عدالت عالیہ کے 8ریٹائرڈ ججوں کو پنشن نہ دینے پر اے جی پنجاب سے جواب طلب

عدالت عالیہ کے 8ریٹائرڈ ججوں کو پنشن نہ دینے پر اے جی پنجاب سے جواب طلب
عدالت عالیہ کے 8ریٹائرڈ ججوں کو پنشن نہ دینے پر اے جی پنجاب سے جواب طلب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے عدالت عالیہ کے 8 ریٹائرڈججوں کو پینشنز اور بقایہ جات نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر 11دسمبر کو اکاونٹنٹ جنرل پنجاب جواب طلب کر لیاہے۔

الیکشن کمیشن پاکستان کے رکن الطاف ابراہیم قریشی سمیت لاہور ہائیکورٹ کے 8 ریٹائرڈججوں نے پینشنز اور بقایہ جات نہ ملنے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔اس سلسلے میں دائردرخواست میں اکاﺅنٹنٹ جنرل آفس،رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ اور سیکرٹری لاءکو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست دائر کرنے والوں میں جسٹس ریٹائرڈریاض الدین احمد، جسٹس ریٹائرڈسعیدالرحمن فرخ،جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی ،جسٹس ریٹائرڈ منصور احمد، جسٹس ریٹائرڈ شیخ جاوید ،سرفراز جسٹس ریٹائرڈسید اصغر حیدر،جسٹس ریٹائرڈطارق شمیم اور جسٹس ریٹائرڈالطاف ابراہیم قریشی شامل ہیں ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈجج1998 ءسے 2015ءتک لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج فرائض سر انجام دیتے رہے۔درخواست گزار ریٹائرڈ ججوں نے درخواست میں کہا ہے کہ اکاﺅنٹنٹ جنرل آفس نے 7 ججوں کو ملنے والی پینشن روک دی ہے جبکہ ایک ریٹائرڈ جج کو پینشن دینے سے انکار کر دیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے باوجود پینشن اور واجبات کی عدم ادائیگیاں نہیں کی جارہیں ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اکاﺅنٹنٹ جنرل آفس کو پینشن اور دیگر واجبات کی ادائیگی کا حکم دے درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ اے جی آفس کی جانب سے پینشن روکنے کے نوٹیفیکیشن کوکالعدم قرار دیا جائے۔

مزید : لاہور