تھانہ چہلیک پولیس کی کارروائی جعلی اسٹامپ پیپرز کے دھندے میں ملوث مافیا کیخلاف مہم ناکام

تھانہ چہلیک پولیس کی کارروائی جعلی اسٹامپ پیپرز کے دھندے میں ملوث مافیا ...

ملتان(نمائندہ خصوصی)تھانہ چہلیک ملتان نے ایک مرتبہ پھر جعلی اسٹامپ پیپرز کے کاروبار میں ملوث جعلساز مافیا کیخلاف مہم ناکام بنادی ہے تفتیشی آفیسر محمد اشرف نے مبینہ طور پر مک مکا کے بعد مرکزی کردار محمد وارث بلوچ کو بے گناہ قرار(بقیہ نمبر38صفحہ12پر )

دے دیا۔لاکھوں روپے مالیت کے جعلی اسٹامپ پیپرز کا تمام ملبہ دیہاڑی دار ایجنٹ کے سرڈال دیا۔تفتیشی آفیسر کی ملی بھگت کیوجہ سے جعلی اسٹامپ پیپرز کے دھندے میں ملوث مہم ایک مرتبہ پھر ناکام ہوگئی ۔معلوم ہوا ہے نوید مصطفی نامی شہری نے محمد رمضان سے 38لاکھ 50ہزار روپے میں اراضی خریدی جس کے بعد منتقلی جائیداد کی دستاویزات کی تیاری کیلئے وثیقہ نویس محمد وارث خان بلوچ کی خدمات حاصل کیں۔وارث بلوچ نے دیہاڑی دار ایجنٹ سعید کے ذریعہ ای اسٹامپ پیپرز حاصل کیے۔تمام دستاویزات کی تیاری کے بعد رجسٹری برانچ ملتان کینٹ میں منتقلی پراپرٹی کاکیس پیش کیا۔ملزم نے فراڈ اور جعل سازی کو خفیہ رکھنے کیلئے اہل کمیشن نمبری849کے ذریعہ اراضی فروخت کنندہ اور خریداروں کے بیانات قلمبند کروائے جس کے بعد منتقلی اراضی کا یہ کیس ۔سب رجسٹرار ملتان کینٹ محمد عثمان کو منظوری کیلئے پیش کیا گیا ۔سب رجسٹرار ملتان کینٹ نے ملزم کی خراب شہرت کے پیش نظر ای اسٹامپ پیپرز کی ویری فکیشن کروائی تو جعلی سٹیمپ پیپرز کے استعمال کا انکشاف ہوا۔آن لائن ویری فکیشن کے مطابق ملزم نے بینک سے صرف 2ہزار روپے مالیت کے ای اسٹامپ پیپرز حاصل کیے۔بعدازاں ان کے کمپیوٹرائزڈ نمبرز میں ٹمپرنگ کی اور ان کی مالیت 1لاکھ 93ہزار5سو روپے ظاہر کی۔آن لائن ویری فکیشن کے بعد سب رجسٹرار ملتان کینٹ نے ملزم کیخلاف تھانہ چہلیک میں ایف آئی آر درج کرادی۔جس میں وثیقہ نویس محمد وارث بلوچ کے ساتھ خریدار نوید مصطفی،محمد رمضان،سکینہ بی بی،ملک سعد علی ،محمد جعفر اور ایجنٹ محمد سعید کو بھی مقدمہ میں نامزد کیا گیا۔معلوم ہوا ہے مرکزی ملزم محمد وارث بلوچ نے پہلے پہل تو سب رجسٹرار کو رام کرنے کی کوشش کی ۔لیکن ناکام رہا۔بعدازاں ملزم نے تفتیشی افسر کی ملی بھگت سے عبوری ضمانت کروائی اور شامل تفتیش ہوگیا۔ اس دوران ملزم کی رہائی کیلئے مشہور و معروف پراپرٹی ڈیلر بھی متحرک رہا ۔ ملزم کو تفتیشی سب انسپکٹر محمد اشرف نے مکمل تعاون فراہم کیااور اس تعاون کے بدلے میں سب انسپکٹر محمد اشرف کو خوب نوازا گیا، جس کے محمد اشرف نے اپنا حق بھی ادا کردیا اور ملزم محمد وارث کو بے گناہ قرار دیکر لاکھوں روپے مالیت کے جعلی ای اسٹامپ پیپرز کا ملبہ دیہاڑی دار ایجنٹ محمد سعید پر ڈال دیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ جعلی اسٹامپ پیپرز کے دھندے میں ملوث محمد وارث بے گناہ قرار دئیے جانے کے بعد اب دوبارہ دندناتا پھر رہا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران رجسٹری برانچ کی جانب سے پراپرٹی فراڈ ،جعل سازی اور بوگس سٹیمپ پیپرز کے حوالے سے ایک درجن سے زائد مقدمات تھانہ چہلیک کو بھجوائے گئے لیکن تفتیشی افسران نے ہمیشہ ملزمان کے ساتھ مک مکا کرتے ہوئے مقدمہ خارج کردیا ۔پولیس کی اس نااہلی کی وجہ سے جعلی اسٹیمپ پیپرز کا دھندہ رکنے میں نہیں آرہا ۔حکومت پنجاب کی طرف ای سٹیمپ پیپرز متعارف کروانے کے باوجود بھی جعل ساز مافیا پولیس کی نااہلی کی وجہ سے آج بھی متحرک ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ وثیقہ نویس وارث بلوچ طویل عرصہ سے اس جعلی دھندے میں ملوث ہے لیکن اب پہلی مرتبہ سب رجسٹرار ملتان کینٹ نے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے ۔سب رجسٹرار کی اس کارروائی کو تھانہ چہلیک کی پولیس نے مکمل طور پر ناکام بنادیا ہے ۔

تھانہ چہلیک کارروائی

مزید : ملتان صفحہ آخر