ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی ٹریٹمنٹ پلانٹ کام نہیں کررہا، مسئلہ حل کرناہے،کسی کورعایت نہیں دے سکتے،چیف جسٹس ثاقب نثار،پی سی ون کی تفصیلات 23 دسمبر کو طلب

ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی ٹریٹمنٹ پلانٹ کام نہیں کررہا، ...
ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی ٹریٹمنٹ پلانٹ کام نہیں کررہا، مسئلہ حل کرناہے،کسی کورعایت نہیں دے سکتے،چیف جسٹس ثاقب نثار،پی سی ون کی تفصیلات 23 دسمبر کو طلب

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ45 کروڑگیلن یومیہ فضلہ سمندرمیں جارہاہے،کوئی ٹریٹمنٹ پلانٹ کام نہیں کررہا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی سماعت کی ،دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتایاجائے انڈسٹریل ویسٹ کہاں جارہا ہے؟،اس پر چیف سیکرٹری نے بتایا کہ 5 انڈسٹریل ایریازہیں جہاں ٹریٹمنٹ پلانٹ بننے ہیں،منصوبے کی لاگت کا 50 فیصد وفاق نے دیناتھا، ایکنک اجلاس میں پانچوں ٹریٹمنٹ پلانٹ کی منظوری دےدی گئی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کاخاتمہ انسانی زندگی کیلئے ناگزیرہے، مسئلہ حل کرناہے،کسی کورعایت نہیں دے سکتے،ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تکمیل کب ہوگی،تفصیلات پیش کریں،چیف جسٹس نے کہا کہ 23 دسمبرکوچھٹی کے باوجود سماعت کریں گے،عدالت نے انڈسٹریل ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پی سی ون کی تفصیلات 23دسمبرکوطلب کرلیں ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہرپروجیکٹ کی تکمیل کی مدت کیساتھ حلف نامے لیں گے۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ حکومت ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبے پرکام کررہی ہے،مختلف منصوبوں پرکام جاری ہے،اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب !ایڈووکیٹ جنرل صاحب !ادھرادھرکی بات نہ کریں،ہم جانتے ہیں آپ کی حکومت کتنے عرصے سے ہے،بیان سے لگتاہے مسئلہ ہی حل ہوگیا،ایساہی ہے توحلف نامہ داخل کریں،اگر مسئلہ حل نہ ہواتوتوہین عدالت کی کارروائی کریں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ اتنابڑا ایشو ہے اورکہاجارہا ہے مسئلہ ہی ختم ہوگیا،آپ کے بیانات وزیراعلیٰ سندھ کوپھنسارہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وضاحت دیں یااپناقبلہ درست کرلیں،سخت فیصلہ کرنے پرمجبور نہ کریں،ہم یہاں عوامی حمایت سمیٹنے نہیں بیٹھے،عوام کی صحت اورزندگی پرسمجھوتہ نہیں ہوگا۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

مزید : قومی