اگر پنجاب حکومت نے فوری رپورٹ نہ دی تو پھر کارکنان پر امن طریقے سے کل رپورٹ لینے جائیں گے :طاہر القادری

اگر پنجاب حکومت نے فوری رپورٹ نہ دی تو پھر کارکنان پر امن طریقے سے کل رپورٹ ...
 اگر پنجاب حکومت نے فوری رپورٹ نہ دی تو پھر کارکنان پر امن طریقے سے کل رپورٹ لینے جائیں گے :طاہر القادری

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ اگر جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ شہدا کے لواحقین کو نہ دی گئی تو کل تمام کارکنان پر امن طریقے سے پنجاب حکومت کے پاس پہنچے گے اور رپورٹ مانگنے کی درخواست کریں گے ۔انہوں نے پاکستانیوں سے اپیل کی کہ مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لیے کل ہمارا ساتھ دینے کے لیے آئیں۔انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ میرا کنٹینر بھی بھجوا دیں ۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ حکومت کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے ،رپورٹ ہر صورت میں پبلک کرنا پڑے گی اور رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد دیکھیں گے کہ اس میں کوئی ردو بدل تو نہیں کی گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے طے شدہ حکمت عملی کے ساتھ اس کیس میں تاخیر کی تاکہ موجودہ حکومت کا وقت گزر جائے اورعدالتیں آزادی کے ساتھ کام کریں ۔

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی رپورٹ کو پبلک نہ کرنے سے متعلق پنجاب حکومت کی اپیل لاہورہائیکورٹ کی جانب سے مسترد ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہر القادری نے کہا کہ انسانیت کا قتل کرنے والی قیادت پر لعنت ہے ،اس قیادت کا پول سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں کھول دیا ۔انہوں نے کہا کہ آج ہائی کورٹ کے حکم نامے کے مطابق دو باتیں کی گئی ہیں،سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہدا کے لواحقین کو فوری طور پر رپورٹ دی جائے اور میڈ یا کو یہ رپورٹ ایک مہینے بعد دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ خرم نواز گنڈا پور سول سیکریٹریٹ پہنچ گئے ہیں اگر رپورٹ آج دعے دی گئی تو ٹھیک ہے ،اگر نہ دی گئی تو کل پھر سب کارکنا ن پرامن طریقے سے پنجاب حکومت کے پاس پہنچ جائیں گے ۔طاہر القادری نے کہا کہ دھرنے سے اٹھنے کے بعد ہم نے قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا لیکن طے شدہ حکمت عملی کے تحت اس کیس میں جان بوجھ کر خود ہی تاخیر کی کیونکہ ہمیں خدشہ تھا کہ اگر حکومت نے فیصلہ اپنی مرضی کا کروالیا تو وہ اپیلیں بھی خارج کروالیں گے اس لیے ہم نے اپنے وکیل بدلے اور کیس میں تاخیر کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ آج لاہورہائی کورٹ نے جو فیصلہ سنا یا ہے اور مظلومو ں کی جس طرح سے داد رسی کی ہے ،اس کا اجر اللہ کے ہاں سے ججوں کو ضرور ملے گا ۔

ڈیلی پاکستان کا یو ٹیوب چینل سبسکرائب کر نے کے لیے یہاں کلک کریں

مزید : قومی /اہم خبریں