معاملہ سلجھ گیا؟

معاملہ سلجھ گیا؟
معاملہ سلجھ گیا؟

  

موجودہ حکومت نے بھی ایسے ایسے گُل کھلائے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل نہ کبھی سنے اور نہ کبھی دیکھے، وزیراعظم عمران خان نے ایک عالمی کپ جیت لیا اور عوام ان کے شیدا ہو گئے، لیکن بیس برس تک ان کی سیاسی جماعت کو عوامی تائید حاصل نہ ہو سکی۔ 2013ء کے انتخابات کے لئے چلائی گئی مہم میں تحریک انصاف نے ایسے ایسے عوامی اجتماعات کئے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں گھبرا گئیں۔ یہاں تک کہ نفرت کی سیاست پر پلنے والی جماعت ایم کیو ایم بھی کراچی میں اسے اپنا مد مقابل سمجھنے لگی، لیکن نتائج کچھ اور انداز لئے سامنے آئے اور میاں نوازشریف بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے، البتہ صوبہ سرحد میں تحریک انصاف حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی،جبکہ پیپلزپارٹی سندھ میں اکثریتی جماعت بنی۔

مسلم لیگ (ن) کے دانشور تحریک انصاف پر ”غیبی“ امداد کا الزام عائد کرتے رہے، ……حالانکہ جیت مسلم لیگ(ن) کے حصے میں آئی اس کے باوجود مسلم لیگ(ن) کے دانشور اپنی بات پر قائم رہے۔ اس کے بعد 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی ایک معمولی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی وہی کیاجو دیگر سیاسی جماعتیں کرتی رہیں، یعنی سیاسی جماعت کی حکومت قائم کرنے کی بجائے فردی حکومت قائم کرنے کی کوشش میں لگے رہے اور ملک میں کسی بنیادی معاشی،تعلیمی، زراعتی اور صحت پالیسی کے نفاذ کی بجائے حزب مخالف کی کمر توڑنے پر توجہ دی۔ حزب اختلاف کے اہم قائدین میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اس وقت قید میں نہ ہو یا جس پر مقدمات نہ چل رہے ہوں۔ نوازشریف، آصف علی زرداری، شہبازشریف، حمزہ شہباز، خواجہ برادران، شاہد خاقان عباسی، خورشید شاہ، رانا ثناء اللہ سبھی قید و بند اور مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ ایسے نام گنوائے جائیں تو ختم نہیں ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی ہر تقریر حزب اختلاف کے رہنماؤں کی کردار کشی کے لئے ہوتی ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مسئلے کو خود حکومت نے ایک تماشا بنا دیا۔ معاملہ تو وزارتِ قانون نے خراب کیا، جس کے سربراہ وہ صاحب ہیں جو کبھی الطاف حسین کو نیلسن منڈیلا کا ہم پلا قرار دیتے تھے اور عمران خان وہ پہلے سیاسی لیڈر تھے، جنہوں نے الطاف حسین کو نہ صرف بھرپور الفاظ میں چیلنج کیا، بلکہ بھارت میں ہونے والی ایک کانفرنس کے حوالے سے بتایا کہ کانفرنس کی انتظامیہ نے الطاف حسین کی موجودگی کے بارے میں استفسار پر کہا کہ الطاف حسین ”را“ کے مہمان ہیں۔ اس الطاف حسین کو نیلسن منڈیلا کہنے والے آج عمران خان کی حکومت میں وزارتِ قانون جیسے اہم عہدے پر فائز ہیں اور ایک بحران کا باعث بنے۔

صرف فروغ نسیم ہی نہیں، ایک اور قانونی افلاطون بھی ہیں جو آصف علی زرداری سے ہوتے ہوئے عمران خان تک پہنچے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ چھ ماہ تو سپریم کورٹ نے دیئے ہیں، تین سال کی مدت تو دراصل ان چھ ماہ کے بعد شروع ہو گی، پھر 2023ء میں انتخابات بھی ہونے ہیں، یعنی موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کی نگرانی میں ہی اگلے انتخابات ہوں گے۔ اس قسم کی قیاس آرائیوں کے نتیجے میں عمران خان کو کس قدر نقصان ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔وزیراعظم اپنی ہٹ کے پکے ہیں اور کسی طرف سے کوئی ایک مشورہ بھی قبول کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ اس امر کے باوجود کہ شایدمسلم لیگ (ن) قانون سازی میں کوئی مشکل پیدا نہیں کرے گی۔

اس حوالے سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے نئے چیئرمین رانا تنویر نے مصالحانہ بیان بھی جاری کر دیا ہے۔گزشتہ روز شاہ محمود قریشی نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر جو ملاقات کی ہے، اس سے یہ بھی عیاں ہو چکا ہے۔ حکومت نے قانون سازی کے حوالے سے مشاورت اور راستہ صاف کرنا شروع کر دیا ہے کہ اگر کہیں کوئی Bottle Neckہے تو اسے ختم کیا جا سکے۔ابھی پیپلزپارٹی سے رابطہ نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے اگر حزب اختلاف کے بارے میں یہی رویہ اختیار کئے رکھا تو پیپلزپارٹی پارلیمنٹ میں تعاون نہیں کرے گی۔ آصف علی زرداری کو ان کے ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔پارلیمنٹ میں پیپلزپارٹی کے سابق قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کئی ماہ سے نیب کی تحویل میں ہیں۔

آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور پر مقدمہ ہے اور عمران خان ہر روز بلاوجہ ان کے خلاف بیان جاری کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت بوجوہ پارلیمنٹ میں تعاون کے لئے تیار ہو سکتی ہے، لیکن رانا تنویر کے بیان کو حتمی بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ حکومت ہر مشکل اور بحرانی کیفیت کو حزب مخالف کے سر ڈالنے پر مصر ہے۔ میاں نوازشریف کا ملک سے باہر جانا اور آصف علی زرداری کے ڈاکٹر تک کو ملاقات سے محروم رکھنا، سندھ میں اچھا پیغام نہیں دیتا۔ مجھے خوف ہے کہ آنے والے دنوں میں معاملات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ حکومتی نااہلی اپنی جگہ، لیکن سیاسی محرکات سے لاعلمی اور ان کے نتائج سے بے پرواہی کا رویہ مزید بحران پیدا کر سکتا ہے۔ گیند اب بنی گالا کی کورٹ میں ہے۔ دیکھنا ہے کہ اس بار گیند کو کیسے کھیلا جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -