سابق صدر کے قتل کے بعد یمن میں حوثی ملیشیا نے 200 قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا

سابق صدر کے قتل کے بعد یمن میں حوثی ملیشیا نے 200 قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا
سابق صدر کے قتل کے بعد یمن میں حوثی ملیشیا نے 200 قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا

  

صنعا ء (ویب ڈیسک) یمن میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت کے اثرات دارالحکومت صنعاء میں بھی  دیکھے جا رہے ہیں جنہیں حوثی مسلح عناصر نے گھات لگا کر اُس وقت نشانہ بنایا جب وہ صنعاء کے جنوب میں اپنے آبائی علاقے سنحان گورنری کے راستے میں تھے۔حوثی ملیشیا نے صنعاء میں جگہ جگہ چیک پوسٹ قائم کر دی ہیں اور اپنے ٹھکانوں اور مراکز کی پہرے داری سخت کر دی ہے، حوثیوں نے السیاسی کے علاقے میں قیدی بنائے گئے افراد اور صالح کے محافظین میں سے تقریبا 200 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ڈیلی پاکستان کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

العربیہ کے مطابق باغیوں  نے مقتول یمنی صدر کے عزیز واقارب کے گھروں پر چھاپے مارے اور پیپلز کانگریس پارٹی اور قبائل سے تعلق رکھنے والے بعض حامیوں کو موت کی نیند سلا دیا،حوثی ملیشیا نے صنعاء میں صالح کی سیاسی جماعت جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے رہ نماؤں کے خلاف چھاپوں، دھاوؤں اور گرفتاریوں کی درجنوں کارروائیاں کیں۔ دوسری جانب عرب اتحادی طیاروں نے صنعاء میں قصرِ جمہوری پر کئی حملے کیے۔ حوثیوں نے صالح کے قتل کے چند گھنٹے بعد صنعاء میں غیر اعلانیہ ہنگامی حالت نافذ کر دی اور اپنے مسلح عناصر کو مختلف علاقوں میں تعینات کر دیا۔

مزید : عرب دنیا