سانحہ ماڈل ٹاﺅن رپورٹ جاری کی جائے ،رپورٹ ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوگی :ہائی کورٹ کا حکم

سانحہ ماڈل ٹاﺅن رپورٹ جاری کی جائے ،رپورٹ ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوگی :ہائی ...
سانحہ ماڈل ٹاﺅن رپورٹ جاری کی جائے ،رپورٹ ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوگی :ہائی کورٹ کا حکم

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ ،جسٹس شہبازعلی رضوی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل فل بنچ نے پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کرتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاﺅن عدالتی انکوائری رپورٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔

فاضل بنچ نے جوڈیشل انکوائری رپورٹ کی فوری طور پر متاثرین کو فراہمی کے علاوہ پنجاب حکومت کو یہ عدالتی انکوائری رپورٹ 30یوم کے اندر عوام کے لئے شائع کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔فل بنچ نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ انکوائری رپورٹ سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے متعلق فوجداری کارروائی پر اثر انداز نہیں ہوگی ۔فاضل بنچ نے انٹرا کورٹ اپیل میں سنگل بنچ کے حوالے سے استعمال کی گئی زبان پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران آئندہ ججوںکے حوالے سے زبان وبیان میں محتاط رویہ اختیار کیا جائے ،بصورت دیگر توہین عدالت کی کارروائی بھی عمل میںلائی جاسکتی ہے ۔فاضل بنچ نے قراردیا کہ زیرنظر کیس میں انٹرا کورٹ اپیل کے انداز بیان پر حکومت کے وکیل خواجہ حارث احمد کی وضاحت اور تاسف کے اظہار کی بنا پر عدالت تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی عمل میں نہیں لارہی ۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے 21ستمبر کو قیصر اقبال سمیت سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے متعدد متاثرین کی درخواست پر سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے متعلق جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل انکوائری ٹربیونل کی رپورٹ درخواست گزار متاثرین کو جاری کرنے کا حکم دیا تھا جس کے خلاف پنجاب حکومت نے یہ انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی ۔مذکورہ فل بنچ نے 24نومبر کو اس اپیل کی سماعت مکمل ہونے پراپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو گزشتہ روز سنا دیا گیا۔فل بنچ نے اپنے101صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگرچہ قانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کی بنا پر انکوائری رپورٹ کو پبلک کرنا ضروری ہو ،دوسری طرف قانون میں ایسی کوئی شق بھی موجود نہیں جو حکومت کو جوڈیشل انکوائری رپورٹ شائع کرنے سے روکتی ہو ،ایسی صورت میں یہ ایک طے شدہ قانون ہے کہ قانون کی منشا اور بنیادی آئینی حقوق کو فوقیت دی جائے گی ،اس طے شدہ قانون کی روشنی میں عدالت یہ رپورٹ شائع کرنے کا حکم دے رہی ہے ۔فاضل بنچ نے قرار دیا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے حکومت کے پاس جوڈیشل انکوائری نہ کروانے کا آپشن موجود تھا لیکن اس نے انکوائری کروانے کو ترجیح دی ۔انکوائری کے عمل کو شفاف اور آزادانہ بنانے کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے جج کی تعیناتی کے لئے درخواست کی گئی جس پر جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں انکوائری ٹربیونل بنایا گیا ۔اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ رپورٹ صرف حکومت کے لئے تھی اورعوام کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔فاضل بنچ نے مزید قرار دیا کہ قانونی صورتحال کو ایک طرف بھی رکھ دیا جائے تو انکوائری رپورٹ کی عدم اشاعت سے عوام کی بے چینی کیسے دور ہوسکتی ہے جبکہ یہ انکوائری مفاد عامہ میں کروائی ہی اس بنیاد پر گئی تھی کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔فاضل بنچ نے انٹرا کورٹ اپیل میں سنگل بنچ (جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی )کے حوالے سے شامل بعض جملوں کا حوالہ دیتے ہوئے قراردیا ہے کہ اگر ایسی زبان کا مقصد جج کو ہدف تنقید بنانا ہے تو اس سے ججوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا اور نظام عدل کو شدید نقصان پہنچے گا ،اس میںشک نہیں کہ جج معصوم نہیں ہیں وہ بھی دیگر انسانوں کی طرح غلطی کرسکتے ہیں تاہم اگر جج کے فیصلے کی بجائے جج پر تنقید شروع کردی جائے تو یہ نظام عدل میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہوگا ۔فاضل بنچ نے قرار دیا کہ خواجہ حارث احمد نے ان الفاظ پر پچھتاوے اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے وضاحت دی ہے کہ ان الفاظ کا مقصد جج کی ذات کو ہدف تنقید بنانا نہیں تھا اور یہ کہ اپیل کے نکات کی تیاری کے حوالے سے نیک نیتی کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ۔فاضل بنچ نے حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اپنے حکم کے آخری پیراگراف میں ہدایت کی ہے کہ انکوائری رپورٹ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ ماڈل کے زیر سماعت کیس پر اثر انداز نہیں ہو گی اوریہ کہ رپورٹ سے کوئی اثر لئے بغیر ماتحت عدالت میںسانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ٹرائل کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے ۔سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کے ساتھ ساتھ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مقدمہ میں ملوث پولیس افسروں ا ور اہلکاروں کی طرف سے بھی دو اپیلیں دائر کی گئی تھیں ،فل بنچ نے یہ اپیلیں بھی مسترد کردی ہیں ،فاضل بنچ نے نہ صرف متاثرین سانحہ ماڈل ٹاﺅن کو انکوائری ٹربیونل کی رپورٹ فراہم کرنے سے متعلق سنگل بنچ کا فیصلہ برقراررکھا بلکہ حکومت کو یہ رپورٹ عوام کے لئے شائع کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے ۔فاضل بنچ نے اپنے فیصلے میں تین حکم جاری کئے ہیں ،پہلا یہ کہ انکوائری ٹربیونل کی رپورٹ کی نقل فوری طور پر متاثرین سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے سپرد کی جائے ،دوسرا یہ کہ انکوائری ٹربیونل کی رپورٹ 30دن کے اندر شائع کی جائے اور تیسرا یہ کہ انکوائری ٹربیونل کی رپورٹ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوگی ۔

مزید : لاہور