میری عمر 20سال کم کی جائے کیونکہ میں نے لڑکیوں سے ۔۔۔۔رنگین مزاج بابا ایسی درخواست لے کر عدالت پہنچ گیا کہ کمرہ عدالت بھی قہقہوں سے گونج اٹھا 

میری عمر 20سال کم کی جائے کیونکہ میں نے لڑکیوں سے ۔۔۔۔رنگین مزاج بابا ایسی ...
میری عمر 20سال کم کی جائے کیونکہ میں نے لڑکیوں سے ۔۔۔۔رنگین مزاج بابا ایسی درخواست لے کر عدالت پہنچ گیا کہ کمرہ عدالت بھی قہقہوں سے گونج اٹھا 

  

ایمسٹرڈیم(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار نصیر الدین شاہ پر فلمایا گیا گانا ’’دل تو بچہ ہے جی‘‘نے پاک ہند کے ساتھ دنیا بھر میں شہرت حاصل کی تھی تاہم اب ہالینڈ میں ایک 69سالہ ’’رنگین مزاج بابا‘‘ عدالت میں ایسی درخواست لے کر پہنچ گیا کہ سب ہی مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے جبکہ اس کیس کی تفصیلات جان کر بالی ووڈ اداکار نصیر الدین شاہ بھی اپنے گائے ہوئے گانے کے بول زیر لب گنگنا کر ایک بار پھر کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ واقعی ’’دل تو بچہ ہے جی ،رنگین مزاج بابے کی’’ خواہش‘‘ کو عدالت نے تو مسترد کر دیا ہے لیکن با باجی اب بھی بضد ہیں کہ اگر عدالت ان کی خواہش کو پورا نہیں کرتی تو کیا ہوا ؟وہ تو ویسا ہی محسوس کریں گے جو ان کا دل چاہے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہالینڈ کی مقامی عدالت میں ایک 69 سالہ شخص ایملی ریٹل بینڈ نے عجیب و غریب درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی کہ وہ خود کو بہت ’’جوان‘‘ محسوس کرتا ہے لہذا س کی عمر سے 20 سال کم کر کے اسے 49 برس کا قرار دیا جائے۔درخواست گذار ’’رنگین مزاج بابے ‘‘ کا کہنا تھا کہ وہ جسمانی طور پر انتہائی توانا ہے، اچھی جسمانی ساخت میں ہے لیکن انھیں اس وقت تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ اپنی اصل عمر 69 برس بتاتا ہے، ڈیٹنگ ایپس پر عمر بتانے کی شرط سے وہ ایسے افراد کی توجہ حاصل نہیں کر سکتا جن کی توجہ حاصل کرنے کی وہ ’’ صلاحیت‘‘ رکھتا ہے۔ ایملی ریٹل بینڈ  کا کہنا تھا کہ میں جوان دیوتا ہوں، میں ان تمام لڑکیوں کو حاصل کر سکتا ہوں جنہیں میں چاہتا ہوں، لیکن اپنی اصل عمر (69 سال) بتا کر نہیں لہذا سرکاری اداروں کو حکم دیا جائے کہ اس کی اصل عمر سے20سال کم کرتے ہوئے 11مارچ1969  تاریخ پیدائش لکھی جائے تاکہ وہ کھل کر اپنی زندگی کو انجوائے کر سکے جس طرح اس کا دل چاہتا ہے ۔درخواست گذار ایملی ریٹل بینڈ نے عدالت میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میرے 9 اور 11 سال کے بچے مجھے بابا کہتے ہیں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے،مجھے یہ اچھا لگے گا کہ ہم ساتھ سکول جائیں، کھیل کے میدان میں کھیلں،میں دیکھنا چاہتا ہوں  کہ یہ قانونی طور پرکیسے ممکن نہیں ہے؟ میرا بڑا بیٹا 42 سال کا ہے، وہ کہتا ہے کہ اگرآپ کی عمر 49 سال ہوجائے توآپ میرے بڑے بھائی ہوجائیں گے، میں والد کی نسبت آپ کو بھائی کہہ کرزیادہ لطف اندوز ہوں گا، میں اسے کہتا ہوں کہ یہ تو بہت اچھا ہے، بہت سے لوگ یہ یقین کرتے ہیں کہ میں اس کا بڑا بھائی ہوں والد کسی حال میں نہیں ہوسکتا۔عدالت نے اس انوکھی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ درخواست گزار ایملی ریٹل بینڈ کو مکمل آزادی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جتنی عمر کا تصور کرنا چاہتے ہیں کریں لیکن عدالت ان کے زندگی کے 20سال کے سرکاری ریکارڈ کو غائب کر کے اس کی نئی تاریخ پیدائش مقرر نہیں کر سکتی کیونکہ اس سے قانونی اور معاشرتی مسائل جنم لے سکتے ہیں،عدالت معاشرے میں جسمانی تندرستی کے رجحان کو تو محسوس کرتی ہے لیکن اس دلیل کو یوم پیدائش میں تبدیلی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ہالینڈ کی عدالت نے ایملی ریٹل بینڈ کی امیدوں پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیا کہ عدالت معاشرے میں جسمانی تندرستی کے رجحان کو تو محسوس کرتی ہے لیکن اس دلیل کو یوم پیدائش میں تبدیلی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس