لاہور چیمبر کے دروازے سب تاجروں کے لئے کھلے ہیں

لاہور چیمبر کے دروازے سب تاجروں کے لئے کھلے ہیں

  

اگر پاکستانی معیشت کو ایک گاڑی سے تشبیہہ دی جائے تو تاجر برادری اس کا وہ انجن ہے، جس کے بغیر یہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔مجھے فخر ہے کہ مَیں بھی اس گاڑی کا ایک حصہ ہوں اور تاجر ہونے کی حیثیت سے بخوبی جانتا ہوں کہ تاجر برادری کو کن مسائل کا سامنا ہے۔بطور صدر لاہور چیمبرمیری سب سے اوّلین ترجیح ہے تاجر برادری کی ترقی، خوشحالی اور ان کے لئے پُرسکون کاروباری ماحول کو یقینی بنانا، کیونکہ آپ کی ترقی میں میری ترقی ہے اور ہماری ترقی میں حکومت کی خوشحالی کا راز چھپا ہے۔ یہاں یہ بھی واضح کردوں کہ چیمبر میں چھوٹے بڑے تاجر کا کوئی تصور نہیں، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور لاہور چیمبر کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد سے آج تک،چاہے حالات موافق ہوں یا پھر نامساعد، تاجروں نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ہمیشہ ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے اپنا بہترین کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔قیام پاکستان کے وقت بے شمار مشکلات درپیش تھیں اور سالمیت برقرار نہ رکھ پانے کے خطرات کے باوجود پاکستان آج جس مقام پر موجود ہے، اِس کا سہرا تاجر برادری کے سر پر ہی ہے۔پاکستان کے دشمنوں کو یقین تھا کہ یہ نومولود ریاست زیادہ عرصہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گی، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ملک قائم بھی رہا اور ترقی بھی کی۔مَیں اس کا کریڈٹ تاجر برادری کو دیتا ہوں، جنہوں نے پاکستان کو معاشی طور پر آگے بڑھایا،مگر انہیں ہمیشہ کبھی کم تو کبھی زیادہ مشکلات کا سامنا رہا۔ حکومتوں نے ان کے مطالبات سنجیدگی سے نہ سنے اور نہ ہی ان کی تجاویز پر مکمل عمل درآمد ہوا، اگر ایسا ہوگیا ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ پاکستان آج علاقائی معاشی قوتوں کے ہم پلہ کھڑا نہ ہوتا۔

تاجروں کو ہمیشہ ٹیکس اہلکاروں کے صوابدیدی اختیارات، مارکیٹوں میں چھاپوں، اکاؤنٹس تک رسائی، ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام اور ناقابل ِ عمل اقدامات نے دبوچے رکھا اور یہی ہمارا ٹیکس نیٹ محدود رہنے کی بڑی وجوہات ہیں۔رواں مالی سال کے بجٹ میں خریداروں کے قومی شناختی کارڈ نمبر کے حصول سمیت کچھ ایسے اقدامات اٹھائے گئے، جنہوں نے تاجروں کی بے چینی میں اضافہ کردیا۔ بات چیت کے کئی دور ہوئے،لاہور چیمبر نے تاجروں اور حکومت کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتے ہوئے بہت سے مطالبات منوائے، لیکن چند ایک پر بات نہ بن سکی، چنانچہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے تاجروں کو ہڑتال کا سہارا لینا پڑا۔ حکومت کو اچھی طرح یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہڑتال معیشت کے لئے اسی طرح قاتل کردار ادا کرتی ہے، جیسا کہ زہر انسانی جسم کے لئے۔ محتاط اندازہ ہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہونے سے ایک ہفتے میں ملک کو 500ملین ڈالر تک کا نقصان ہوسکتا ہے، جبکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کے گھروں میں جو فاقہ کشی ہوتی ہے، وہ الگ ہے۔ تاجر محب وطن ہیں، ٹیکس دینا اور ہڑتالیں نہیں کرنا چاہتے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ان کے مطالبات تسلیم کرے،جو ملک اور تاجر برادری دونوں کے مفاد میں ہیں۔

فکسڈ ٹیکس سکیم پر تاجر برادری حکومت کو تجاویز دے چکی ہے کہ یہ ملک بھر کے تمام تاجروں، بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے لئے نافذ العمل ہو گی۔ اس سکیم میں شمولیت کے لئے بجلی کے بل یا کورڈ ایریا کی کوئی حد نہیں ہوگی، تاجر اپنی سالانہ سیل،یعنی ٹرن اوور پر 0.1فیصد فکس ٹیکس ادا کرے گا یا اپنی سالانہ سیل پر طے شدہ سلیب کے مطابق فکس ٹیکس ادا کرے گا یا اپنے نفع و نقصان کے حساب سے اپنے خالص منافع پر ایف بی آر کے جاری کردہ سلیب ریٹس کے مطابق ٹیکس ادا کرے گا،جبکہ ایف بی آر انکم ٹیکس ریٹس کی شرح کو 35 فیصد سے کم کر کے 50فیصد تک لائے گا۔ مزید یہ کہ اردو میں ایک صفحے کا ٹیکس ریٹرن فام ہو گا، جس میں تاجر کا نام، پتہ، شناختی کارڈ نمبر، کاروبار کی نوعیت،ٹرن اوور سمیت کم سے کم معلومات ہوں گی تاکہ اس فارم کو کوئی بھی تاجر خود بآسانی پُر کر کے ٹیکس جمع کروا سکے۔ فکس ٹیکس سکیم میں شامل تاجر وِدہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنے گا۔ تاجر مال کی خریداری پر کسی سپلائر کو رقم کی ادائیگی کے وقت ساڑھے چار فیصد وِدہولڈنگ ٹیکس نہیں کاٹے گا نہ رقم جمع کروائے گا اور نہ ہی ششماہی بنیادوں پر وِدہولڈنگ ٹیکس کی ریٹرن جمع کروائے گا۔

فکس ٹیکس میں شامل تاجروں کی سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن نہیں ہو گی، سیلز ٹیکس صرف سورس، یعنی مینو فیکچرنگ اور امپورٹ کی سطح پر وصول کیا جائے گا۔ سکیم میں شامل تاجر نارمل ٹیکس آڈٹ سے مستثنیٰ ہو گا، اگر محکمے کے پاس کوئی ٹھوس شواہد ہوں تو اس کو مدنظر رکھ کر اس فرد کے سپیشل آڈٹ کے احکامات اسلام آباد ہیڈ آفس جاری کرے گا۔ سکیم میں شامل تاجر اُردو میں ایک صفحے پر مشتمل اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں جو بھی اثاثے ظاہر کرے گا،ایف بی آر اس پر سرچارج یا ویلتھ ٹیکس نہیں لگائے گا، سکیم میں شامل تاجر بارہ کروڑ روپے کے ورکنگ کیپیٹل کے ساتھ 15کروڑ روپے تک مالیت کے اثاثے ظاہر کر سکے گا۔اس سکیم کا حصہ بننے والے تاجر پر اپنے لین دین پر شناختی کارڈ نمبر درج کرنے کی شرط کا نفاذ نہیں ہو گا اور یہ کہ سکیم مستقل چلتی رہے گی۔ ایف بی آر اس سکیم کو نوٹیفکیشن کے ذریعے نہیں،بلکہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ کرے گا۔ میرے خیال میں ان میں سے کوئی ایک بھی مطالبہ ایسا نہیں، جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو نقصان پہنچے۔ حکومت کو یہ تمام مطالبات فوراً تسلیم کر لینے چاہئیں، جس سے اعتماد سازی ہو گی اور نتیجہ ریونیو میں اضافے و ٹیکس نیٹ میں وسعت کی صورت میں دیکھنے کو ملے گا۔

مزید :

رائے -کالم -