افغانستان میں بھارت کا فوجی کردار نہیں ہوگا، امریکی وزیر دفاع نے یقین دہانی کرادی ہے: خواجہ آصف

افغانستان میں بھارت کا فوجی کردار نہیں ہوگا، امریکی وزیر دفاع نے یقین دہانی ...
افغانستان میں بھارت کا فوجی کردار نہیں ہوگا، امریکی وزیر دفاع نے یقین دہانی کرادی ہے: خواجہ آصف

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹِس نے پاکستانی قیادت سے حالیہ ملاقاتوں میں افغانستان میں انڈیا کا فوجی کردار نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے، پاکستان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لائی جائے مگر تاحال بھارت کی جانب سے جواب نہیں ملا ہے، امریکہ کو بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو باہمی تعلقات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، افغانستان کی جنگ کے حوالے سے پہلے 1980کی دہائی اور بعد میں نائن الیون کے واقعات کے بعد ایسے فیصلے کیے گیے جو قومی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد پر مبنی تھے،قوم آج تک ان کے منفی اثرات سے باہر نہیں نکل سکی۔

سپیشل برانچ نے حکومت پنجاب کو طاہر القادری کے لندن پلان کے حوالے سے رپورٹ دی : جسٹس نجفی رپورٹ

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے، امریکی وزیر دفاع سے ملاقات کے دوران پاکستان نے امریکی حکام کے سامنے افغانستان میں بھارت کے فوجی کردار کا معاملہ اٹھایا تھا۔ امریکہ نے اس معاملے پر پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان میں انڈیا کی عسکری مداخلت نہیں ہو گی۔دوسری جانب پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) کے تحت 20ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے پہلے دن کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی کی غلط پالیسیوں کا مداوا کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کر رہا ہے جو قائد اعظم کے زریں اصول پرامن بقائے باہمی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات پر مبنی ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک خصوصاً ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے امن میں پاکستان کا اپنا بہترین مفاد پنہاں ہے۔ سی پیک کی بدولت پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان معاشی خود مختاری کے دور میں داخل ہو گا جس کے نتیجے میں آزادانہ خارجہ پالیسی بنانا زیاد ہ آسان ہو گا۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

مزید : قومی /اہم خبریں