ڈاکٹر یوسف خٹک چیئرمین اکادمی ادبیات: اچھا فیصلہ

ڈاکٹر یوسف خٹک چیئرمین اکادمی ادبیات: اچھا فیصلہ
ڈاکٹر یوسف خٹک چیئرمین اکادمی ادبیات: اچھا فیصلہ

  

کیا حکومت واقعی باصلاحیت اور اچھی شہرت کے حامل افراد کو آگے لا رہی ہے؟ یہ سوال عموماً پوچھا جاتا ہے اور جواب ہمیشہ شکوک و شبہات پر مبنی ہوتا ہے، تاہم کابینہ نے حال ہی میں ایک تقرری ایسی کی ہے،جس پر ہر طرف سے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان ایک ایسا قومی ادارہ ہے جو ادیبوں وشاعروں کی فلاح و بہبود اور فروغ ادب کے لئے قائم کیا گیا، لیکن دوسرے اداروں کی طرح اس پر بھی چیئرمین سیاسی بنیادوں پر تعینات کئے جاتے رہے۔

مقصد یہ ہوتا تھا کہ ایسا چیئرمین بنایا جائے جو حکومت کے سیاسی نظریات کا حامی ہو اور بالآخر ادیبوں و شاعروں کو اس نظریے کے تحت لانے کی کوشش کرے۔ اس بار اس پوسٹ کے لئے باقاعدہ اشتہارات دیئے گئے اور شرائط و ضوابط کے تحت درخواستیں طلب کی گئیں۔ اس سارے مرحلے سے گزر کر جو نام سامنے آیا ہے، وہ ڈاکٹر یوسف خٹک کا ہے،جو اس وقت شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور میں پرو وائس چانسلر کے عہدے پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی تقرری پر ادیبوں و شاعروں میں خوشی و اطمینان کی لہر دوڑگئی ہے۔ ان سے پہلے جو نام سامنے آرہے تھے، ان کے بارے میں ادیبوں و شاعروں کے اندر حد درجہ تحفظات موجود تھے، کیونکہ وہ گروپ بندی اور علاقائی بنیاد پر سوچنے کے حوالے سے معروف ہیں۔ ڈاکٹر یوسف خٹک ملک گیر شہرت کے حامل ہیں، کیونکہ انہوں نے سلوجیسی یونیورسٹی میں عالمی معیار کی کانفرنسیں اور تقریبات کرائیں، جن میں ملک بھر کے علاوہ بیرون ملک سے بھی ادیبوں و شاعروں کو اکٹھا کیا گیا۔

ڈاکٹر یوسف خٹک ساریکیوز یونیورسٹی نیویارک سے فارغ التحصیل ہیں اور انہوں نے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی سے حاصل کی ہے۔ وہ ایک خوش مزاج، مرنجاں مرنج، انسان دوست اور علم پرور شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے قومی سطح کی کانفرنسوں میں ہمیشہ اپنی یونیورسٹی کی نمائندگی کی۔ ان کا انتخاب اس اہم پوسٹ کے لئے خوش آئند ہے، یقینا ان کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ ایک دور افتادہ یونیورسٹی میں ہونے کے باوجود انہوں نے جس طرح شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی کو قومی سطح پر متعارف کرایا اور اسے ایک اعلیٰ معیار کی درسگاہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا، اس کی ملک بھر میں تعریف کی جاتی ہے۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر صوفیہ خٹک بھی یونیورسٹی میں ڈین ہیں۔ان دونوں میاں بیوی نے علم و ادب کے فروغ کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا ہے۔ ڈاکٹر یوسف خٹک میں کام کرنے کا جو جذبہ موجود ہے، مَیں سمجھتا ہوں وہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کے لئے آکسیجن کا کام دے سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے جس طرح حالیہ دنوں میں تبادلوں کے ذریعے اچھے افسروں کو آگے لانے کی کوشش کی ہے، ان میں کئی افسر ایسے بھی ہیں، جنہیں فیلڈ کی نوکری سے دور رکھاجا رہا تھا، حالانکہ ان کی وجہ ء شہرت اور ایمانداری و لگن کے قصے مشہور ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں نسیم صادق کو کمشنر لگایا گیا ہے، جنہیں ملتان کے عوام آج تک نہیں بھولے، کیونکہ انہوں نے بطور ڈپٹی کمشنر ملتان کا نقشہ تبدیل کر دیا تھا۔ ان کی ڈیرہ غازی خان میں تقرری اس پسماندہ ڈویژن کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ راولپنڈی میں محمد احسن یونس کی بطور سی پی او تقرری راولپنڈی کے لوگوں کو ایک بڑا ریلیف دے سکتی ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے پولیس افسر ہیں، جو دفتر میں بیٹھنے کی بجائے فیلڈ میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ اپنی تعیناتی کے دوسرے ہی روز انہوں نے ایک جیکٹیں بیچنے والے پٹھان سے جیکٹیں چھیننے والے ٹریفک وارڈنز کے خلاف جس طرح کارروائی کی، خود جا کر اس جیکٹ فروش کو جیکٹیں واپس کیں، نیز اس سے پولیس رویے کی معافی بھی مانگی، اس کی وڈیو سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنی ہوئی ہے۔

گوجرانوالہ کو بھی ایک اچھا پولیس افسر گوہر مشتاق بھٹہ کی صورت میں مل گیا ہے۔ وہ پولیس کے سافٹ امیج کا حوالہ ہیں اور عرصہ دراز سے انہیں ایمانداری اور میرٹ پر کام کرنے کی شہرت کے باعث فیلڈ ملازمت سے دور رکھا ہوا تھا۔ امید ہے گوجرانوالہ جیسے شہر میں، جہاں کرائم کی صورتِ حال ہمیشہ تشویشناک رہتی ہے، گوہر مشتاق کے آنے سے نمایاں تبدیلی محسوس ہو گی……نمایاں تبدیلی تو اکادمی ادبیات میں بھی ڈاکٹر یوسف خٹک کے آنے سے آئے گی۔ اہلِ قلم کی پاکستان میں صورتِ حال قابل رشک نہیں، انہیں فالتو طبقہ سمجھا جاتا ہے۔ ملک بھر میں ہزاروں اہلِ قلم ایسے ہیں، جن کی کتابیں نہیں چھپتیں، بے شمار بیماریوں کے ہاتھوں بے چارگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بڑے شہروں میں رہنے والے ادیبوں و شاعروں کی آواز تو پھر بھی کہیں نہ کہیں سنی جاتی ہے، مگر جو اہلِ قلم دور دراز چھوٹے شہروں میں علم و ادب کے چراغ جلا رہے ہیں اور بہترین ادب تخلیق کر رہے ہیں، ان کی قومی سطح پر کوئی شناخت نہیں ہوتی، کیونکہ انہیں نمائندگی ہی نہیں ملتی۔

اکادمی کے زیر اہتمام جو کانفرنسیں ہوتی ہیں، ان میں بھی چند گنے چنے ادیب و شاعر بار بار بلائے جاتے ہیں اور ادیبوں کا ایک خاص مراعات یافتہ طبقہ پیدا ہو گیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جنوبی پنجاب کے ادیبوں و شاعروں کے احتجاج پر ملتان میں اکادمی ادبیات کا ایک علاقائی دفتر قائم کیا گیا تھا، مگر وہ دفتر صرف ایک کمرے تک محدود ہے اور کبھی کبھار چار چھ ادیبوں کو اکٹھا کرکے کوئی تقریب کر دی جاتی ہے۔ کوئی ایسا طریقہ ء کار وضع نہیں کیا گیا کہ ادیبوں، شاعروں کی کتابیں شائع ہو سکیں یا جو مستحق و بیمار ادیب ہیں، ان کی مالی امداد کا کوئی خود کار نظام وضع کیا جا سکے۔ کوئی خوددار اہلِ قلم ہاتھ نہیں پھیلاتا، یہ اکادمی کی ذمہ داری ہے کہ وہ از خود ایسے اہلِ قلم کو تلاش کرکے ان کی مدد کرے۔ صرف اسلام آباد میں سیمینار اور کانفرنسیں کرانے کی بجائے ملک کے مختلف حصوں میں یہ سلسلہ شروع کیا جائے اور ان میں پسماندہ علاقوں کے اہلِ قلم کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دی جائے۔ قومی ادارے کو قومی ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے، ناکہ وہ بڑے شہروں کا ہابی کلب بن جائے۔

امید ہے کہ ڈاکٹر یوسف خٹک ان پہلوؤں پر بھرپور توجہ دیں گے اور اکادمی ادبیات کو قومی سطح کا باوقار اور نمائندہ ادارہ بنائیں گے۔ نذیر ناجی جب اکادمی کے چیئرمین تھے تو انہوں نے گروپ انشورنس کا اعلان کیا تھا۔بڑی شد و مد سے ادیبوں، شاعروں نے فارم پُر کئے تھے اور اجتماعی انشورنس سے امید باندھ لی تھی، مگر اس کے بعد کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ اس سکیم کا کیا بنا؟ اکادمی کا چیئرمین بدقسمتی سے ہمیشہ گروپ بندی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اہلِ قلم میں حسد، گروپ بندی اور ٹانگ کھینچنے کا کلچر کچھ زیادہ ہی پایا جاتا ہے، اس لئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ چیئرمین کو شیشے میں اتار کر اپنے مطلب کے فیصلے کروائیں۔ ڈاکٹر یوسف خٹک کو بھی ادیبوں کے اس کاریگر مافیا سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ انہیں اکادمی کی معاونت کے لئے ایک ایسا مشاورتی بورڈ بنانا چاہیے، جس میں پورے ملک کے ادیبوں کی نمائندگی موجود ہو۔ بدقسمتی سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ادب صرف لاہور، کراچی یا اسلام آباد میں تخلیق ہوتا ہے،

اس لئے گھوم پھر کر انہی شہروں کے ادیبوں و شاعروں کو ہر کمیٹی میں نمائندگی مل جاتی ہے، حالانکہ کوئٹہ، پشاور، ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور سمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں ایسے سینئر اہلِ قلم موجود ہیں، جنہوں نے ادب کے شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ اکادمی کو اس پہلو پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ ہر سال قومی اعزازات میں ادب کے حوالے سے جو انعامات تقسیم کئے جاتے ہیں، ان کا معیار کیا ہے؟ اکادمی حکومت پاکستان سے یہ بات منوائے کہ آئندہ ادب کے شعبے میں جو اعزازات دیئے جائیں گے، ان کی سفارشات اکادمی ادبیات بھیجے گی اور اکادمی اس مقصد کے لئے ایک سرچ کمیٹی بنائے، جو ان اعزازات کے لئے نام تجویز کرے۔ امید ہے ڈاکٹر یوسف خٹک کے آنے سے اکادمی ادیبات کا جمود ٹوٹے گا اور یہ ادارہ صحیح معنوں میں ادیبوں وشاعروں کی امنگوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔

مزید :

رائے -کالم -