محکمہ پولیس آزاد کشمیر کے جوان 6ماہ سے تنخواہوں سے محروم ،گھروں میں فاقے پڑ گئے

محکمہ پولیس آزاد کشمیر کے جوان 6ماہ سے تنخواہوں سے محروم ،گھروں میں فاقے پڑ ...

مظفرآباد(بیورورپورٹ)محکمہ پولیس کے جوان چھ ماہ سے تنخواہوں سے محروم ۔ گھروں میں فاقے پڑ گئے۔ محکمہ پولیس کی بیوروکریسی نے پولیس جوانوں کو بھوکا رکھنے کی ٹھان لی۔ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دینے والے ملازمین میں سخت تشویش اور بے چینی پھیل گئی۔ 194 ملازمین کے گھروں میں چولہے سازش کے تحت بجھا دیئے گئے ہیں۔ پولیس کی بیوروکریسی ملازمین کو فارغ کر کے من پسند بھرتیاں کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ ڈیوٹی دینے والے 194 ملازمین 9 سال ملازمت کر رہے ہیں۔ اور بھرتی کے بعد ان ملازمین نے 14 ماہ کی ٹریننگ بھی حاصل کی ہوئی ہے اور تجربہ بھی ہے ان ملازمین کے لئے محکمہ مالیات نے فنڈز بھی جاری کر دیئے ہوئے ہیں۔ بیوروکریسی سازش کے تحت محکمہ مالیات کے جاری کردہ فنڈز پر سانپ بن کر بیٹھی ہوئی ہے۔ اور سوچی سمجھی سازش کے تحت ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے پولیس اہلکاران کے گھروں میں فاقے ہیں۔ اور گزشتہ چھ ماہ سے وہ ہر ماہ کی یکم تاریخ کو تنخواہیں ملنے کی آس میں رہتے ہیں۔ مگر چھ ماہ سے ان کی امیدیں پوری نہیں ہو رہی ہیں۔ محکمہ پویس کے ذرائع کے مطابق تربیت یافتہ 194 پولیس اہلکاران کو پولیس کی اعلیٰ بیوروکریسی نے IGP آزاد کشمیر کو غلط معلومات فراہم کر کے پولیس ملازمین کو مستقل کرنے اور تنخواہوں کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ڈسپلن کے پابند پولیس کے اہلکاران بے بسی اور بے کسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ان جوانوں کا کوئی قصور بھی نہیں پولیس فورس کے جوانوں کے خاندانوں نے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان، وزیر قانون، انسپکٹر جنرل پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 194 ملازمین کو فوری طور پر مستقل کریں اور 6 ماہ کی تنخواہ ادا کر کے جوانوں کی دعائیں لیں۔ پولیس جوانوں سے 24 گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ تو تنخواہیں دینا حکومت کا فرض ہے۔ اور تنخواہیں لینا ان کا حق ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر