انصاف اور تحریک انصاف

انصاف اور تحریک انصاف
انصاف اور تحریک انصاف

  

حضرت علی رضی اللہ وتعالٰی عنہ کا فرمان ہے کہ معاشرے کفر کے نظام پر تو قائم رہ سکتے ہیں مگر ظلم کے نظام پر ہر گز قائم نہیں رہ سکتے، جس معاشرے میں مظلوم کی دادرسی کا تقریباً ناپید ہو وہ معاشرہ کفر سے کہیں بدتر ہے، بد قسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں مظلوم انصاف کے حصول کے لئے کئی پاپڑ بیلنے کے بعد بھی اسی کشمکش میں رہتا ہے کہ پتا نہیں اسے انصاف ملے گابھی کہ نہیں۔ 

اسی ارض پاک پہ ایک ظلم ایسا بھی ہوا کہ جس چشم فلک ساتھ ساتھ کروڑوں انسانوں درجنوں ٹی وی چینلز پر لائیو اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر آج ساڑھے چار سال بیت جانے کے بعد بھی مظلوم انصاف سے مرحوم ہیں، وہ ظلم ہر خاص و عام کے ذہن پر آج بھی اسی طرح رقم ہے جیسے پہلے دن تھا، آج بھی کسی راہ چلتے مسافر، کسی ریڑھی بان ،کسی دکاندار، کسی تاجر، کسی سرکاری نیم سرکاری یا غیر سرکاری ملازم ، جسی طالب علم کسی استاد یا کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے فرد سے پوچھیں تو وہ بغیر کسی تضاد کے بتائے گا ہاں اس کی آنکھ نے وہ ظلم دیکھا ہے اور یہ بھی کہ آج تک اس ظلم کے شکار مظلوم انصاف سے محروم ہیں۔

یقیناً آپ سمجھ گئے ہونگے کہ میں ریاستی تاریخ پر لگنے والے سیاہ داغ یعنی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی بات کر رہا ہوں، اس سانحہ میں چودہ شہداء کے لواحقین اور نوے زخمی آج بھی استقامت کا پہاڑ بن کر حصول انصاف کی جدوجہد کررہے ہیں، آج کے دن یعنی پانچ دسمبر دوہزاراٹھارہ کو اس کیس کی سماعت ہماری عدالت عظمیٰ میں لارجر بینچ کرے گا جس میں ان شہداء اور زخمیوں کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری خود دلائل دینگے۔

چونکہ حکومت انصاف کے نام پر ووٹ لے کر آنے والی تحریک انصاف کی ہے مگر معذرت کے ساتھ ابھی اس حکومت نے بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن پر عملی اقدامت کی بجائے صرف بیانات سے ہی کام لیا ہے، وزیر اعظم عمران خان صاحب نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنمبھالنے سے پہلے بارہا سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف دلانے کا وعدہ کیا مگر ابھی تک انصاف کی راہ ہموار کرنے کے لئے کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا، سانحہ میں ملوث اکثر پولیس افسران ابھی تک اپنے عہدوں پر براجمان ہیں، سابق آئی جی مشتاق سکھیرا بھی سرکاری پروٹوکول انجوائے کر رہا ہے ، ڈاکٹر توقیرشاہ کو بھی ابھی فارغ نہیں کیاگیا حتیٰ کہ ایف آئی آر میں شامل پولیس افسران میں سے کسی کو بھی ابتدائی تفتیش کے لئے گرفتار نہیں کیا گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلومین کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے، مختلف ریاستی اداروں کے سربراہان جو کہ بارہا ملک میں قانون کی بالادستی کا یقین دلا چکے ہیں کتنے اپنے دعوں پر برحق ہیں، چیف جسٹس صاحب جو کہ خود کہہ چکے ہیں کہ میں اپنے شروع کئے ہوئے تمام مقدمات نمٹا کر جاؤنگا کیا اس کیس کو بھی نمٹا پائیں گے کہ نہیں، کیونکہ اس کیس کی سست روی پر انہوں نے ازخود نوٹس لیا ہوا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ انصاف کے نام پر بننے والی تحریک انصاف کی حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلومین کو انصاف دلا پاتی ہے کہ نہیں۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کاذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ