فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 291

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 291
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 291

  

اے جے کاردار نے بعد میں ”قسم اس وقت کی“ کے نام سے ہوا بازوں کی کہانی بھی بنائی تھی۔ اس فلم کی تیاری میں پاکستانی فضائیہ کا تعاون بھی شامل تھا۔ سہیل رعنا اس کے موسیقار تھے۔ شبنم اور طارق عزیز نے مرکزی کردار کئے تھے۔

مشرقی پاکستان کی ہیروئن روزی اور کراچی کی اداکارہ روزینہ نے اس فلم میں رومانی کردار ادا کئے تھے۔ اس فلم کو اچھے وسائل کے ساتھ بنایا گیا تھا مگر اس کے ساتھ بھی وہی المیہ ہوا کہ نہ یہ عوام میں مقبول ہوئی اور نہ ہی نقادوں کی نگاہوں میں جچی۔یہ صرف ریکارڈ کی چیز بن کر رہ گئی ہے۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 290

اے جے کاردار اس کے بعد پاکستان میں نظر نہیں آئے۔ ”قسم اس وقت کی“ اگر کامیاب ہو جاتی تو شاید اے جے کاردار دوبارہ فلمی دنیا میں ”ان“ ہو جاتے مگر ایسا نہ ہوا اور وہ فلمی افق سے غائب ہو گئے۔ اس کے بعد نہیں معلوم کہ وہ کہاں گئے‘ کیا کرتے ہیں اور کس حال میں ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ان کا نام اور تذکرہ پاکستان میں ہر ایک زبان پر تھا۔ اب یہ عالم ہے کہ ان کا نام سن کر لوگ پوچھتے ہیں۔

”کون کاردار؟“

یہ بھی زمانے کی ستم ظریفی ہے۔

اے جے کاردار جن دنوں لاہور میں مقیم تھے (ان کا ہیڈ کوارٹر یہی تھا) انہوں نے ترقی پسند تعلیم یافتہ حلقوں میں ایک ہلچل سی پیدا کر دی تھی۔

نئی نسل کے لوگ جوق در جوق ان سے ملتے۔ طلبہ اور طالبات ان سے تبادلہ خیالات کرتے اور نتائج اخذ کرتے۔ روایتی فلم والے تو اے جے کاردار کے نام ہی سے کانوں پر ہاتھ رکھتے تھے مگر تعلیم یافتہ اور کچھ جاننے کے خواہش مند اس بہانے اکٹھے ہو کر فلموں کے حال اور مستقبل کے بارے میں بات چیت کر لیا کرتے تھے۔ اے جے کاردار نے جب نئی پود میں یہ شوق دیکھا تو چند ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر لاہور میں ”فلم انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان“ قائم کر لی۔ فلم انسٹی ٹیوٹ کا دفتر مال روڈ پر‘ فیروز سنز والی بلڈنگ میں‘ کوڈک فلمز کے اوپر والی منزل میں تھا۔ دراصل یہ لاہور میں اے جے کاردار کا دفتر بھی تھا اور رہائش گاہ بھی تھی۔ اس کا سامنے والا بڑا ہال انہوں نے ”فلم انسٹی ٹیوٹ“ کیلئے آراستہ کر دیا تھا۔ اس ادارے کے زیراہتمام کئی محفلیں سجیں اور لاہور کے صحافیوں‘ نقادوں اور فلم سے وابستہ نئے خیالات کے مالک لوگوں کو ایک ٹھکانا نصیب ہو گیا۔ اگر فیض صاحب لاہور میں موجود ہوتے تو کبھی کبھار یہاں بھی آ جاتے تھے۔ آئی اے رحمن‘ حمید اختر‘ احمد بشیر‘ شمیم اشرف ملک اور زورین جیسے لوگ بھی یہاں آتے رہتے تھے۔ ہمارا تو جیسے روزانہ کا پھیرا تھا۔

ان دنوں ہم نے مال روڈ پر ایک دفتر میں ڈیرا جما رکھا تھا ۔”کنیز“ کی کہانی ہم نے اسی دفتر میں بیٹھ کر لکھی تھی۔ بعد میں اور بھی کئی کہانیاں اسی خفیہ پناہ گاہ میں بیٹھ کر لکھیں۔ چند قریبی دوستوں کے سوا کسی کو ہمارے اس دفتر کا علم نہ تھا۔ یہ دفتر ”فلم انسٹی ٹیوٹ“ سے چند گز کے فاصلے پر تھا۔ ہم اکثر وہاں چلے جاتے تھے۔ ویسے بھی وہاں آنے جانے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ یاروں کے لئے صلائے عام تھی۔ بہت اچھی قسم کی چائے اور کافی مل جاتی تھی۔ کاردار صاحب لاہور میں موجود ہوں یا نہ ہوں چند لوگوں کا یہ مستقل ٹھکانا تھا۔

”فلم انسٹی ٹیوٹ“ نے ایک دو بار دنیا بھرکی کلاسیکی فلموں کا میلہ منعقد کیا۔ اس کے علاوہ یہاں مذاکرے اور مباحثے بھی ہوئے۔ مگر ہمیں یہ ایک ”فلمی بیٹھک“ یا ”چوپال“ کی حیثیت سے یاد ہے۔

دنیا میں سینما کے نئے رحجانات‘ فلم سازی کے بدلتے ہوئے انداز‘ دنیا بھر کی فلمیں۔ فلم ساز‘ ہدایت کار اور اداکار وہاں زیربحث آتے تھے۔ اے جے کاردار نے وہاں ہالی ووڈ‘ لندن اور فرانس کے معروف فلمی جرائد کی فراہمی کا بھی بندوبست کر دیا تھا۔ ہم جیسوں کی تو موج تھی۔

کاردار ایک دراز قد‘ سمارٹ اور خوبرو آدمی تھے۔ کھلتا ہوا گندمی رنگ‘ مناسب ناک نقشہ‘ گھنے بال جن میں سفید تار جھلملانے لگے تھے۔ باتیں بہت اچھی کرتے تھے۔ فلم اور عالمی سینما کی تحریکوں کے بارے میں ان کی معلومات بہت زیادہ اور تازہ ترین تھیں۔ اس طرح یہ فلم انسٹی ٹیوٹ کاردار کی بدولت ایک نعمت سے کم نہ تھا۔ گرمیاں ہوں یا سردیاں‘ یہاں کافی کا دور چلتا رہتا تھا۔ صرف چپراسی کو آرڈر دینے کی دیر ہوتی تھی۔ وہ بھی سب کو پہچان گیا تھا۔ ”فلم انسٹی ٹیوٹ“ کی ایک انتظامیہ بھی تھی اور ایک بجٹ بھی ہوتا تھا۔ اس کے لئے باہمی طور پر چندہ اکٹھا کر لیا جاتا تھا ورنہ جس کی جیب میں پیسہ ہو وہ بلاتکلف نکال کر خرچے کیلئے دے دیا کرتا تھا۔

جن دنوں اے جے کاردار اور عکّاس مارشل لاہور میں ہوتے تھے‘ اس زمانے میں مباحثوں میں کچھ زیادہ گرمی پیدا ہو جاتی تھی۔ مارشل بہت عمدہ کیمرا مین تھا۔ ہم حیران تھے کہ سب کچھ چھوڑ کر وہ کاردار کے ساتھ کیوں لگ گیا ہے۔ مشکل حالات میں‘ نامانوس ماحول میں کام کرتا ہے۔ آخر سبب کیا ہے۔ اس کا سبب ہمیں آئی رحمن صاحب نے بتایا۔ انگلستان میں عکاسوں کی یونین کا رکن بننے کیلئے ضروری ہے کہ کسی ممتاز بین الاقوامی یا قومی فلم ساز کے ساتھ کچھ عرصہ کام کیا جائے۔ مارشل صاحب اس لئے اے جے کاردار کے ساتھ لگ گئے تھے کچھ عرصے بعد دونوں میں دوستی ہو گئی اور مارشل کو بھی پاکستان کے لوگ اور ماحول پسند آ گیا تھا۔

فلم انسٹی ٹیوٹ کا دفتر بالائی منزل پر تھا۔ اے سی وغیرہ کا نام و نشان تک نہ تھا اس لئے اچھی خاصی گرمی محسوس ہوتی تھی۔ گرمیوں کے موسم میں مارشل صاحب کپڑے اتار کر صرف جینز یا بنیان اور جانگیا زیب تن کر کے ننگے فرش پر‘ سر کے نیچے اخبارات کا بنڈل رکھ کر لیٹ جاتے تھے، وہیں لیٹے لیٹے گفتگو میں حصہ لیا کرتے‘ نیند آتی تو سو جاتے۔ آنکھ کھلتی تو پھر وہیں لیٹے لیٹے گفتگو اور بحث میں شامل ہو جاتے۔ دیسی وہسکی ان کی پسندیدہ شراب تھی۔ اسی طرح نان کباب ان کی کمزوری تھے۔ بیڈن روڈ سے نان کباب منگا کر کھاتے۔ سیاہ کافی کے دو مگ پیتے اور فرش پر دراز ہو کر سو جاتے۔ عجیب ملنگ قسم کے آدمی تھے۔ پاکستانی فلموں‘ موسیقی اور ادب سے اس کو بہت دلچسپی تھی۔ ایک دن ہم نے پوچھا کہ فرش پر چادر یا بستر کیوں نہیں بچھاتے ہو تو جواب دیا۔

”ننگا فرش ٹھنڈا ہوتا ہے۔ اس پر سونے کا مزہ ہی الگ ہے۔“

فلم انسٹی ٹیوٹ بھی اے جے کاردار کے رخصت ہوتے ہی اللہ کو پیارا ہو گیا تھا۔ اس طرح لاہور کے فلمی شیدائیوں کا ایک ٹھکانا ختم ہو گیا۔ اس جگہ بیٹھ کر باتیں کر کے اور دستیاب فلمی لٹریچر پڑھ کر بہت سے لوگوں نے بہت کچھ سیکھا تھا۔ اس کے بعد تو پھر کسی کو اس قسم کا مفید ادارہ قائم کرنے کا خیال ہی نہ آیا اور اب تو خیر نفسانفسی کا عالم ہے۔ کہاں کا عالمی سینما اور کیسا فلم انسٹی ٹیوٹ۔

فلم انسٹی ٹیوٹ کے نیچے ”کوڈک“ کا دفتر تھا۔ اس زمانے میں ”کوڈک“ ہی وہ ادارہ تھا جو فلم سازوں کو خام فلم فراہم کرتا تھا۔ اکثر مختلف وجوہات کی بنا پر خام فلم کی قلت پیدا ہو جاتی تھی تو ”بلیک“ کرنے والوں کے پوبارہ ہو جاتے تھے۔ کئی فلم سٹوڈیوز کے مالک اور بڑے فلم ساز مختلف فلموں کے نام پر خام فلم کا کوٹہ حاصل کر لیتے تھے اور پھر بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے تھے۔ اس طرح لاکھوں کماتے تھے۔

”کوڈک“ ایک برٹش ادارہ ہے۔ اس کے دفتر کا ٹھاٹ باٹ اور رکھ رکھا¶ بھی خالص انگریزی تھا۔ انگریز جنرل منیجر بھی انگلستان سے آتا تھا۔ یہ دفتر قیام پاکستان سے پہلے کا تھا اور یہاں کا ماحول باوقار اور شاندار تھا۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 292 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فلمی الف لیلیٰ