اہلِ کشمیر پر عالمی طاقتوں کی غفلت

اہلِ کشمیر پر عالمی طاقتوں کی غفلت

  

مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک کروڑ لوگ، 5اگست 2019ء سے 9لاکھ مسلح بھارتی افواج کے زیر عتاب، وہاں نافذ غیر آئینی،غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو اور نقل و حرکت کی پابندیوں میں محبوس اور محصور رہنے کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات وہاں سے بیرونی دنیا میں جانے کے طریقے اور راستے منقطع کرنے سے قریبی علاقوں، مثلاً پاکستان میں بھی ان کی صحت اور خیر و عافیت کی خبریں آنے اور پہنچنے پر عملی طور پر فولادی اندازکی پردہ داری مسلط چلی آ رہی ہے۔ جب تک وہاں کے افراد کو جسمانی اور ذہنی آزادی کے ساتھ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولتیں فراہم نہیں کی جائیں گی، وہ بے بس حضرات و خواتین بھلا کیسے، اپنے مسائل و مصائب کے حالات، مقامی دوستوں، عزیز و اقارب اور دیگر احباب کو بتا سکتے ہیں۔ وہاں ہزاروں نوجوان گرفتار ہیں،خواتین کی بے حرمتی معمول کے واقعات ہیں۔یہ پابندیاں بلاشبہ کسی مہذب انسانی ملک اورمعاشرے کے لئے افسوسناک،المناک اور پریشان کن ہیں۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارے کے 1945ء سے رائج چارٹر کے تحت سلامتی کونسل کے مقتدر ذیلی ادارے کی باضابطہ منظوری سے ان لوگوں کو بھارت کے طویل المیعاد اس وقت کے وزیراعظم، پنڈت جواہر لال نہرو کی خواہش اور درخواست پر، کسی طرح کے دباؤ اور اثر و رسوخ کے بغیر، حقِ خود ارادیت کے استعمال کا آزادانہ اور منصفانہ موقع دینے کا فیصلہ ہوا۔ کئی بارکی قراردادیں، برائے عمل درآمد، موجودہ بڑی طاقتوں کے متعلقہ حکام کی رضامندی کی منتظر ہیں۔ نیز ساری مہذب دنیا اپنی آنکھوں اور واضح اطلاعات سے پوری طرح آگاہ و باخبر ہے۔

بڑی طاقتوں کے حکمران، مثلاً امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، فرانس کے صدر میکرون، روس کے صدر اور وزیراعظم اور جرمنی کی چانسلر، ماشاء اللہ 5 اگست 2019ء سے جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند اور بقائمی ہوش و حواس، خوش و خرم اور زندہ سلامت ہیں، لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور گزشتہ 72سال کے واقعات کی سنگین نوعیت کی لرزہ خیز سفاکانہ وارداتوں پر ان کی زبانیں گنگ، آنکھیں اور کان عملاً بند اور مفلوج معلوم ہوتے ہیں، کیونکہ مذکورہ بالا عالمی رہنما تو اپنے ممالک اور اتحادی قوتوں کے افراد پر دنیا میں کہیں بھی انسانی حقوق کی قلیل انداز میں خلاف ورزی اور چوٹ و گرفت پر ببانگ دہل، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ذمہ دار لوگوں اور اداروں کے خلاف بلاتاخیر سخت قانونی کارروائی کرنے کے مطالبات کا، طوفان برپا کردیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے بانی 51ممالک کے بڑے بااثر حکمران اور موجودہ دفاعی، معاشی اور سیاسی لحاظ سے مستحکم ممالک بھی تاحال مذکورہ بالا مغربی حکمران ہی ہیں۔اس عالمی ادارے کی سلامتی کونسل کا چارٹر بھی ان کی سرپرستی،رہنمائی اور ہدایات کی روشنی میں ہی مرتب کیا گیا تھا۔ آج کل، بلکہ گزشتہ 72سال سے مقبوضہ کشمیر میں یو این منشور کی کھلے عام خلاف ورزی، توہین اور تضحیک، بھارتی حکمرانوں کی غیر انسانی کارروائیوں کی وجہ سے مسلسل دیکھنے اور سننے میں آ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اہلِ کشمیر کو حق خودارادیت دینے میں بڑی طاقتوں کے حکمران، تاحال رضامند،تیار اور حامی کیوں نہیں ہیں؟ حالانکہ یہ ذمہ داری ان کی قانونی، بین الاقوامی حقوق کی انجام دہی میں شامل ہے۔

کیا اہلِ کشمیر، دیگر عالمی سطح اور درجہ کے مطابق برابر کے انسان نہیں ہیں؟ کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں تمام انسانوں کو بلا امتیاز، مذہب، علاقہ، خطہء ارض، رنگ و نسل اور سیاسی نظریات برابر انداز سے،برتاؤ کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ اور بلا تاخیر اور بغیر رکاوٹ، فراہمی کی تاکید پر زور دیا گیا ہے، لیکن عملی طور پر بعض مقامات پر،متعدد بار ایسے واقعات آج کل بھی مشاہدے میں آ رہے ہیں، جن میں مسلمانوں اور بعض دیگر اقلیتوں کو بلاجواز، ظلم و جبر کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا غیر منصفانہ اور عدم مساوات کا طرزِ عمل، انسانی اقدار و روایات سے واضح پہلوتہی اور دانستہ غلط کاری کا آئینہ دار ہے۔ بڑی طاقتوں کے رہنماؤں کی اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی موجودگی اور ان کی عملداری کے عرصے کے دوران، ان کے مطابق منصفانہ کارکردگی کے اقدامات سے چشم پوشی اور عدم توجہی، سراسر ظالمانہ، سفاکانہ اور جاہلانہ رجحانات ہیں۔ یہ خاموشی، بے حسی اور دانستہ بے عملی، ان کے مہذب، شائستہ، قانون پسند اور انسان دوست ہونے کے مخالف ہونے کے واضح اشارے اور طور طریقے ہیں جو موجودہ دور میں بھی جاری رکھنے پر مہذب دنیا، کسی طور بھی ان کے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کو تسلیم اور حمایت نہیں کر سکتی۔ اس طرح بڑی طاقتوں کی حکمرانی،شہرت اور عزت، دہرے معیار کی بناء پر تباہ و برباد ہو رہی ہے۔ اس کے ازالے کے لئے انہیں اہلِ کشمیر کو جلد آزادی دلانا ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -