5دسمبر،رضا کاروں کا عالمی دن

5دسمبر،رضا کاروں کا عالمی دن

  

خدمت انسانی کا درد رکھنے والاہر وہ انسان جو بلامعاوضہ بغیر کسی لالچ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی خدمات پیش کرتا ہے وہ رضا کار یا والنٹیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ رضا کاروں کے اس بے لوث جذبے کو سلام جس کی بدولت وہ معاشرے میں بہتری کے لئے کوشاں ہیں۔ 5دسمبر دنیا بھر میں ان والینٹر ز/رضاکاروں کوخراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ اس دن کے منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ رضا کار انہ خدمات کے جذ بے کو فروغ دیا جائے۔

پنجاب ایمر جنسی سروس ریسکیو 1122نے حادثات و سانحات میں 76لاکھ سے زائدمتاثرین کو بروقت ریسکیو سروسز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب ایمر جنسی ایکٹ 2006کے تحت پنجاب کی تمام یونین کو نسلز میں کمیو نٹی ایمر جنسی رسپانس ٹیمیں قائم کیں۔ ڈائریکٹر جنرل ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے جب یہ عوام دوست کام شروع کرنے کے احکامات جاری کیے تو یقیناً یہ آسان نہ تھاکیو نکہ آج کل کے دورمیں تنخواہ داروں سے کام لینا بھی ایک خاصا مشکل کام سمجھا جاتا ہے۔ ان حالات میں کسی سے بلا معاوضہ کام لینا اور ایک مثبت سمت پر تمام کوششوں کو اکٹھا کرنا واقعتا ایک بہت بڑا چیلنج تھا لیکن جب نیت صاف،جذ بہ صادق، محنت مسلسل اور صحیح سمت پر ہو تو پھر اس کام میں کامیابی حاصل کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ زیادہ دیر ٹھہرنہیں سکتی ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کو اللہ رب العزت نے احساس ہمدردی سے اس قدر آشنا کیا ہوا ہے کہ وہ مدد کرنے کو اولین ترجیح سمجھتا ہے۔

ریسکیو سروس نے اس جذبے کو یکجا کر کے معاشرے کی بہتری کا بیڑا کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں (CERTs) کے ذریعے شروع کیا۔ اس کو منظم بنانے کے لئے یونین کونسلز کی سطح پر ٹیمیں تشکیل دیں گئیں اور ہر ٹیم میں کم از کم 12 رضاکار (ریسکیو سکاؤٹس) شامل ہیں۔ ان کمیونٹی ٹیموں کا انتحاب قابلیت واہلیت کے معیار کو دیکھتے ہوئے کیا گیا اور اسکے بعدان کو خصوصی طور پرکمیونٹی ایکشن فار ڈزاسٹر رسپانس(CADRE)پر تربیت دی گئی۔کمیونٹی ایکشن فار ڈزاسٹر رسپانس(CADRE) ایک بین الاقوامی کورس ہے جس کا مقصد مقامی سطح پر کمیونٹی کو حادثات میں بہتر طریقے سے ریسپانس کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس خصوصی تربیت کے بعد والنٹیرز ٹیموں کو ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ مل کر سیفٹی آگاہی، تربیت اور سروے جیسے کام دیے جاتے ہیں۔ ان تمام کاموں کا مقصد ریسکیو سکاؤٹس کو اپنی یونین کونسلز کے بارے میں خطرات کی نشاندہی کرنے اور ان کے تدراک کیلئے عملی کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

کمیو نٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کی تشکیل کے سلسلے میں سب سے پہلے ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں تمام اضلاع سے ریسکیو افسران کو اس بارے تربیت دی گئی اور ان کو اپنے اضلاع میں اس کورس کے مزیدٹرینرزکی دستیابی کا کام سونپا گیا اور ان تمام ٹرینرز نے مل کر کمیونٹی کی ٹیموں کو اس کورس پر انٹر نیشنل گائیڈ لائینز کے مطابق تربیت دی لیکن یہ کام یہاں ختم نہیں ہوا، بلکہ ٹیمیں اس تربیت کے بعد ریسکیو سروس کے مختلف کاموں میں معاونت کرتی رہتی ہیں اور پھر ضلعی سطح پرتمام یونین کونسل کی ٹیموں کے مابین حادثات وسانحات سے نبردآزما ہونے کی مہارتوں کا باقاعدہ مقابلہ کروایا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے، کہیں یونین کونسل کی ٹیم کی کارکردگی زیادہ بہتر ہے۔ ضلعی مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم نے اپنے ضلع کی نمائندگی کرتے ہوئے نیشنل کمیونٹی ایمر جنسی رسپانس ٹیم چیلنج 2019ء میں حصہ لیا۔ اس طرح اس چیلنج میں ملک بھر سے 39ٹیمیں شامل ہوئیں۔ نیشنل چیلنج کا انعقاد ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں 2سے 4دسمبرکے دوران کیا گیاجہاں افسران پر مشتمل ٹیم نے رضاکاروں کی مہارتوں کا جائزہ لیا او راس میں سے بہترین ٹیم کا انتخاب کیا اورآج رضاکاروں کے عالمی دن کے موقع پر ان بہترین ٹیموں کوتعریفی اسناد اور ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔

ریسکیو 1122 رضاکاروں کیلئے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مقامی سطح اور سرکار کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرکے علاقے کی بہتری کیلئے کام کرسکتے ہیں کیونکہ رضاکار اپنے علاقے کے وہ مسائل جو علاقائی سطح پر حل کیے جا سکتے ہیں اس میں بھی ریسکیو کے نمائندے کے طور پر موثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور وہ مسائل جو حادثات کا سبب بنتے ہیں اور ان کا حل سرکار کے جس ادارے سے متعلق ہے ان کو ضلعی ایمرجنسی افسران کے ذریعے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈز میں زیر بحث لا کر حل بھی کروا سکتے ہیں کیونکہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈز کے چئیرمین ڈپٹی کمشنرز ہوتے ہیں۔ اس طرح رضاکاروں کو جو شناخت اور اپنے علاقے کے لئے مثبت اور موثر کردار ادا کرنے کا پلیٹ فارم ریسکیو سروس نے فراہم کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے علاوہ تمام ریسکیو اسٹیشنزکو کمیونٹی ریسکیو اسٹیشنز کا درجہ دیا گیا ہے تاکہ رضاکار ان اسٹیشنز پر تربیت کیساتھ ساتھ رضاکارانہ سر گرمیوں کا انعقاد بھی کر سکیں۔ رضاکاروں کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی بھی ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے نتائج دور رس اور آنے والی نسلوں کے لیے بہترین ہو سکتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ بے لوث ریسکیو سکاؤٹس کی طرح دوسرے اداروں کے رضاکاربھی حادثات و سانحات میں اپنے جذبات کااظہار عملی طور پر کرتے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک کام کے لئے مختلف تربیتی مواد استعمال ہوتاہے جس کو ایک جیسا ہونا چاہئے تاکہ جذبہ حب الوطنی کے ساتھ ساتھ سانحات میں رسپانس کرنے کی مہارت اور سیفٹی کلچر کو فروغ دینے کے لیے اقدامات بھی ایک طرح سے کئے جائیں اور اجتماعی کوششوں سے معاشرے میں تبدیلی نظر آئے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ریسکیو سروس نے کمیونٹی سیفٹی ٹریننگ کا کتا بچہ ماہرین کی مشاورت سے تیار کیا ہے جس کو محکمہ داخلہ حکومت پنجاب میں جمع کروایا گیا ہے تاکہ اس کو متعلقہ اداروں کی نظر ثانی کے بعد متعلقہ اداروں کا حصہ بنایا جائے اور کالجز میں نیشنل کیڈٹ کورس(NCC) کی طرز پر اس پروگرام کو شروع کیا جائے تاکہ طلباو طالبات سیفٹی کو ایک مضمون کے طور پر پڑھیں اور اس کا امتحان بھی پاس کریں، بلاشبہ یہ ایک ایسا اقدام ہو گا جس سے مقامی سطح پر سیفٹی کلچر کو فروغ دیتے ہوئے محفوظ معاشرہ قائم کیا جا سکے گا۔

والنٹیرکا جذبہ قابل ستائش ہے اور خاص طور پر یہ بہت ہی اہم ہو جاتا ہے جب کسی بھی شعبے کا ماہر ڈاکٹر، وکیل، نرس، استاد والنٹیر بن کر اپنے علاقے میں اس کام کو رہبر کے طور پر کریں کیونکہ ان کا تجربہ انکی کمیونٹی میں ترقی کا یقینی ضامن ہے۔ ریسکیو سروس نے بھی جب یہ کام شروع کیا تو VSO پاکستان کے ماہرین کے ساتھ مل کر والنٹیرفارم کو ڈیزائن کیا اور والنٹیرز کی بھرتی کے طریقہ کار کو وضع کیا۔ جس سے والنٹیر کو بہتر طریقے سے سلیکٹ کیا جا سکتاہے بعد میں بھی اس معاونت کو جاری وساری رکھا گیا اور پچھلے والنٹیرز بھی اس وقت پھولے نہیں سما رہے تھے جب vsoپاکستان نے پوزیشن حاصل کرنے والی 5ٹیموں کو ایمرجنسی رسپانس کٹس گفٹ کے طور پر دیں۔اس طرح آ ج کل گرل گائیڈز اور بوائے سکاؤٹس کو بھی گورنر پنجاب چودھری سرور صاحب اور بیگم پروین سرور کی زیر سر پرستی دوبارہ جدید ٹریننگ دے کر کمیونٹی کے لیے فعا ل بنا یا جا رہا ہے۔ پاکستان ریڈ کریسینٹ کے والنٹیرز بھی مختلف پروجیکٹ پر کا م کرتے دکھا ئی دیتے ہیں۔ ان تمام والنٹیرز کی آرگنائزیشن کو ایک چتھری کے نیچے کمیونٹی کی بہتری کے لیے طے کیے جانے والے مشترکہ اہداف پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ والنٹیرزکے کام اوراس کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لے کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

میں بحثیت سربراہ شعبہ کمیونٹی سیفٹی و انفارمیشن ریسکیو پنجاب آج تما م اداروں کے والنٹیرز اور ان کے رضاکارانہ کام کوسلام پیش کرتی ہوں اور ریسکیو مینجمنٹ کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے کمیونٹی سیفٹی پروگرام کو چلانے کے لئے میری صلاحیتوں پر بھروسہ کیا ریسکیو ہیڈ کوارٹر اور اکیڈمی اور ڈسٹرکٹ کے تمام افسران، ٹیمز کی سپورٹ کا شکریہ اور مبارک باد جن کی اجتماعی کاوشوں سے آج پنجاب کی تمام یونین کونسلز میں کمیونٹی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہیں اور دس لاکھ لوگوں کو سیفٹی فروغ دینے کی آگاہی دی گئی۔ آج کے خا ص دن کے موقع پر میں نیشنل چیلنج میں حصہ لینے والی 39ٹیمز کو مبارکباد دیتی ہوں جن میں کی ریسکیو کی ٹیمز سیالکوٹ وارڈن،یونیورسٹی آف لاہور اور آ غا خان ا یجنسی فار ہیومنٹرین کی ٹیمز شامل ہیں۔خاص کر کے جیتنے والی فرسٹ،سیکنڈاور تھرڈ ٹیم کے ضلع افسران،ریسکیو سیفٹی افسران اور ان کی ٹیمز کو بہت بہت مبارکباد لیکن باقی ٹیمز نے بھی اپنا حوصلہ چھوٹا نہیں کرنا آپ بہت باکمال ہیں اور آپ کی خدمات قابل تعریف ہیں آپ نے زبردست مقابلہ کیامزید محنت اور خدمت کا سفر جاری رکھیں کیو نکہ والینٹر زکی خدمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ یہ کام اللہ کے لیے کیا جاتا ہے اور اس کی راہ میں کیا جانے کام والا کبھی ضائع نہیں جاتا۔ یہ کام فی سبیل اللہ ہی ہے جس کی وجہ سے آپ کو اتنے بڑے ادارے میں اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرنے کا موقع ملا۔ آپ کے با ہمی ربط میں اضافہ ہوا میں آپ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ خدمت انسانیت کا سفر پوری لگن سے جاری رکھتے ہوئے اپنے وطن عزیز کو سر سبزو صاف، صحت مند اور محفوظ بنائیں۔(والینٹر ز کو سلام)

مزید :

رائے -کالم -