تحریک لبیک کے رہنماﺅں کا نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کا فیصلہ

تحریک لبیک کے رہنماﺅں کا نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کا فیصلہ
تحریک لبیک کے رہنماﺅں کا نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کا فیصلہ

  

لاہور(ویب ڈیسک)حکومت کی جانب سے ’فورتھ شیڈول‘ میں دیئےگئے ضوابط کی پابندی نہ کرنا کافی مہنگا پڑ رہاہے اور پابندی کاشکار افراد کیلئے اس طرح کی لاپرواہی کسی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ فیض آباد میں دارالحکومت کے شہریوں اور حکمرانوں کی زندگی مشکل بنانے کے فوری بعد علامہ خادم حسین رضوی نے جنوری میں لاہور-اسلام آباد مارچ کرنے کا اعلان کردیاہے۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

جبکہ اشرف آصف جلالی نے کم وبیش دوسو افراد کے ساتھ صوبائی دارلحکومت کی ایک مصروف ترین شاہراہ کو بند کیا۔ دونوں کےنام فورتھ شیڈول میں شامل ہیں۔ ان دونوں کے ساتھ فورتھ شیڈول کی فہرست میں دیگر مذہبی علماء علمائے تنظیمِ اہلِ سنت کے پیرافضل قادری، تحریک لبیکِ پاکستان کے پیر اشرف جلالی، سپائے صحابہ کے اورنگزیب فاروقی، ساہیوال کے پیر نصیر رضا صفدر، سیالکوٹ کے پیر سخاوت علی، گوجرانوالہ کے صابرعلوی، علامہ ساجد فاروقی وغیرہ شامل ہیں۔

جبکہ وہ افراد جنھیں پہلے اس فہرست میں شامل کیاگیا وہ بھی اس سے مستثنیٰ نظرآتے ہیں، مزید افراد کو بھی روزانہ اس میں شامل کیاجاتاہے۔ نیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم اتھارٹی(نیکٹا) پاس دستیاب ڈیٹا کے مطابق چاروں صوبوں کی وزارت داخلہ نے10اکتوبر2017 تک مختلف وجوہات کی بناپر کم از کم 8633افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا۔

مختلف فرقہ ورانہ گروہوں سے تعلق رکھنے والے 1500افراد کو فورتھ شیڈول کی فہرست میں شامل کیاگیا۔ 1500 میں سے 350افراد کا تعلق شعیہ مکتب فکرسے ہے۔ فورتھ شیڈول کی فہرست میں ایسے افراد شامل کیے جاتے ہیں، جن پراینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997کے تحت دہشت گردی یا فرقہ ورانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہوتاہے۔

قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کے مطابق جن افراد کے نام کسی صوبے کی وزارت داخلہ کی جانب سے فورتھ شیڈول میں شامل کیے جاتے ہیں ان پرسفرکرنے، تقریر کرنے اور کاروبار کرنے کی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔

فورتھ شیڈول کے طور پران افراد کے نام مقامی تھانوں یا قانون نافذ کرنےوالی ایجنسیوں کو بھی دیئے جاسکتے ہیں۔ کسی بھی ایسے شخص کا نام جس کاکبھی کالعدم تنظیم سے تعلق رہاہو، اس کا نام فورتھ شڈول کے لیے تجویز کیاجاسکتاہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عام طور پر فورتھ شیڈول میں کوئی بھی نام تین سال کیلئے شامل کیاجاتاہے۔

تین سال مکمل ہونے پر اس عرصے میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ وزارت داخلہ فورتھ شیڈول میں شامل شخص کے بینک اکاﺅنٹس منجمند کرتی ہے۔ حکومت ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کرتی ہے۔ مزیدبرآں فورتھ شیڈول میں شامل شخص کو متعلقہ ایس ایچ او کی اجازت کے بغیر اپنی جگہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

تاہم فورتھ شیڈول میں شامل افراد الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔ 2014 میں مسرور احمد جھنگوی کانام فورتھ شیڈول میں شامل کیاگیا۔ 2016 میں مسرور نے جھنگ سے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا۔ انھوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انھیں انتخابات لڑنے کیلئے اہل قراردیاتھا۔ لہذا دھرنے سے قبل حکومت کے پاس ڈاکٹرجلالی کی نگرانی کرنے اور ان کے ارادے کو جاننے کا اختیار تھا۔ ساﺅتھ ایشیاءپارٹنرشپ پاکستان (ایس اےپی-پی کے) کےایگزیکٹوی ڈائریکٹر محمد تحسین کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ ان کے پاس اس تباہی کو روکنے کاکوئی اختیار یا کوئی قانونی جواز نہیں تھا، ان کے پاس جرات اور حوصلے کی کمی تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ اسلام آباد روانگی سے قبل خادم حسین رضوی کے ارادے معلوم نہیں تھے۔ انھوں نے اس بارے میں ایک پریس کانفرنس کی تھی کہ وہ کیا اعلان کرنے والے ہیں اور کیا منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ لیکن حکومت نے انھیں نہیں روکا۔

سابق سیکریٹری داخلہ تحسین نورانی نے بتایا،” فورتھ شیڈول کے تحت پابندی کا شکار افراد کیلئے قانون میں کچھ غلط یا کمی نہیں ہے۔“ ملا فضل اللہ اس وقت ایک معمولی عالم تھا جب اس کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیاگیا۔ بدقسمتی سےاس مرحلے پرحکومت نے فورتھ شیڈول کے ضوابظ پر کبھی عمل ہی نہیں کیا اور وہ ریاست کیلئے ایک عذاب بن گیا۔

سابق سیکریٹری داخلہ اور ساﺅتھ ایشیاءپارٹنرشپ پاکستان کے ایگزیکٹوڈائریکٹر محمد تحسین دونوں کا خیال ہے کہ لاہور اور اسلام آباد کے دھرنوں کو روکا جاسکتاتھا، اگر فورتھ شیڈول کےپروٹوکالز کی مکمل پابندی کی جاتی۔

ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نگرانی کیلئے مناسب اقدامات کیے جارہے ہیں ۔

مزید : لاہور