ووٹ دینے سے پہلے سوچ لینا

05 دسمبر 2017 (14:24)

ڈاکٹر شاہد صدیق

     ووٹ کے تقدس کی بحالی کے آوازے اور گلی گلی اٹھتے غربتوں کے جنازے میں صبح و شام  دیکھتا ہوں – انہی جنازوں میں کچھ غیرت و حمیت کے بھی ہیں - کچھ انسانی اقدار کی پامالی اور اداروں کی بے توقیری کے لاشے بھی بے گوروکفن  پڑے  ستر ڈھانپنے کو  کسی  چار گزچادر کے تمنائی ہیں- حق رائے دہی کا تقدس کیا ایک ذات کے لئے ہے یا پھر ووٹ دینے والوں کے تقدس کی بھی پرواہ ہے کسی کو- لوٹ مار، خریدو فروخت اور مجبوریوں کے سودے میں حاصل کئے گئے یہ مقدس تقدس کس کی خدمت کر رہے ہیں –

 ساڑھے چار سال  کے بعد گلی محلوں میں کام ہورہے ہیں اور گلیوں میں لگتی ٹف  ٹائلز  کے  ٹھیکے اور ان ٹھیکوں کی شفافیت پہ بھی کئی سوال اٹھ رہے ہیں- کہتے ہیں کہ میری قوم  کی یا د داشت بہت کمزور ہے- اس لئے ترقیاتی کاموں کا وقت الیکشن کے قریب کا ہی ہے جب نئی نئی پیوند کاری کے  اثرات انتخابات کے جال کو  نہایت مہارت سے سیتے  اور بنتے ہیں -پنچھی جوق در جوق اس تقدس  کے پھندوں میں پھنستے جاتے ہیں اور آپ اسمبلیوں میں پہنچے خوب مال بناتے ہیں – ماشااللہ سال ہا سال کی تنگی کے بعد   پھر  وقتی خدمت  ، ٹھیکے ، مال اور اگلی حکومت کی تیاری میں  کوٹ پتلون ، شیروانی اور نئی اجرک  کی تیار ی میں اٹھنے والے اخراجات  کے لئے نقب زنی کیا خوب ایکسر سائز ہے-میں تو یہی کہتا ہوں کہ  میرے حاکمو آپ کے رنگ نرالے ہیں- آپ کو الیکشن لڑنا اور جیتنا آتا ہے کیونکہ آپ ہی کے مطابق الیکشن لڑنا اور جیتنا ایک سائنس بن چکی ہے اور آپ کا ان پڑھ ووٹر کیا جانے آپ کے ان سائنسی  اسباق کے بین السطور کیا لکھا  ، پڑھا اور پڑھایا جاتاہے- 

ماہ دسمبر ،یہ وہ مہینہ ہے جس میں بابائے قوم دنیا ئے فانی میں ایک پسی ہوئی  مسلم اقلیت کو گوری چمڑی اور بنیئے کی دمڑی سے نجات دلانے کے لئے پیدا ہوئے  - ان کی بے لوث ، انتھک اور  ایماندارانہ  قیادت   کی بدولت 14 اگست  1947ء کو پاکستان  معرض ِ وجود میں آیا – اس مملکت میں جو مسلمانوں کی ایک  آزاد ریاست بنی  اس نے ہر مکتبہ ء فکر، ہر فرقہ،  ہر مسلک و مذہب کے ماننے والوں کو آزادی دی – پاکستان پہ آنے والی  ابتدائی مشکلات میں سے ایک  اسی قائد کی رحلت تھی جس کی مرہون منت  ہماری انگریز ہندو استعمار سے گلو خلاصی تھی- اور پھر قائد ملت لیاقت علی خان  کی بے وقت شہادت نے ہمیں لیڈر شپ کے بحران سے دوچار کر دیا – ہم ایک بھی قیادت ایسی نہ لا سکے جو اس ملک کو سادگی  ، ایمانداری اور جانفشانی سے چلا سکتی- انتظامی امور میں کوتاہیاں  اور آپس کے ٹکراؤ نے ہمیں مارشل لاء کے چار ادوار دکھائے اور نا اہل لوگوں کی نا عاقبت اندیشی نے سول حکمرانی  کی مہار  کو کچھ ایسے کاٹا کہ ہم آج تک جمہوریت اور آمریت میں پستے گئے- 1970ء کےصاف  وشفاف ، غیر جانبدارانہ انتخابات کےبعد ذوالفقار علی بھٹو ایک عوامی لیڈر کے طور پر ابھرے- یہ جمہوری دور  1977ء تک رہا جس میں جوہری پاکستان کی بنیاد رکھی گئی ،   ترقیاتی کام ہوئے – مقبوضہ علاقے واگزار ہوئے – نوے ہزار قیدی پاکستان لائے گئے-خارجہ پالیسی میں خاطر خواہ  کامیابیوں نے پاکستان کو ایک با وقار مملکت کے طور پہ ابھارا لیکن ایک مارشل لاء نے 5 جولائی 1977ء کو پھر پاکستان کے  جمہوری سفر کو کھوٹا کر دیا- امریکہ کی اندرونی مداخلت شروع ہوئی اور ہم افغان جہاد کے  جہادی بنا دیئے گئے- اگلا  مارشل لاء جنرل پرویز مشرف صاحب کا تھا- جس  میں  ہونے والے نقصانات آج تک موضوعِ بحث ہیں-

 ان مارشل لاء کے ثمرات  کس کس نے اٹھائے یہ بحث بھی  لا حاصل ہے- کس کس سیاستدان کی سیاست اسی مارشل لاء کی مرہونِ منت ہے اس گہرائی میں جانے کی بھی ضرورت نہیں- کس کس نے مشرف مارشل لاء کو قانونی بنانے اور  انہیں وردی میں ہی پاکستان  کا صدر بننے میں کندھا فراہم کیا آج اس پہ بھی بات نہیں کرتے – بے نظیر  بھٹو کی شہادت کس کے کھاتے میں ڈالیں شاید یہ وقت اس کے لئے بھی مناسب نہیں- سابقہ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اور موجودہ چیف قمر جاوید باجوہ صاحبان نے بھی لولی لنگڑی جیسی بھی تھی اس جمہوریت کو چلنے دیا – کراچی اور ملک میں امن آیا – پاکستان کی ساکھ بہتر بنانے میں اپنے کردار کو بخوبی نبھایا  لیکن  سیاست دانوں کے لئے پانامہ کا ہنگامہ چلا آیا جس میں پچھلے ڈیڑھ سال کے  ہوتے سوالات آج بھی مختلف مقننہ اداروں میں جواب طلب ہیں- ان سوالات کا جواب تو نہ آیا  لیکن ایک نیا سلوگن آگیا کہ  حقِ رائے دہی کا تقدس  بحال کروایا جائے اور مقدمات کا فیصلہ وہی اکثریتی ان پڑھ عوام کرے  جو یہ بھی نہیں جانتی  کہ نام لکھنے کے ہجے کیا ہیں- روزی روٹی کی تلاش میں پستی - بجلی  ، پانی  اور مہنگائی میں ڈوبی عوام - ہسپتالوں  ، عدالتوں  اور در در بے عزت ہوتی  عوام جس کی عزت اور  توقیر بڑھانے کے دعوے دار  اپنی عزت  کے داغ دھونے میں  مشغول ہیں  اور عدالتوں کے فیصلےاب  ان بے بسوں  اور غربت کے ماروں سے کروانے کو کمر بستہ ہیں– اگر ووٹ ہی سارے فیصلے کرتا تو زین کی ماں کے آنسو  قاتلوں کا فیصلہ  عوامی ووٹ سے ہی کیوں نہیں کروا سکتے- ایسی کئی مائیں کئی باپ ، کئی بیٹے ، کئی بیٹیاں اور لاکھوں بہنیں جو عدالتوں میں زیر ِ التوا مقدمات میں برسوں کی رُل رہی ہیں ان کا فیصلہ بھی اسی ووٹ کے تقدس سے ہی کروا دیجیئے صاحب-

معزز قارئین ووٹ اس ملک کی امانت اور ہمارے مستقبل کی ضمانت ہیں- ایک بار پھر فیصلہ آپ کے ہاتھ ہوگا- ایک دفعہ پھر  قدرت آپ کو موقع دے گی – ووٹ کی اہمیت کو سمجھیئے-اسے ووٹ دیجیئے جو  مذہبی لسانی تعصب سے پاک ہو – ووٹ کی بنیاد کارکردگی  اور صلاحیت ہو – اپنے تئیں بہتریں پارلیمنٹیرین  اسمبلی میں لائیے چاہے وہ وفاقی ہوں یا صوبائی- ان لوگوں کے پیمانے آپ کے اپنے شہر ، گلی کوچے، محلے اور  گاؤں ہیں – اگر ان میں وہ سب صلاحیتیں ہیں جن کا تذکرہ ان کے چپھے پملٹس میں ہے تو خدارا وہ کسی پارٹی کا بھی ہے اسے ووٹ  دے دیجیئے – جو کہتے ہیں کہ انتخابات دور ہیں ان کی باتوں پہ توجہ مت دیجیئے اور تیار ہو جایئے اس سے پہلے کہ ہم پھر بھگتیں اور سڑکوں کو دھرنوں سے سجائیں- دھرنے ملک کو نقصان پہچاتے ہیں – لوگوں کی زندگیاں اجیرن کرتے ہیں – احتجاج آپ کا حق ہے لیکن کسی کی حق تلفی آپ  کا شعار نہیں- جلاؤ ، گھیراؤ اور آتش و بارود کی سجی فقط  سڑکیں ہماری  عقل پہ بین کرتی ہیں-

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں