تعلیمی بورڈ ملتان‘ بندویب سائٹ احتجاج کے بعد اوپن‘ انتظامیہ کاداخلہ فارم لینے سے انکار

      تعلیمی بورڈ ملتان‘ بندویب سائٹ احتجاج کے بعد اوپن‘ انتظامیہ کاداخلہ ...

  

ملتان(نیوز رپورٹر) چیئرمین تعلیمی بورڈ ملتان کی تعلیم کش پالیسیاں جاری، بند ویب سائٹ احتجاج کے بعد کھولنے کے بعد داخلہ فارم لینے سے انکار کر دیا، ہزاروں طلبہ و طالبات کامستقبل داؤ پر لگ گیا، پنجاب ٹیچرز یونین کے سینئر نائب صدر پنجاب رانا الطاف حسین نے کہا ہے کہ چیئرمین تعلیمی بورڈ ملتان نے تعلیم دوستی کی بجائے تعلیم کش پالیسیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں پہلے ویب سائٹ بند کی تو پنجاب ٹیچرز یونین کے احتجاج پر(بقیہ نمبر28صفحہ12پر)

ویب سائٹ آن کردی اب داخلہ فارم لینے سے انکار کر دیاہے اگر حکومت پنجاب داخلہ فارم کی تاریخ میں مزید اضافہ نہ کرتی تو ہزاروں طلبہ داخلہ سے محروم رہ جاتے جب حکومت میرٹ سے ہٹ کر تقرریاں کرے گی تو پھر اس طرح کی صورتحال پیدا ہو تی رہے گی اور مسائل جنم لیتے رہیں گے اب جو طلبہ 2010/11/12میں میٹرک کرکے چلے گئے ہیں ان کی سابقہ فیسیں تعلیمی اداروں کے ہیڈ ماسٹر، پرنسپلز کہاں سے ادا کریں جو کہ پہلے ہی واپڈا کی جانب سے اوور بلوں کی وجہ سے شدید بے چینی کا شکار ہیں جبکہ چیئرمین تعلیمی بورڈ کی جانب سے داخلہ فارم لینے سے انکار سے پنجاب حکومت کے پڑھو پنجاب، بڑھو پنجاب کا سلوگن ناکام کرنے کے مترادف ہے اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اگر چیئرمین تعلیمی بورڈ ملتان نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو پنجاب ٹیچرز یونین تمام ڈویژن کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ مل کر احتجاج پر مجبور ہو جائے گی۔ دریں اثناء تعلیمی بورڈ ملتان نے ایک بار پھر 250پرائیویٹ سکولز کے طلباو طالبات کے میٹرک امتحانات2020کیلئے داخلے بند کر دئیے۔ پہلے کوڈ بلاک کئے تھے‘ اب داخلہ فارمز کی وصولی بند کر دی‘ صورتحال گھمبیر ہوگئی۔ متاثرہ طلباوطالبات اور سکولز مالکان کا شدید احتجاج‘ عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ساؤتھ پنجاب پرائیویٹ سکولز گرینڈ الائنس اور فیڈریشن آف رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولز پنجاب کا مشترکہ اجلاس زیر صدارت چیئرمین فرید خان بنگش منعقد ہوا جس سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈ ملتان نے ایک بار پھر تعلیم وطلبہ دشمن اقدام کیا ہے اور میٹرک امتحانات 2010کے لئے پرائیویٹ سکولز کے طلبا وطالبات کے داخلہ فارمز وصول نہیں کئے جا رہے ہیں۔حالانکہ اس سے قبل چیئرپرسن تعلیمی بورڈ ملتان کے حکام کے ساتھ میٹنگ میں معاملات طے پا گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2010‘2011‘2012میں میٹرک امتحانات کے دوران سندفیس لاگو نہیں تھی۔2012کے امتحانات کے بعد سند فیس لاگو کر دی گئی اور آج تک پوچھا نہیں گیا۔ اب9سال بعد تعلیمی بورڈ حکام کو اچانک خیال آگیا ہے کہ طلبہ سے سند فیس بھی وصول کرنی ہے۔پہلے 250پرائیویٹ سکولز کے کوڈ بلاک کر دئیے گئے۔ پرائیویٹ سکولز مالکان اور طلباو طالبات کے احتجاج اور معاملہ میڈیامیں آنے پر کوڈڈی لاک کر دئیے گئے مگر اب پھر داخلہ فارمز کی وصولی بند کر دی گئی ہے۔ اس صورتحال سے لاکھوں متاثرہ طلبا وطالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ہم سوال کرتے ہیں کہ تمام صورتحال کے ذمہ دار تعلیمی بورڈ حکام ہیں کیونکہ 2010‘2011‘2012میں ہونے والے میٹرک امتحانات میں سند فیس نہیں تھی‘ اس کے بعد سند فیس لاگو کر دی گئی‘ مذکورہ طلبا وطالبات کی اسنا د لیٹ کی گئیں وگرنہ وہ اسناد وصول کرلیتے‘ اس کے علاوہ وہ طلبا وطالبات تعلیمی بورڈ کے کلائنٹ تھے‘ ان کی ذمہ داری پرائیویٹ سکولز پر ڈالنا اب ظلم ہے‘مزید براں یہ کہ ہم 9سال قبل کے میٹرک کے طلبا وطالبات کو اب کہاں سے ڈھونڈیں‘ اسکے علاوہ موجودہ لاکھوں طلبا وطالبات کا مستقبل کیوں داؤ پر لگا دیا گیا ہے‘ ان کا کیا قصور کیا ہے اور ان کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے‘ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے دادا کی سزا پوتے کودینا۔یہ تمام صورتحال گھمبیر صورتحال کو جنم دے رہی ہے اور یہ صورتحال صرف ملتان تعلیمی بورڈ میں ہے‘ اس کے علاوہ صوبے کے دیگر تعلیمی بورڈز میں ایسا نہیں ہے‘ہم متنبہ کرتے ہیں کہ اگر تعلیمی بورڈ ملتان کے حکام نے اب میٹرک کے طلبا وطالبات کے داخلہ فارم وصول نہ کئے اور ناجائز تنگ کرنا بند نہ کیا تو پھر شدید احتجاج کیاجائے گا اور عدلیہ سے بھی رجوع کیاجائے گا۔

فیسیں /داخلہ

اوپن

مزید :

ملتان صفحہ آخر -