لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ شائع کردی ہے

لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری ...
لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ شائع کردی ہے

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ شائع کردی ہے ۔جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل انکوائری ٹربیونل نے کارروائی مکمل کرکے9اگست 2014ءکو یہ رپورٹ حکومت کو بھجوائی تھی ۔فاضل ٹربیونل نے رپورٹ میں قراردیا ہے کہ رپورٹ میں جو حالات وواقعات بیان کئے گئے ہیں ان کی روشنی میں سانحہ منہاج القرآن کے ذمہ داروں کا آسانی کے ساتھ تعین کیا جاسکتا ہے ۔رپورٹ میں پولیس واپس بلانے کے اپنے حکم سے متعلق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کے بیان حلفی کو بھی حقیقت کے منافی قرار دیا گیا ہے ۔فاضل ٹربیونل نے قرار دیا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں خون کی ہولی کے حالات وواقعات سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ اس قتل عام میں پولیس افسر مستعدی سے شامل ہوئے ۔پنجاب کی تمام اتھارٹیز کی بے حسی اور غیر محتاط کردار نے ان کی بے گناہی اور معصومیت کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق ماڈل ٹاﺅن آپریشن کی منصوبہ بندی وزیرقانون رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں 16جون 2014ءکوہونے والے اجلاس کے دوران کی گئی جبکہ اس خون ریزی سے آسانی کے ساتھ اجتناب کیا جاسکتا تھا۔یہ بڑا تکلیف دہ امر ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 19مئی2011ءکو ادارہ منہاج القرآن کی سیکیورٹی کے لئے وہاں رکاوٹوں کا حکم جاری کیا تھا ،تین سال تک کسی طرف سے ان رکاوٹوں کے خلاف شکایت موصول نہیں ہوئی لیکن رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وہاں آپریشن کا فیصلہ کرلیا گیا ،اگر عدالتی حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جاتا تو یہ سانحہ وقوع پذیر نہ ہوتا ۔پولیس نے وہاں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پر جس طرح بہیمانہ تشدد کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس کے یہ دستے وہاں کیوں بھیجے گئے تھے ۔پولیس اور بلا استثنیٰ تمام متعلقہ حکام مجرمانہ اعانت کے مرتکب ہوئے جس کے نتیجے میں یہ ناقابل تلافی نقصان ہوا۔رپورٹ میں فاضل جج نے کہا ہے کہ یہ بہت صدمے کی بات ہے کہ تمام لوگ دیدہ دانستہ ایک دوسرے کو بچانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔ٹربیونل نے بہت احتیاط کے ساتھ 17جون2014ءکو وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی پریس کانفرنس کی سی ڈی دیکھی ہے اس پریس کانفرنس میں انہوں نے پولیس کو ادارہ منہاج القرآن سے واپس بلانے کے اپنے کسی حکم کا ذکر نہیں کیا ،ریکارڈ سے پولیس واپس بلانے سے متعلق وزیراعلیٰ کے حکم کی تصدیق نہیں ہوتی ہے ۔وزیراعلیٰ کی طرف سے پولیس واپس بلانے سے متعلق جو بیان دیا گیا ہے وہ بعد کی سوچ بچار کا نتیجہ ہے جو ان کے دفاع میں گھڑا گیاہے ۔پولیس کے ایکشن ،لوگوں پر تشدد اور فائرنگ سے یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ اسے وہاں اسی کام کے لئے بھیجا گیا تھا ۔انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سچائی تک پہنچنے کے لئے ٹربیونل سے عدم تعاون کا یہ عالم تھا کہ اوپر سے لے کر نیچے تک کسی بھی پولیس والے نے اس بابت ایک لفظ نہیں بتایا کہ فائرنگ کے وقت پولیس کو کون کمان کررہا تھا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 23جون 2014ءکو طاہر القادری وطن واپس آرہے تھے اور انہوں نے راولپنڈی سے لاہور تک لانگ مارچ کا اعلان کررکھا تھا۔ان کے لانگ مارچ کے خلاف پیش بندی کے لئے راناثناءاللہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب ،سیکرٹری ٹو چیف منسٹر ،ہوم سیکرٹری ،کمشنر لاہور ، سی سی پی او لاہور اور سپیشل برانچ کے نمائندے شریک ہوئے ،وہاں کمشنر لاہور نے ادارہ منہاج القرآن کے اردگرد حفاظتی رکاوٹوں کی بابت رپورٹ دی ۔منصوبے کی ڈاکٹر توقیر شاہ اس وقت کے سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ نے بھی وزیراعلیٰ کی طرف سے آپریشن پر رضامندی کا اظہار کیا ۔رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے ٹربیونل کو دیا گیابیان حلفی حقائق پر مبنی نہیں ہے ۔وزیراعلیٰ کے مطابق وہ لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے نو بجے گورنر ہاﺅس پہنچے تھے ،ساڑھے نو بجے انہیں ٹی وی پر ماڈل ٹاﺅن کی صورتحال سے آگاہی ہوئی اور انہوں نے اپنے سیکرٹری توقیر شاہ کو ٹیلی فون پر حکم دیا کہ پولیس فوری طو ر پرواپس بلا لی جائے ۔توقیر شاہ نے اپنے بیان حلفی میں نشاندہی کی ہے کہ انہو ںنے وزیرقانون اور ہوم سیکرٹری کو پولیس واپس بلانے کے حکم سے آگاہ کردیا تھا لیکن انہیں واپس یہ بتایا گیا کہ موقعہ پر موجود افسروں کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے ۔دوسری طرف رانا ثناءاللہ نے اپنے بیان حلفی میں پولیس واپس بلانے سے متعلق حکم کے بارے میں ایک لفظ بھی بیان نہیں کیا ہے ۔فاضل ٹربیونل نے قرار دیا ہے کہ رپورٹ میں جو حالات وواقعات بیان کئے گئے ہیں ان کی روشنی میں سانحہ منہاج القرآن کے ذمہ داروں کا آسانی کے ساتھ تعین کیا جاسکتا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں امن عامہ کو یقینی بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں نے ضرب عضب سمیت فوج کے اقدامات کی حمایت کی۔اس بابت مثبت خبریں آرہی تھیں ،پوری قوم مادروطن کی حفاظت اور امن کے لئے اپنے فوجی جوانوں کے ساتھ کھڑی تھی ۔اچانک قومی اور بین الاقوامی میڈیا سے ادارہ منہاج القرآن کے ارد گرد آدھی رات کو ہونے والا "تماشہ"نشر ہونا شروع ہوگیا اور معلوم ہوا کہ وہاں لاہور کے 12تھانوں کے پولیس اہلکار آپریشن میں مصروف ہیں ۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

مزید : قومی