جب ایک قلندرنے گاندھی جی کا سیاسی قد بڑھادیا

جب ایک قلندرنے گاندھی جی کا سیاسی قد بڑھادیا
جب ایک قلندرنے گاندھی جی کا سیاسی قد بڑھادیا

  

لاہور (ایس چودھری )ہندوستان کی اسلامی تحریکوں میں بزرگان دین کا بنیادی کردار بھی رہا ہے اور انکے تصرفات و کرامات سے اسلام کے بدخواہوں کو منہ کی بھی کھاناپڑتی تھی۔لیکن تاریخ میں ایک واقعہ ایسا بھی رونما ہوا ہے جب ہندووں کے باپو گاندھی جی کی جماعت کو راتوں رات ایک قلندر  کی کرامت سے تقویت مل گئی تھی۔ناگپور کے جلسہ میں ان کا قد بڑھ گیا۔ عین اس وقت علی برادران انکی شفقت سے محروم ہو کررہ گئے ۔یہ غیر معمولی واقعہ کیسے رونما ہوا ؟ اسکا ذکر حضرت بابا تاج الدین ناگپوریؒ کی سوانح حیات میں ملتا ہے۔ بابا تاج الدین ناگپوریؒ  سلسلہ عظیمیہ کے بزرگ ہیں۔روایت کے مطابق جب مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی نے ناگپورمیں آپؒ کی نیازمندی کے لئے حاضر ہونا چاہا تو ا نہوں نے باباصاحبؒ کے پاس حاضر ہونے کے بجائے راجہ رگھوجی راو سے رابطہ کیا اور انہیں لکھا کہ باباصاحبؒ سے ملنے کا وقت مقرر کردیں۔ راجہ صاحب پریشان ہوگئے کہ کون ساوقت دیں۔ باباصاحبؒ کے کوئی اوقات مخصوص نہیں تھے۔ لوگ ہر وقت حاضر ہوتے اورنہ ہی باباصاحبؒ کسی کو وقت دیتے تھے۔ باباصاحبؒ نے خود ہی راجہ صاحب سے کہا۔ ”ان سے کہو جمعہ کے دن چاربجے ہمارے ساتھ چائے پئیں۔“

راجہ صاحب نے علی برادران کو مطلع کر دیا۔ جمعہ کے دن ٹھیک چار بجے حضور باباصاحبؒ کمرے سے باہر تشریف لائے۔ چائے طلب کی اورحکم دیا کہ حاضرین کو چائے پلائی جائے۔

علی برادران وقت پر نہ پہنچ سکے۔ سب نے چائے پی اور پانچ بجے باباصاحبؒ نے سواری طلب کی اور شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے میں علی برادران کی موٹر آتی ہوئی نظر آئی۔ تو ہیرا کوچوان نے تانگہ روک لیا ۔علی برادران نے کارسے اترکر سلام عرض کیا۔

باباصاحبؒ نے کوچوان سے کہا۔”کیوں رے، ان کو ہاردے دوں؟“

اس نے ہاتھ جوڑکر عرض کیا۔”ہاں بابا، دے دو۔“

باباصاحبؒ نے فرمایا۔”میں کیا دوں گا۔ توہی دے دے۔“ ہیرا کوچوان نے کچھ ہاراٹھا کر علی برادران کو دے دیئے۔

باباصاحبؒ نے فرمایا۔”جاو اب پھاٹک دیکھو۔“

اس کے ساتھ ہی بابا صاحبؒ کی سواری شہر کی طرف روانہ ہوگئی۔ علی برادران باباصاحبؒ کے ارشاد کا مطلب کچھ بھی نہیں سمجھے۔

اس وقت ناگپور میں کانگریس کا جلسہ ہونے والا تھااور علی برادران خلافت کے سلسلے میں جلسہ کرنے والے تھے۔ گاندھی جی بھی آئے ہوئے تھے۔ باباصاحبؒ کی آمد کا شور سنا تو سب سڑک پر آگئے۔ اورسلام عرض کیا۔ باباصاحبؒ نے فرمایا۔”جاو،جاو ، آٹھ سو کوّے اڑادیئے۔“

گاندھی جی اس ارشاد کو کوئی معنی نہ پہنا سکے۔ رات کو جلسہ ہوا تو آٹھ سوممبران کٹ کر گاندھی جی کی طرف آگئے۔ اس وقت گاندھی جی کو باباصاحبؒ کے ارشاد کا مطلب سمجھ میں آگیا۔ ایک زمانہ میں گاندھی جی روزانہ باباصاحبؒ کے پاس حاضر ہواکرتے تھے۔ باباصاحبؒ ان کو ڈانٹتے لیکن وہ پروا نہیں کرتے۔ اورپابندی سے حاضر ہوتے تھے۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

مزید : ڈیلی بائیٹس