امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی سفری پابندیوں کی حمایت کر دی

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی سفری پابندیوں کی حمایت کر دی
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی سفری پابندیوں کی حمایت کر دی

  

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکہ کی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر لگائی جانے والی پابندی مکمل طور پر نافذ العمل ہو سکتی ہے،نو میں سے سات ججوں نے امریکی انتظامیہ کی اس درخواست کو منظور کیا کہ ماتحت عدالتوں کی جانب سے صدر ٹرمپ کے حکم نامے پر عائد کردہ پابندیوں کو ہٹا دیا جانا چاہیے لیکن چاڈ، ایران، لیبیا، شام، سومالیا اور یمن سے سفر کرنے والے افراد پر پابندیوں کے حوالے سے اب بھی قانونی چیلنج موجود ہیں۔

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے سنائے جانے والے اس فیصلے کے بعد اس معاملے کو اب اس ہفتے سان فرانسسکو، کیلیفورنیا اور رچمنڈ کی وفاقی عدالتوں میں سنا جائے گا۔واضح رہے کہ صدرٹرمپ نے گذشتہ سال جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک متنازع پالیسی کے تحت تین طرح کے حکم نامے جاری کیے تھے جس کے تحت سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔جن ممالک کے شہریوں پر امریکہ آمد پر پابندی عائد کی گئی تھی ان میں عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہری شامل تھے۔

گذشتہ سال جنوری میں سفری پابندیوں سے متعلق جاری کیے گئے ایک حکم نامے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے اور امریکہ کے ہوائی اڈوں پر شدید افرا تفری کا عالم تھا، تاہم اس حکم نامے کو فیڈرل کورٹ نے گذشتہ برس فروری میں معطل قرار دے دیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی