بابری مسجد بھارتی عدالتوں کی بھینٹ چڑھ گئی

بابری مسجد بھارتی عدالتوں کی بھینٹ چڑھ گئی
بابری مسجد بھارتی عدالتوں کی بھینٹ چڑھ گئی

  

بھارتی مسلمانوں نے ہندوؤں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر بھارتی سپریم کورٹ میں بابری مسجد کا کیس دائر کیا اور سپریم کورٹ نے اس ماہ فیصلہ سنانے کا وعدہ بھی کیا۔ لیکن بھارتی سپریم کورٹ نے تعصب پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کے حوالے کر دی جبکہ مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ زمین فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

مسلمانوں کیلئے یہ فیصلہ کوئی انوکھا یا چونکا دینے والا نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ چاہے بھارت کی کوئی ماتحت عدالت ہو یا سپریم کورٹ،خاص طورپر مسلمانوں کے معاملے میں فیصلہ ہمیشہ ہندو کے حق میں ہی آئے گا۔ بھارت عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے بابری مسجد کی زمین سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا یا 5رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل تھے۔ فیصلے کے ابتدائی حصے میں عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کے مقام پر نرموہی اکھاڑے اور شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ مسترد کردیا۔

چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے۔ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی جبکہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں۔ تاریخی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر خالی زمین پر نہیں کی گئی تھی۔ مسلمان مسجد کے اندرونی مقام پر عبادت کرتے تھے جبکہ ہندو مسجد کے باہر کے مقام پر اپنی عبادت کرتے تھے۔1949ء میں بابری مسجد گرانا بت رکھنا غیر قانونی ہے۔مسلمانوں کے بابری مسجد اندرونی حصوں میں نماز پڑھنے کے شواہد ملے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہندوؤں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ دیوتا رام کا جنم بابری مسجد کے مقام پر ہوا تھا غیر متنازع ہے جبکہ مذکورہ زمین کی تقسیم قانونی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب پر بات کرے۔ عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل میں کہا کہ فیصلے سے ایک بار پھر انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوا۔ بھارتی سپریم کورٹ بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی۔ فیصلے سے بھارت کے نام نہاد سیکولر ازم کا چہرہ بے نقاب ہوا۔ فیصلے سے ظاہر ہوا ہے بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں۔ بھارت میں اقلیتوں کو اپنے عقائد اور عبادت گاہوں پر تشویش ہو گئی۔ بھارت میں ہندوتوا نظریہ دیگر اداروں کو متاثر کر رہا ہے اور ہندو انتہا پسندانہ سوچ خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے۔

کیا سپریم کورٹ نے بابری مسجد بارے ناقابل تردید حقیقتوں کو بھی نہیں دیکھا یا جان بوجھ کر ان کو جھٹلایا۔ کیا کسی نے عدالت کو نہیں بتایا کہ یہاں کئی صدیوں تک اذان کی صدائیں بلند ہوتی رہیں اور یہاں باقاعدہ نماز ادا کی جاتی رہی۔ مسلمان مغلوں کا دور گزرا، انگریز حکمران ہوئے، اس کے بعد بھارت ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا مگر ان سب کے باوجود بابری مسجد کے مینار کھڑے رہے کسی کو اس پر قبضہ کرنے یا اسے مسمار کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔ گاندھی جی اور پنڈت نہرو کے زیرقیادت سیکولر بھارت اپنے تمام شہریوں سے یکساں سلوک روا رکھنے کا دعوے دار تھا۔کیا سپریم کورٹ بھول گئی کہ بھارت کے آئین میں مذہب، رنگ اور نسل سے اوپر اٹھ کر تمام بھارتیوں کو یکساں تحفظ حمایت دی گئی تھی۔ ان کے بنیادی حقوق یکساں تھے، ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت سرکار کی اولین ذمہ داری تھی، لیکن ہندتوا کے نعرے لگانے اور بھارت کو ہندوانے کے جنون میں مبتلا عناصر گزشتہ تین عشروں سے سیکولر اقدار کو زمین بوس کرنے کے لئے شدت سے سرگرم ہیں۔

یہاں بھارتی سپریم کورٹ کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ بابری مسجد کا انہدام محض ایک عمارت کا انہدام نہیں تھا۔ یہ بھارت کے سیکولر ازم، جمہوریت اور انسانی برابری کے تصورات کا انہدام تھا۔ بابری مسجد کا خون مختلف دروازے کھٹکھٹاتا،بالآخر سپریم کورٹ پہنچا تو وہاں سے وہ فیصلہ صادر ہوا خود بھارت کے سیکولر حلقے جس کا دفاع نہیں کر سکتے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے آئین میں درج آدرشوں کا تحفظ کرنے کے بجائے خود بھی انتہا پسندی کے سمندر میں چھلانگ لگا دی ہے۔ ایک جمہوری اور سیکولر ملک کے طور پر بھارت کا وجود مشکوک بنا دیا ہے۔

بابری مسجد کو 1528 میں مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے تعمیر کرایا تھا اور اسی نسبت سے اسے بابری مسجد کہا جاتا ہے تاہم 1949 میں ہندوؤں نے بابری مسجد سے مورتیاں برآمد ہونے کا دعویٰ کرکے اسے رام کی جنم بھومی قرار دے دیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ مختلف عدالتوں، کمیٹیوں اور کمیشن سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا تھا جس کے تین بنیادی فریق نرموہی اکھاڑا، رال للا اور سنی وقف بورڈ تھے۔ہندوؤں کا الزام ہے کہ مسلمانوں نے ظہیر الدین بابر کی بادشاہت کے زمانے میں رام کی پیدائش کے مقام پر مندر کو تباہ کرکے مسجد بنادی تھی۔اس واقعے کے بعد ہندو ستان میں ایک تنازعہ اٹھا اورواقعے عدالتی تحقیق کا کام الہ آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردیا گیا۔

بابری مسجد فیصلے کے بعد رام مندر کی تحریک ایک بار پھر جارحانہ رخ اختیار کر رہی ہے۔ ایودھیا میں سخت گیر وشو ہندو پریشد کے لاکھوں حامیوں کی متوقع آمد سے لوگوں کے ذہن میں اندیشہ پیدا ہونا فطری ہے۔ان کے ذہن میں دسمبر1992 کی یادیں بسی ہوئی ہیں۔ستائیس برس قبل ایودھیا میں اسی طرح لاکھوں کارسیوک (ہندو رضاکار) پورے ملک سے جمع ہوئے تھے۔ بے قابو کارسیوکوں نے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں بابری مسجد مسمار کر دی تھی۔ پورے ملک میں فسادات برپا ہوئے تھے جن میں ہزاروں لوگ مارے گئے تھے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تو سکھوں سمیت غیرمسلم اقلیتوں کی سہولت کیلئے کرتارپور راہداری کا افتتاح کرکے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم پیش رفت کی ہے مگر اسکے جواب میں بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ صادر کرکے آفاقی دین اسلام اور مسلم امہ کیخلاف ہنود و یہود و نصاریٰ کی گھناؤنی سازشوں کا پردہ مزید چاک کردیا ہے جو ہم سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے احیاء و فروغ کیلئے امت واحدہ کی حیثیت سے طاغوتی قوتوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بننے کا متقاضی ہے۔ بھارتی چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے الٰہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف بھارت کے سنی وقف بورڈ کی اپیل مسترد کرکے مسلم امہ کیخلاف جنونی ہندو کے متعصب کو مزید اجاگر کیا ہے۔ یہ فیصلہ حضرت محمد مصطفی ؐ کے یوم ولادت باسعادت سے ایک روز قبل صادر کیا گیا ہے جس کا مقصد سراسر شمع رسالت مآبؐ کے پروانوں کے جذبات مجروح کرنا اور ان میں اشتعال پیدا کرکے مسلمانوں پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -