سعودی عرب میں پاکستانیوں اور بھارتیوں کی شامت آگئی ، سعودی حکومت نے 550 سعودیوں کو پیچھے لگا دیا

سعودی عرب میں پاکستانیوں اور بھارتیوں کی شامت آگئی ، سعودی حکومت نے 550 ...
سعودی عرب میں پاکستانیوں اور بھارتیوں کی شامت آگئی ، سعودی حکومت نے 550 سعودیوں کو پیچھے لگا دیا

  

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں ایک کے بعد ایک شعبے سے غیر ملکیوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی دیگر شعبہ جات کے بعد اب حکام نے سونے اور زیورات کی دکانوں کا رخ کر لیا ہے۔ اس شعبے سے غیر ملکیوں کو نکالنے کی مہم نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور سعودی وزارتِ محنت و سماجی ترقی کی جانب سے پورے ملک میں انسپکیشن ٹیمیں روانہ کی جا رہی ہیں۔

سعودی عرب جانا اب کوئی مسئلہ ہی نہ رہا، سعودی حکومت سے ویزہ حاصل کرنے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ۔۔۔ سب سے بڑی خبر آگئی

سعودی گزٹ کے مطابق وزارت کی جانب سے گزشتہ روز بیان سامنے آیا کہ مملکت بھر میں 85 انسپکیشن ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں۔ اس مہم میں وزارتِ محنت و سماجی ترقی کے ساتھ وزارتِ داخلہ ، میونسپل و دیہی امور کی وزارت، تجارت و سرمایہ کاری وزارت ، علاقائی حکومتیں، قومی سلامتی اور پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ بھی شامل ہیں۔

معائنے کیلئے بھیجی گئی 85 ٹیموں میں سے ہر ٹیم میں 6 سے 7 ارکان شامل ہیں۔ یہ ٹیمیں کمرشل سینٹروں ، شاپنگ مالز، مارکیٹوں اور دوکانوں میں جا کر معائنہ کر رہی ہیں اور جہاں بھی قانون کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے فوری طور پر ایکشن لیا جاتا ہے۔ متعلقہ وزارت کی جانب سے عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سونے اور زیورات کی دکانوں پر کسی غیر ملکی کو کام کرتے دیکھے تو فوری طور پر 19911 پر اطلاع دیں۔

اس مہم کا مقصد سونے اور زیورات کے شعبے سے غیر ملکیوں کو نکال کر اس شعبے میں سعودی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمتیں اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہے ۔ معائنہ ٹیموں نے مکہ کے علاقہ میں 252 چھاپے مارے اور 22 خلاف ورزیوں کا انکشاف ہونے پر 37 دکانوں کو بند کر دیا۔ مدینہ میں بھی 2 مارکیٹوں کا معائنہ کیا گیا جس کے دوران 53 دکانوں کا جائزہ لیا گیا اور خلاف ورزی پر 4 دکانوں کو بند کیا گیا جبکہ ایک دکان کو جرمانہ کیا گیا۔

طائف کے علاقے میں معائنہ ٹیموں نے 48 دکانوں کا جائزہ لیا جن میں سے 13 کو قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ۔عسیر ریجن میں 105 دکانوں کا جائزہ لیا گیا جن میں سے قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہونے والی 34 دکانوں کو بند کر دیا گیا ۔ سعودی حکام توقع کر رہے ہیں کہ غیر ملکیوں کو اس شعبے سے مکمل طو رپر نکالنے کے بعد سعودی شہریوں کو 15 ہزار سے 20 ہزار ملازمتیں مل سکیں گی ۔

مزید : عرب دنیا