پیپلز پارٹی، مستقبل کے روشن امکانات؟

پیپلز پارٹی، مستقبل کے روشن امکانات؟
پیپلز پارٹی، مستقبل کے روشن امکانات؟

  

ذوالفقار علی بھٹو نے جب وزارت خارجہ سے استعفیٰ دیکر جنرل ایوب خان کے خلاف نعرہِ مستانہ بلند کیا تو اس بغاوت کے بطن سے پاکستان پیپلز پارٹی نے جنم لیا۔ابتدائی طور پر سوشلزم اور بائیں بازو کے نظریات پر قائم ہونے والی پارٹی نے اپنے سماجی اور معاشی مساوات کے انقلابی پروگرام کی بنا پر جلد ہی مغربی پاکستان میں عوامی مقبولیت حاصل کر لی۔

بنگال سے تعلق رکھنے والے دانشور جے اے رحیم نے پارٹی کی اساسی دستاویزات لکھیں۔30نومبر 1967 ء کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پہلے اجلاس میں ملک معراج خالد،شیخ رشید احمد،(بابائے سوشلزم) معراج محمد خان،رسول بخش تالپور،حیات محمد خان شیرپاؤ،امان اللہ خان، ڈاکٹر کنیز فاطمہ یوسف،غالب احمد،میاں محمد اسلم،بیگم شاہین رامے اور دیگر شریک ہوئے تھے (محمد حنیف رامے اردو بورڈ میں تعینات تھے اور ان دِنوں جاپان کے دورے پر تھے)ذوالفقار علی بھٹو چیئر مین اور جے اے رحیم پہلے سیکریٹری جنرل منتخب کئے گئے۔

کیا اجلے، خوبصورت،درد دل رکھنے والے،سادہ،اور نظریے کی قوت سے لیس لوگ تھے اب تو لگتا ہے کہ اس قبیل کے انسان پیدا ہونا ہی بند ہو گئے ہیں۔ڈاکٹر مبشر حسن اس نسل کے شائد آخری آدمی ہیں۔ آ ج کل معاشرے کی حالت دیکھ کر سمجھ نہیں آتی اور افسوس ہوتا ہے کہ تعلیم،طرز معاشرت اور معیارِ زندگی میں بہتری آنے کے باوجود بھی ہم بلند آدرشوں، اعلیٰ کردار اور صلاحیتوں کے حامل بڑے لوگ کیوں پیدا نہیں کر پا رہے۔فکری اور ثقافتی طور پر 1970 ء کا پاکستان بہتر محسوس ہوتا ہے۔آ ج ہماری ساری سوسائٹی دھن دولت اور اقتدار کے پیچھے ہی کیوں بھاگ رہی ہے۔؟ نظریہ اور جذبے کی باتیں نہ جانے کہاں چلی گئیں۔ بہرحال اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں کے چار اصول نئی پارٹی کا نصب العین قرار پائے۔لیکن عوام الناس میں مشہور’’روٹی،کپڑااورمکان‘‘ کا نعرہ ہوا۔

عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرماں کے،دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھا،سیکھا

سرد آہوں کے،رخِ زردکے،معنی سیکھے

(فیض احمد فیض)

پی پی ایک ملٹی کلاس پارٹی تھی جس میں سرمایہ دار، جاگیر دار، صنعتکار، تاجر، وکلا، ٹیکنوکریٹ، دانشور، خواتین، صحافی، مزدور، کسان، محنت کش، اقلیتیں اور طلبہ سب شامل تھے، مگر عملی طور پر مڈل اور لوئر مڈل کلاس اس پارٹی کی شناخت بن گئی۔ پارٹی قیام کے تین سال بعد ہی ہونے والے 1970ء کے انتخابات میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی۔ذوالفقار علی بھٹو کی مقبولیت آسمانوں کو چھونے لگی۔

1973 ء کا متفقہ آئین،ایٹمی پروگرام، جمہوریت کی فراوانی، شخصی اور شہری آزادیاں،معاشی برابری اور سیاسی شعور پیپلز پارٹی کی حکومت کے کارنامے تھے۔

لیکن دوسری جانب سازشوں، ریشہ دوانیوں، باہمی اختلافات اور دیگر واقعات مثلاً بلوچستان حکومت کی برطرفی،لیاقت باغ پنڈی میں نیشنل عوامی پارٹی (ولی خان)کے کارکنوں کی ہلاکتیں وغیرہ پارٹی میں جاگیر داروں، سرمایہ داروں اور مفاد پرست عناصر کی شمولیت اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف پہلی باغیانہ آواز نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن(این ایس ایف) کے نوجوان رہنما معراج محمد خان نے بلند کی۔ بعد ازاں معراج محمد خان، محمد حنیف رامے جیسے بانی اراکین کو عہدوں سے برطرف کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

غیر نظریاتی لوگ پارٹی پر قابض ہونے لگے، پرانے لوگ الگ ہونے لگے۔ ’’نئے‘‘لوگوں کے آنے اور بھٹو صاحب کے پی این اے کے مطالبات مان کر جمعے کی چھٹی، نائٹ کلبوں اور شراب پر پابندی جیسے اقدامات سے پارٹی اپنے نظریے سے دور ہوتی چلی گئی۔

امریکہ کی پشت پناہی سے ملا ملٹری گٹھ جوڑ کامیاب ہوتا چلا گیا۔پاکستان میں پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے، جس کے دو سربراہوں نے اپنی جان کی قربانی دی، مگر بہت سخت جان پارٹی ثابت ہوئی۔چار بار اقتدار میں آئی ۔عروج و زوال کی لازوال داستان مگر 5 جولائی 1977ء سے 17اگست 1988ء کا گیارہ سالہ عرصہ بے مثال جمہوری جدوجہد کا زمانہ ہے۔

در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا،

پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا

(غالب)

جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف ایم آرڈی کے پلیٹ فارم سے پیپلز پارٹی کے علاؤہ دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص بائیں بازو کی چھوٹی پارٹیوں کے کارکنوں نے بڑی دلیرانہ،بے لوث اور فقید المثال جدوجہد کی ،جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے،جلاوطنی برداشت کی اور طرح طرح کے مصائب و مظالم سہے، جمہوریت، مساوات، انسانی حقوق اورمعاشی برابری کے حصول کی خاطر اور متعصبانہ سوچ،تنگ نظری اور مذہبی انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے۔مگراس پارٹی کی مقامی اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے کبھی بنی نہیں گو کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے لیکر آصف علی زرداری تک اپنی سی کوشش سب نے کی۔

اسکی ایک مثال 1986 ء میں بے نظیر بھٹو کی امریکہ سے واپسی کے موقعہ پر لاہور کے تاریخی استقبالیہ جلوس میں پارٹی کے ترقی پسند اور بائیں بازو کے نوجوانوں نے فرخ سہیل گوئندی کی قیادت میں امریکی پرچم جلائے اور امریکی سامراج مردہ باد کے نعرے لگائے تو بے نظیر بھٹو نے ان کارکنوں سے مجبوراً اظہار لاتعلقی کردیا، حالانکہ بی بی کا دل ان جیالوں کے ساتھ تھا۔دارو رسن اور تخت نشینیوں کے اونچے نیچے راستوں سے بار بار گزرنے والی پی پی کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔موروثیت اس خطے کے عوام کے خون میں شامل ہے۔

قحط الرجال کی صورت حال میں پارٹی اور عوام نے ذوالفقار علی بھٹو شہید کے نواسے اور بے نظیر بھٹو شہید کے بیٹے کواپنا لیڈر تسلیم کر لیا ہے۔پارٹی کے نام لیوا عوام نے تو ’’بلاول علی زرداری‘‘کو بلاول بھٹو زرداری بھی مان لیا ہے۔ لیکن اب یہ سب لوگ بلاول کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اور سچ بات یہ ہے کہ اس باہمت نوجوان نے بھی مایوس نہیں کیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ محسوس ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کو سمجھ رہا ہے۔ سیکھ رہا ہے۔ اسکی مقبولیت کے ساتھ ساتھ اسکے اعتماد میں بھی اصافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ 2018 ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی جس جانقشانی، فہم و فراست،سلیقے اور حوصلے سے قیادت کی وہ بلاشبہ قابل تعریف ہے۔

بلاول کو آ صف علی زرداری کا بیٹا میں نے سوچ سمجھ کر کہیں نہیں لکھا وہ خود بھی تو اپنے باپ کا نام لینے سے پرہیز ہی کرتا ہے۔ پوری انتخابی مہم میں کراچی تا پشاور جگہ جگہ ا پنے نانا اور ماں کا ہی فخریہ انداز میں ذکر کیا، باپ کا نام اس نے دانستہ کہیں نہیں لیا۔پہلی بار قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوئے کے بعد جب اسمبلی کے فلور پر اہم مواقع پر اظہار خیال کا موقع ملا تو اس نے قومی معاملات پر بڑے نپے تلے، مدبرانہ،واضح اور مدلل طریقے سے اپنا موقف اور نقط نظر پیش کر کے ناقدین کو سوچنے پر مجبور کر دیاہے۔حالیہ چند ماہ کی سیاسی سرگرمیوں کے بعد بلاول کی عوامی مقبولیت میں اضافا ہوا اور درمیانے طبقے کے پڑھے لکھے لبرل اور جمہوریت پسند نوجوانوں اور خواتین میں انھیں پذیرائی حاصل ہوئی۔

سیاسی ناقدین نے بھی اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

ہم بلاول بھٹو زرداری کو کسی مہم جوئی کا مشورہ نہیں دینا چاہتے لیکن اگر وہ واقعی روائتی سیاست سے ہٹ کر کوئی حقیقی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے موقعہ ہے کہ وہ اپنے والد کی جگہ مکمل طور پر پارٹی کی قیادت خود سنبھالیں۔ اپنی پھو پھی فریال تالپور سے فاضلہ رکھیں ۔ کرپشن میں ملوث تمام لوگوں کو بلا لحاظ عہدہ و مرتبہ پارٹی سے نکال باہر کر یں۔اس وقت پاکستان میں تین قومی پارٹیوں میں سے ن لیگ اور تحریک انصاف دائیں بازو سے ہیں۔ ملک میں کافی عرصے سے بائیں بازو کی سیاست کی سیٹ خالی پڑی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد سماجی انصاف اورمعاشی برابری و مساوات کا حصول اور تنگ نظری و مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے آ گے بندھ باندھ کر ملک لبرل جمہوری معاشرے میں بدلنا ہے۔

آ ئیے بلاول بھٹو زرداری اپنی اساس ’’سنٹرلیفٹ‘‘ کی طرف لوٹ آ ئیے۔ درمیانے طبقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو آ گے لائیں، نئی پارٹی کھڑی کریں۔ رزق حلال کما کر کھانے والے ایک وسیع طبقے کی حمایت حاصل ہوگی۔ 1970ء کی طرح آ ج پھر خلا ہے۔خلوص نیت اور دلیری نئے مہروں کیساتھ نئی بساط بچھا نے سے کامیابی کے روشن امکانات ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -