،شام ،افغانستان میں ظلم اس لیے نہیں ہورہے کہ ہمارے پاس معیشت نہیں ہے وسائل نہیں ہے بلکہ ہمارے پاس ایمان کی دولت ختم ہوگئی ہے ۔نبی رحمت نے مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا پھر ایک جسم کی مانند بتایا اگر جسم کے کسی حصے میں درد ہوتو ساراجسم تکلیف محسوس کرتاہے ۔درد بڑی نعمت ہے ۔اگر انسان زندہ ہوتو دردمحسوس کرتاہے ۔ڈاکٹربھی حادثات میں چیک کرنے کے لیے زندہ اور مردہ میں فرق کرنے کے لیے تکلیف دیتے ہیں ،چیونٹی کاٹتے ہیں ۔جو شخص درد محسوس کرکے ردعمل دیتاہے دنیا اس کو زندہ سمجھ کر اس کی مدد کرتی ہے مردوں کی کوئی مدد نہیں کیا کرتا ،ان خیالات کا اظہار چیئرمین فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پاکستان حافظ عبدالرؤف نے گزشتہ روز سنٹرل پریس کلب میں برما کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زارپر ملٹی میڈٰیا بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ آج اگر مسلمان دنیا میں مظلوم ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے ۔اسلحہ کی کمی ہے ۔معیشت خراب ہے بلکہ ہمارے دل بے حس ہوگئے ہیں مردہ ہوگئے ہیں ۔ہم دردمحسوس نہیں کرپارہے ۔مسلمان کبھی نہیں ہارتا ۔غزوہ بدر مقابلہ 313کا 1000سے نتیجہ فتح ،غزوہ خندق کھانے کو روٹی نہیں ،پیٹوں پر پتھر باندھے ہوئے نبی رحمت نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے نتیجہ فتح ۔عمر رضی اللہ عنہ 22لاکھ مربع میل پر حکومت کرنے والے اسلام کو پھیلانے والے اسرائیل کی فتح کے لیے جانے والے ابوعبیدہ بن جراح کی درخواست پر جب سرزمین انبیاء فلسطین پہنچتے ہیں تو غلام اونٹ پر سوار خود پیدل نتیجہ فتح ۔کیسریٰ کے دربارمیں نبی رحمت کا صحابی خچر کی سوار سے اتر کر گردآلود کپڑوں کے ساتھ پسینے میں شرابور اپنا خنجربادشاہ کے سامنے گاڑھتے ہوئے جا کر بادشاہ کے ساتھ کرسی پر بیٹھ جاتا ہے ۔اور بتانے والے نے بتایا کہ مسلمان موت سے اس قدر محبت کرتے ہیں جتنا تم شراب سے اور جب رات کو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو گراکر ،داڑھی ان کی آنسوؤں سے ترہوجاتی ہے ۔موسیٰ بن نصیر کے غلام طارق بن زیاد جس کو امت مسلمہ ایک جری ،بہادرجرنیل کے نام سے جانتی ہے نے صرف 12ہزارکے لشکر کے ساتھ پورایورپ فتح کیا ۔سمندروں نے بھی ان کو راستے دیے ۔ان کے پاس نہ توپیں تھیں ،نہ ٹینک ،نہ ایف 16،نہ میزائل سسٹم پھر نتیجہ فتح ۔کیوں کہ ان کے ایمان بہت بلندتھے کیوں کہ ان کا یقین تھا کہ مسلمان کمزور ہوسکتا ہے مگران کا رب بہت طاقت ور ہے ۔آج برما کے لاکھوں مسلمان شہید کردیے گئے کیے جارہے ہیں دنیا میں کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہے ۔ان پر مظالم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بدھ آتے ہیں بموں سے گن پاؤڈرسے گھروں کو جلا دیتے ہیں شیر خوار بچے ،بوڑھی عورتیں ،مرد ،جوان گھر وں سے نکل کر جنگل کی طر ف بھاگتے ہیں ان کو وہاں پرگھیر کر شہید کردیا جاتاہے ۔جو بچ کر دریاعبورکرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی لاشیں دریاؤں سے نکالنے والا کوئی نہیں ہوتااور کوئی نکال بھی لے تو دفنانے والا کوئی نہیں ۔اپنے معصوموں کی لاشیں روتے ہوئے کھلے آسمان کے نیچے چھوڑ کر پھر عازم سفر ہوتے ہیں ۔مائیں اپنے بچوں کو اپنے جسموں کے ساتھ باندھ کر سفرکرتی ہیں سارا سفر پانیوں اور کیچڑ میں اور اوپر سے مسلسل بارش ۔آرام کرنے کے لیے خشک جگہ نہیں ،کھانے کے لیے کوئی چیز نہیں ،پینے کو صاف پانی نہیں اور آج سردی کے موسم میں تن ڈھانپنے کو کپڑانہیں ۔سردی سب کو لگتی ہے ۔آج فلاح انسانیت فاؤ نڈیشن برمی مسلمانوں کے لیے برما کے جنگلات میں ،بنگلہ دیش میں ،انڈونیشیا میں شلیٹرہاؤس تعمیر کررہی ہے ۔مساجد اورسکول قائم کررہی ہے ۔بستراور خوراک کا بندوبست کررہی ہے ۔بیواؤں اور یتیموں کے لیے ادارے قائم کیے ہوئے ۔ضروت اس بات کی ہے کہ آج پاکستان کا نوجوان اپنے اندر ایمان کی طاقت کو بڑھائے ۔مردہ دلوں میں احساس جگائے ۔مسلمانوں کو پھر سے ایک امت بنانے کے لیے کام کرے ۔اگر ہم یہ کام کرلیتے ہیں تو کشمیر ،برما،فلسطین،افغانستان کو آزادہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔اس موقع پرجماعۃ الدعوہ کشمیر زون کے مسؤل حمیدالحسن ،ابو سیاف عظمت حیات ،عزیر غزالی،قاری مقبول الرحمن ،یونس صدیقی ،عبدالرشید صدیقی،امین بٹ،ریاض عباسی ،پیرزادہ سلطان محمود سمیت سینکڑوں افراد شریک تھے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر