ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 30

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 30
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 30

  

نیکی کا سفر

خیر ان تمام وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ ہوا کہ پرنسز آئی لینڈ جانے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے ۔ اس کے بجائے کملیکا ہلز دوبارہ چلتے ہیں ۔ وہاں اسریٰ کے ساتھ ہم گئے تھے ، مگرسارا دن سفر کی تکان اور را ت کے اندھیرے کی بنا پر اسے ٹھیک سے نہیں دیکھ سکے تھے ۔ چنانچہ ہم اسی سمت روانہ ہوئے ۔ یہ ہمارا میٹرو کارڈ سے آخری سفر تھا۔ہم نے راستے میں میٹرو اسٹیشن سے میٹرو کارڈ میں کافی پیسے ڈلوادیے تھے ۔ اس لیے اس کارڈ میں کافی پیسے بچ گئے تھے ۔ روانگی کے وقت میں نے یہ کارڈ اسریٰ کو یہ کہہ کر دے دیا کہ بس میں سفر کرنے والی اپنی کسی سہیلی کو دے دینا۔ کیونکہ اس کے پاس گاڑ ی تھی اور اس کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔

یہ گویا اس خاتون کی نیکی کا سفر تھا جس نے ابتداء میں ہمارے ساتھ نیکی کی تھی اور ہمارے کارڈ میں اضافی رقم ڈلوائی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت نے یہ چاہا کہ کسی ترکی کو یہ کارڈ کہیں زیادہ رقم کے ساتھ واپس لوٹادیا جائے ۔اس رب کا شکر ہے کہ جس نے یہ کرم کیا۔رہی وہ خاتون تو اس کا اجر اس کے رب کے ہاں محفوظ ہے ۔کسی کی نیکی آخرت میں ضائع ہو اس کا تو کوئی سوال ہی نہیں ، مگر دنیا میں بھی نیکی کے بطن سے ہمیشہ خیر پھوٹتا ہے ۔ ہاں اکثر ہم اس خیر سے واقف نہیں ہوپاتے ۔ یہ بات قیامت کے دن ہی کھلے گی کہ ہماری نیکی نے آگے بھی بہت سفر طے کیا تھا۔

دوبارہ کملیکا ہلز

کملیکا ہلز پہلی دفعہ تو اسریٰ لے گئی تھی۔ اس لیے راستوں پر غور ہی نہیں کیا۔ اب خود جانا تھا۔ پہلے فیری میں بیٹھ کر ا سکودر کے یورپ سے ایشیا پہنچے ۔ پھر وہاں سے لوگوں سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ایک وین کملیکا ہلز تک جائے گی۔ وین میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو اس نے پہاڑ ی راستے پر سفر شروع کیا۔ ایک ایک کر کے مسافر اترتے گئے ۔ منزل نہ اب آتی نہ تب آتی۔ سارے مقامی لوگ تھے ۔ ان سے کیا پوچھتے اور کس زبان میں پوچھتے ۔ وین پورے علاقے کا چکر لگاتی ہوئی تقریباً پون گھنٹے میں خالی ہو چکی تھی۔ جب ایک دو مسافر رہ گئے تو میں نے ڈرائیور کے پاس جا کر بتایا کہ کملیکا ہلز جانا ہے ۔ اس نے جواب میں جو کچھ کہا وہ میں نہ سمجھ سکا۔ تاہم یہ سکون ہو گیا تھاکہ میری منزل ان کے سمجھ میں آ گئی ہے ۔ کیونکہ اس نے مجھے اطمینان سے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔واپس ہوتے وقت یہ اندازہ ہوا کہ ڈرائیور نے ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ وین وہاں تک نہیں جاتی بلکہ کسی قریبی اسٹا پ سے وہاں تک پیدل کا راستہ تھا۔ مگر جب اس نے دیکھاکہ ہم کچھ نہیں سمجھ رہے تو اس نے ہمیں بالکل قریب لے جا کر اتارنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بہرحال آخری مسافر کے اترنے کے بعد صرف ہم لوگ وین میں رہ گئے ۔ ڈرائیور نے وین بھگائی اور ایک ویران جگہ پر جا کر کہا کہ اترجاؤ۔ میں نے واپسی کا پوچھا تو اس کی بات کا مفہوم میں یہ سمجھا کہ یہیں آجانا۔خیر اترے تو وہاں آدم نہ آدم زاد ۔ ذرا بلندی کی طرف چلے تو وہی جگہ آ گئی جہاں اسریٰ نے اپنی گاڑ ی پارک کی تھی۔ جان میں جان آئی کہ صحیح جگہ آئے ہیں ۔ چلتے ہوئے ہم اصل جگہ پر پہنچ گئے ۔ یہاں ہم تھے اور ہماری تنہائی۔ کوئی ایک شخص بھی یہاں نظر نہیں آ رہا تھا۔ دکانیں بھی بند تھیں ۔ نہ مقامی لوگ تھے نہ ٹورسٹ۔

لیکن اس میں کوئی شک نہیں رات کے مقابلے میں شام کی اس روشنی میں اس جگہ کا حسن پوری طرح نکل کر سامنے آیا تھا۔

یہ ایک پہاڑ ی پر واقع ایک بہت بڑ ی ہموار جگہ تھی جس پر پارک بنا ہوا تھا۔ ہر طرف گھاس کے خوبصورت قطعات، ان میں جگہ جگہ لگے ہوئے پھولوں کی خوش رنگ کیاریاں ، سیکڑ وں درخت اور ہر طرف سے استنبول کا ایک بالکل مختلف نظارہ۔

باسفورس کی سمت یورپی حصہ صاف نظر آ رہا تھا۔یہاں بنا ہوا باسفورس برج، گلاطہ ٹاور، توپ کاپی سب نظر آ رہے تھے ۔ اس کے مخالف سمت میں ہم گئے تو وہاں سے استنبول کا ایشیائی حصہ دور دور تک پھیلا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ استنبول کتنا بڑ ا شہر ہے ۔ اسی سمت میں صبیحہ ایرپورٹ واقع تھا۔ جبکہ دائیں سمت بحیرہ مرمرہ میں واقع پرنسز آئی لینڈ بھی یہاں کھڑ ے ہوکر دیکھے جا سکتے تھے ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 29

فضا شفاف اور نتھری ہوئی تھی۔ موسم بہت سرد تھا اور شدید ٹھنڈ تھی۔ تیز ہوا چل رہی تھی۔مگر منظر کی خوبصورتی ٹھنڈ کے احساس پر غالب تھی۔ بلاشبہ استنبول پر طائرانہ نظر ڈالنے کے لیے اس سے زیادہ بہتر جگہ کوئی اورنہیں تھی۔یہاں آ کر احساس ہوا کہ اچھا ہوا ہم پرنسز آئی لینڈ جانے کے بجائے یہاں آ گئے ۔ اسی دوران میں دوچار لوگ نظر آنا شروع ہوگئے ۔ یہ شاید ابھی پہنچے ہوں گے ۔تاہم میرے دل میں یہ اندیشہ تھا کہ واپسی کا کیا ہو گا۔چنانچہ کچھ دیر بعد ہم نے واپسی کا قصد کیا۔

حسب توقع جس جگہ ڈرائیور نے اتارا تھا وہاں کسی بس کے کوئی آثار نہ تھے ۔ بلکہ کسی قسم کی گاڑ ی کے بھی کوئی آثار نہ تھے ۔ایک دکاندار کو بڑ ے مشکل سے مافی الضمیر سمجھایا تو اس نے ایک سمت اشارہ کر دیا۔ اللہ کے بھروسے پر چل پڑ ے ۔یہ ایک خوبصورت اور پہاڑ ی قصبہ تھا، مگر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سارا شہر گھروں میں پڑ ا سورہا ہے ۔آدم نہ آدم زاد۔ بس خوبصورت رنگوں کے گھر ہر جگہ نظر آ رہے تھے یا خالی سڑ کیں یا ان کے کنارے پارک ہوئی نئے ماڈل کی گاڑ یاں ۔ دس پندرہ منٹ چلنے کے بعد بازار اور مین روڈ کے آثار نمایاں ہوئے ، مگر بس معدوم تھی۔ دوچار لوگوں سے پوچھا۔ آخر کار ایک جگہ بس اسٹاپ نظر آ گیا۔تھوڑ ی دیر بعد بس آ گئی اور ہم اللہ کا شکر کر کے اس میں بیٹھ کر روانہ ہوئے ۔ بس خالی تھی اس لیے جلد ساحل پر پہنچ گئی۔ایک دفعہ پھر ہم فیری پر سوار ہوئے ۔ سچی بات یہ ہے کہ فیری کا سفر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ خاص کر اس نتھری ہوئی ہوا اوردلکش فضامیں جب ٹھنڈی یخ ہوا بدن کی گرمی کو ساتھ لے جا رہی ہو، دن کی چادر زمین کے سینے سے ڈھلک رہی ہو، شام کی مدھم روشنی ہر چیز کو خوبصورت بنا چکی ہو، ایسے میں استنبول کا نیلا آسمان اور اس سے کہیں زیادہ حسین نیلا سمندر آپ کو اس طرح اپنے سحر میں جکڑ تا ہے کہ سیاح بے اختیار کہہ اٹھتا ہے :

اگر فردوس بر روئے زمین

ہمیں است و ہمیں و ہمیں است

پرودگار کی مہربانی اور عنایت تھی کہ استنبول کی آخری شام بھی بہت خوبصورت اور یادگار رہی۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 31 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : سیرناتمام